انسانی خلیات کی نقل ہمیشہ سے سائنسدانوں کا خواب رہا ہے۔ اس سے قبل ماہرین تجربہ گاہ میں انسانی دماغی خلیات (سیلز) کی نقل بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان میں ٹھوس مادوں مثلاً سلیکن اور دیگر اجزا شامل ہیں۔ تاہم اب صرف نمک اور پانی کی مدد سے انسانی دماغی خلیے کا ایک حصہ بنایا گیا ہے جو ہمارے دماغ میں موجود ان گنت سائنائپسس کی نقل کرتا ہے۔
واضح رہے کہ ایک دماغی سیل دوسرے سیل سے ہزاروں روابط رکھتا ہے جنہیں سائنائپسس کہا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے پانی اور نمک جیسے سادہ اجزا سے ایک بنیادی سائنائپسس تیار کیا ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ درست کام کررہا ہے۔
ہالینڈ کی جامعہ یوٹریخٹ اور جنوبی کوریا کی سوگینگ یونیورسٹی نے نمک اور پانی کے آمیزے سے بنے ایک مصنوعی خلیے میں آئن ( چارج شدہ) ذرہ حقیقی اور اصلی دماغی خلیے میں داخل کیا ہے۔ اس ایجاد کو آئن ٹرونک میمرسٹر کانام دیا گیا ہے۔ اسے آئنٹرونک نیورومورفک کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس آلہ کو تیار کیا ہے۔
پانی اور نمک سے بنے اس خلیے کی موٹائی 150 سے 200 مائیکرومیٹر ہے جبکہ انسانی بال کی موٹائی مشکل سے 100 مائیکرومیٹر ہوتی ہے۔ اس کی شکل ایک کون جیسی ہے جس میں نمک اور پانی بھرا ہے۔ اب اس میں ہلکے برقی جھماکے پیدا کئے گئے جو عین میموری سگنل کی طرح اصل انسانی خلیات تک منتقل ہونے لگے۔
لیکن اس کا فائدہ کیا ہے؟
اول ہم انسانی دماغی افعال کو بہتر سمجھ سکیں گے اور دوم عین انسانی دماغ کی طرح کام کرنے والے کمپیوٹر کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ دیگر ماہرین نے اسے ایک غیرمعمولی سائنسی کاوش قرار دیا ہے۔ اس سے نہ صرف ہم دماغی رابطوں (کمیونکیشن) کی نقل کرسکیں گے بلکہ اسی طرز پر بالکل نئی قسم کے ایسے کمپیوٹر بھی بن سکیں گے جن کی کارکردگی اور رفتار کا اب بھی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن واضح رہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی درجے میں ہے اور ایسے کمپیوٹروں کی منزل ابھی دور ہے۔ لیکن معمولی سائنسی تحقیق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ رائٹ برادران کا پہلا طیارہ صرف اتنے ہی فاصلے تک اڑا تھا جتنا آج کے بوئنگ 747 طیارے کے بازووں کا گھیر ہے۔




















