عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پرعدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر اس کیس کو چلانا چاہتے ہیں تو آپ کوعمران خان کو بھی فریق بناناپڑے گا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن سےعمران خان کی نا اہلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نےسماعت کی۔ درخواست گزار جابرعلی کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ دلائل دیے۔
عدالت نے کہا کہ متاثرہ فریق عمران خان نے نااہلی کے معاملے کو خود چیلنج کردیا۔ جب متاثرہ فریق خود عدالت سے رجوع کرے تو مفاد عامہ کی درخواست ازخود غیرمؤثر ہوجاتی ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر اس کیس کو چلانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کیس میں عمران خان کو بھی فریق بنانا پڑے گا جس پروکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگرعمران خان کو فریق بنایا تو ان کا اپنا کیس متاثر ہوسکتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ عمران خان کا اپنا کیس متاثرہو۔
درخواست میں الیکشن کمیشن کے نا اہل قرار دینے کے اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں جوعمران خان کو نااہل قرار دے سکے۔ استدعا ہے کہ عدالت توشہ خانہ کے معاملے پر عمران خان کی الیکشن کمییشن سے نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنا پرنمٹا دی۔
درخواست گزارایڈووکیٹ اظہرصدیق نے عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست واپس لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے اپنی نااہلی کےخلاف خود عدالت سے رجوع کیا۔ سنگل بنچ نے عمران خان کی درخواست پر نوٹس بھی جاری کردیے۔ اسی لیے اپنی درخواست واپس لیتا ہوں۔




















