اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو یونین کونسل کی تعداد بڑھانے کی ٹھوس وجہ بتانے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیوں پر سماعت ہوئی۔
وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن کی انٹراکورٹ اپیلوں کے علاوہ لیگی رہنما شہزاد اورنگزیب اور شہری حارث کی انٹراکورٹ اپیلیں بھی شامل ہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامرفاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے علاوہ ن لیگ کے وکیل قاضی عادل عزیزبھی عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آج کوئی نئی انٹراکورٹ اپیلیں بھی آئی ہیں جس کے بعد وکیل راجہ انعام امین منہاس روسٹرم پر آ گئے۔
عدالت نے پوچھا جی راجہ صاحب آپ کی انٹراکورٹ اپیل ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ جی ہماری انتخابی فہرستوں والی اپیل ہے۔ سنگل بنچ نے ایک آرڈر دیا جس نے بعد ہماری درخواست پر سماعت ہی نہ ہوسکی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سنگل بنچ نے الیکشن کرانے کا حکم دیا لیکن الیکشن تو ہوا ہی نہیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 31 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا حکم دیا تھا جس پر وکیل نے جواب دیا کہ عدالتی حکم پرعمل درآمد اتنے کم وقت میں مشکل تھا۔ سنگل رکنی بنچ نے ہمیں سنا نہیں تھا ورنہ شاید یہ آرڈر نہیں آنا تھا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جو ووٹر لسٹ چیلنج والے درخواست گزار لوگ ہیں وہ کیسے متاثر ہیں؟ 31 کو الیکشن ہونا تھا مگر نہیں ہوا ابھی تو انتخابات ہونے ہیں۔ آپ کے جو مسائل ہیں اسے تو الیکشن کمیشن آج بھی سن سکتا ہے۔ پچھلی دفعہ بھی الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ووٹرز کا مسئلہ نہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامرفاروق نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بتایا گیا ووٹر لسٹ کا معاملہ عدالت ملتوی ہونے کے ساتھ ہی التوا میں چلا گیا۔ رٹ میں یہ عدالت نہیں دیکھ سکتی ووٹر لسٹ ایک یونین کونسل کی ہے دوسری کی نہیں۔ کیا ووٹر لسٹیں دیکھنا ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرکا کام ہے۔
ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ جی ووٹر لسٹیں دیکھنا ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کی اتھارٹی ہے، 28,29,30 دسمبر تین دن ان کو دیے تھے ووٹر لسٹیں ٹھیک کرا لیں۔
عدالت نے پوچھا کہ اگر101 یونین کونسلز میں الیکشن ہونا ہے تو شیڈول تو آپ نے دینا ہی ہے جس پر ڈی جی لاالیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن میں ووٹر لسٹوں کا معاملہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں بھی تھا۔
’’الیکشن کرادیتے تو یہ معاملہ اب سامنے نہ آتا‘‘
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ابھی آپ نے الیکشن کرایا نہیں بلکہ کرانا ہے۔ آپ اگر الیکشن کرادیتے تو یہ معاملہ اب سامنے نہ آتا، آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ شیڈول سے پہلے آپ فہرست کے حوالے سے اعتراض کرسکتے ہیں؟
عدالت نے استفسار کیا کہ جب الیکشن کا شیڈول جاری کیا جاتا ہے تب ووٹر لسٹوں کے حوالے سے کوئی کارروائی ممکن نہیں؟
ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے لئے ابھی نیا شیڈول آنا ہے۔ سنگل رکنی بنچ نے سب کو سنا تھا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ووٹرز کے تحفظات تب ہیں جب سنگل بنچ کا فیصلہ برقرار رہے۔ اگر وفاقی حکومت کے مطابق یوسیز 125 ہوگئیں تو پھر ووٹرز کا مسئلہ نہیں رہنا۔ یونین کونسلز بڑھ جانے پر ووٹر فہرستوں کا سارا پراسیس دوبارہ ہوگا۔ ووٹرز کی درخواست پر ابھی نوٹس جاری نہیں کرتے۔
’’آج الیکشن کرائیں تو آپ کو کتنا عرصہ درکار ہوگا؟‘‘
عدالت نے استفسارکیا کہ اگر آج آپ کو کہا جائے کہ الیکشن کرائیں تو آپ کو کتنا عرصہ درکار ہوگا؟ جس پرڈی جی لا الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ اگر 101 یونین کونسلز پرالیکشن کرانا ہو تو ہمیں سات سے دس دنوں کا وقت درکار ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اصل معاملہ وفاق کا ہے کہ یوسیز 125 کیوں کی گئیں؟ سنگل بنچ کیمطابق وفاق اس بات کی کوئی ٹھوس وجہ بتا نہیں سکا۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ میری درخواست پر کیا گیا، میری درخواست پر فیصلہ کیا گیا مگر مجھے نوٹس ہی نہیں کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ اگر آپ ہی کی درخواست پر فیصلہ کیا گیا تو آپ کو نوٹس کرنا چاہیے تھا، ہم پارلمینٹ کا احترام کرتے ہیں مگر ایکٹ تب ہوگا جب سارا پراسسز مکمل ہو۔ ابھی تو صدر صاحب نے بل پر دستخط نہیں کیے۔ جوائنٹ سیشن ہوگا تو ہی اس معاملے پر کچھ ہوسکتا ہے۔
’’صبح چائے یا کافی کے ساتھ اخبار پڑھ لینا ٹھیک رہتا ہے‘‘
ایدیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 12 جنوری کو جوائنٹ سیشن بلایا گیا ہے۔ جس پرچیف جسٹس عامر فاروق نے مکالمے میں کہا کہ لگتا ہے آپ آج صبح اخبار پڑھ کرآئے ہیں۔ صبح چائے یا کافی کے ساتھ اخبار پڑھ لینا ٹھیک رہتا ہے، صدر مملکت نے مشترکہ اجلاس کی ریکوزیشن مسترد کردی ہے، کتنے دن میں انتخابات کرواسکتے ہیں؟
الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ سات سے دس دن میں انتخابات کروا سکتے ہیں، جس پرعدالت نے کہا کہ حکومت یونین کونسل کی تعداد بڑھانے سے متعلق عدالت کو مطمئن کرنا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت 19 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت آئندہ سماعت پر یونین کونسل کی تعداد میں اضافے کی ٹھوس وجہ بتائے جس پر وفاقی حکومت نے اضافی دستاویزات جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا۔




















