عدالتِ عالیہ نے دوروز میں رمضان شوگرملز کو این او سی جاری کرنے کے فیصلے پرعمل درآمد کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں شریف خاندان کی ملکیتی رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالتی حکم پر ڈی جی ایکسائز عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ڈی جی ایکسائز کے تاخیر سے پیش ہونے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ججز صبح آسکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں آسکتے؟
ڈی جی ایکسائز نے جواب دیا کہ میں عدالت سے معذرت چاہتا ہوں آئندہ ایسا نہیں ہوگا جس پرعدالت نے کہا کہ آپ کیوں فیصلے پر عمل نہیں کررہے کوئی ذاتی ایشو ہے؟
سرکاری وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گےی کہ عدالتی فیصلہ پر عمل درآمد کی لیے مہلت دی جائے۔
درخواست گزار کی طرف سے سلیمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ درخواست گزار رمضان شوگر ملز نے لائسنس کے حصول کے لیے تمام شرائط پورا کی۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ عدالتی حکم کےباوجود سیاسی بنیادوں پر لائسنس جاری نہیں کیا جا رہا، استدعا ہے کہ عدالت این او سی کے اجراء کےحکم پر عمل درآمد کے احکامات صادر کرے جس پر جسٹس شاہد کریم لاہور ہائی کورٹ نے دو روز میں رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیا۔




















