لاہورہائی کورٹ نے لاہور کے ماسٹر پلان 2050 پرتاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق عدالتِ عالیہ نے ماسٹر پلان کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے حکومت پنجاب، چیف سیکریٹری اور متعلقہ فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
لاہور ہائی کورٹ نےدرخواست کی سماعت جنوری تک دو ہفتوں تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مخدوم علی ٹیپو نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے جس پرعدالت نےکہا کہ حکومت کے بے مقصد منصوبوں سے سانس لینا مشکل ہو گیا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس طرح کے منصوبے سے ملکی معیشت کو خطرات کا سامنا ہے۔ حکمران جنیوا کانفرنس میں اس طرح پیسے مانگیں گے۔
جسٹس شاہد کریم نے شہری میاں عبد الرحمان کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے شہزاد شوکت ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ راوی کے کنارے بستیاں بسانے اور لاہور کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک رکھنےکےنام پرمنصوبہ شروع کیا گیا۔ عدالت نے زرعی زمین بچانے اور جنگلات لگانےکاحکم دیا۔ عدالتی حکم کے برعکس روڈا ادارہ بنا کرلاہور کے ماسٹر پلان 2050 کا نفاد کردیا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ماسٹر پلان کےتحت نہ صرف درختوں کو کاٹا جانے کا خدشہ ہےبلکہ ماحولیات تباہ ہوجائیں گی۔ مبینہ ماسٹر پلان سے لاہور کے اردگرد زرعی علاقے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ استدعا ہے کہ عدالت لاہور کےماسٹر پلان 2050 کو بدنیتی پر مبنی اور غیر قانونی قرار دے۔




















