جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ججز اور ممبران کے حلف میں بس یہی فرق ہے کہ ججز قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف لیتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب قانون میں حالیہ ترامیم کیخلاف تحریک انصاف کی درخواست پرچیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
حکومتی وکیل کے دلائل
حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ اسلام کے خلاف قانونی سازی کو چیلنج کرنے کا آئینی فورم شریعت کورٹ ہے۔ کوئی قانون سازی اسلام کے خلاف ہے یا نہیں یہ جانچنے کا اختیار سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے بجائے شریعت کورٹ کو حاصل ہے۔ آئین پاکستان نے قانون بنانے، کسی قانون میں تبدیلی کا خالتصتا اختیار پارلیمنٹ کو دے رکھا ہے۔
حکومتی وکیل نے دلائل میں کہا کہ اعلیٰ عدالتوں نے مقننہ کے اختیارات کو تسلیم کیا ہے۔ امریکی صدر کو معافی کا اختیار ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے کبھی امریکی صدر کے اختیارات میں مداخلت نہیں کی، صدرکو مواخذے کی تحریک کے تحت صدرکو ہٹایا جاسکتا ہے، لیکن کئی ججز کو ہٹا دیا گیا۔
’’عدلیہ کو قانون کالعدم قراردینے کا اختیار نہیں‘‘
وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ درخواستوں میں ایسا کوئی قابل ذکر نکتہ نہیں جن کا جواب دیا جا سکے۔ قانون اس وقت کالعدم ہوتا ہے جب کوئی اور راستہ نہ بچا ہو۔ عدلیہ، پارلیمان اور ایگزیکٹو کو اپنی اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ آئین میں عدلیہ کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے عدلیہ کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار دیا۔ عدالتی فیصلے میں بھی قوانین کالعدم قرار دینے کا اختیار مشروط ہے۔
مخدوم علی خان نے دلائل میں کہا کہ نیب ترامیم کو اسلامی اصولوں کیخلاف ہونے کی بنیاد پر بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ قانون خلاف شریعت قرار دینے کیلئے واحد فورم وفاقی شرعی عدالت ہے، سپریم کورٹ کو قوانین کا شریعت کے پیراہے میں جائزہ لینے کا اختیار نہیں، قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کرسکتی۔ امریکی صدرکے پاس مجرمان کی معافی کا اختیار موجود ہے، امریکی صدر کا فیصلہ درست ہو یا غلط عدلیہ کبھی مداخلت نہیں کرتی۔
حکومتی وکیل نے دلائل میں کہا کہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ قانون میں ترمیم کرے یا اس کو مزید واضح کرے، قانون سازی کرنا عدلیہ کا کام نہیں ہے، قانون پارلیمنٹ کی اکثریت کی جانب سے پاس ہونا چاہیے۔
’’فیصلہ کرنا عوام کا اختیار ہے، عدلیہ کا نہیں‘‘
چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ اس نیب ترمیم کی منظوری کے وقت کتنے ممبران نے اس کو پاس کیا تھا؟ حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ میں ووٹنگ میں شامل ارکان کی درست تعداد عدالت کو بتا دونگا، کوئی قانون اس وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو پاس کرتے وقت ارکان کی اکثریت موجود نہیں تھی، کوئی اسمبلی عوامی خواہشات کے خلاف قانون منظور کرے تو اس کا فیصلہ کرنا عوام کا اختیار ہے، عدلیہ کا نہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین میں ارکان پارلیمنٹ کے حلف میں ملک کی بہتری اور خوشحالی کا بھی ذکر ہے، ایسے قانون جس سے ملک کی بہتری اور خوشحالی نہ ہو رہی ایسے قانون کی منظوری رکن پارلیمنٹ کے حلف کی خلاف ورزی نہیں؟
مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ رکن پارلیمنٹ اپنے کسی بھی اقدام کے عوامی عدالت میں جواب دہ ہے، امریکی جج تھرگُڈ مارشل نے کہا ارکان پارلیمنٹ کو احمقانہ قانون بنانے کا مکمل اختیارہے۔ 1947 سے آج تک کے قانون کے مطابق مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزار پرہی ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ عدالت پارلیمان کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتی۔
’’یہ محض سوال ہے، جذباتی نہ ہوں‘‘
حکومتی وکیل نے کہا آج تک کوئی قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوا کہ اسے اکثریتی ممبران نے منظور نہیں کیا جس پرچیف جسٹس پاکستان نے مکالمے میں کہا کہ یہ محض ایک سوال ہے، جذباتی نہ ہوں۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ آئین کے مطابق فیصلے کرنے کا حلف لیتے ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن بولے ممبران پارلیمنٹ کے حلف میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام فیصلے ملکی سلامتی، ترقی و بہتری کے لیے کریں گے۔ کیا ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے برخلاف قانون سازی ممبران پارلیمنٹ کے حلف کی خلاف ورزی تصور ہوگی؟
وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ کوئی عدالت ممبران پارلیمنٹ کی نیت کا تعین نہیں کرسکتی۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ججز اور ممبران کے حلف میں بس یہی فرق ہے کہ ججز قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف لیتے ہیں، ججز ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے مطابق فیصلوں کا حلف نہیں لیتے۔
وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ ججزآئین و قانون کے مطابق فیصلوں کے پابند ہیں، ممبران پارلیمنٹ کی منظور شدہ قانون سازی ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے حق میں ہی تصور ہوتی ہے، امریکی سپریم کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ مقننہ کے پاس احمقانہ قانون سازی کا ہر حق موجود ہے۔
حکومت وکیل نے مذید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ جہنم بھی جائیں تو ان کی مدد کریں گے۔ کسی برے یا احمقانہ قانون سازی پر بھی عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا۔
حکومتی وکیل کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل 11 جنوری تک ملتوی کر دی۔




















