سندھ ہائی کورٹ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں ڈاکٹرز کی بھرتیوں کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں ڈاکٹرز کی بھرتیوں کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ نے کہا کہ انٹرویو اور دیگر عمل جاری رکھا جائے تاہم تقرر نامے جاری نہ کیے جائیں۔
این آئی سی ایچ میں وفاقی اور صوبائی ملازمین کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا، صوبائی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ پروفیسرز اور بالائی گریڈز پر تقرری کو ڈاکٹر فرحانہ نے چیلنج کردیا۔
درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تقرریوں کی وجہ سے ہماری ترقی متاثر ہوگی۔ این آئی سی ایچ کا جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں۔
نعیم اقبال ایڈووکیٹ نے مؤقف بیان کیا کہ بچوں کا یہ اسپتال یونیورسٹی کا ٹیچنگ اسکول ہے،انتظامی تعلق نہیں،
سرکاری وکیل نے کہا کہ تقرریاں صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق کی جارہی ہیں۔
جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ آئندہ سماعت پر کابینہ کا فیصلہ پیش کیا جائے تاکہ جائزہ لیا جاسکے، استفسار کرتے ہوئے عدالت نے پوچھا کہ کیا کابینہ کا فیصلہ سپریم کورٹ کی رولنگ کو متاثر کرسکتا ہے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ آسامیاں خالی ہونے سے عوام کو علاج کی سہولت متاثر ہورہی ہے، ڈاکٹروں کی کمی کے باعث مریض مشکلات کا شکار ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہ کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے افسران کو تحفظ دیا تھا، اگر اوپر کی آسامیوں پر تقرریاں ہوگئیں تو ہماری ترقی کیلیے آسامیاں نہیں ہونگی، 18سال سے فرائص انجام دے رہی ہوں، گریڈ19میں ترقی کی حقدار ہوں۔
سندھ ہائی کورٹ نے سماعت 26جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے تقرر نامے جاری کرنے سے روک دیا اورسندھ کابینہ کا فیصلہ طلب کرلیا۔




















