عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پرایک وکیل پیش ہو اور مشاورت کے بعد کمنٹس فائل کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان نرسنگ کونسل کی نو منتخب صدر ڈاکٹر شازیہ صوبیہ کی تعیناتی چیلنج کیس کی سماعت ہوئی۔
پاکستان نرسنگ کونسل کی جانب سے ایک کیس میں دو وکیل عدالت میں پیش ہو گئے جس پر عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ایک وکیل پیش ہوکرجواب جمع کرائے۔
کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کی.
درخواستگزار مزمل یاسین کی جانب سے محمد طیب ایڈووکیٹ، وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عمران فاروق، اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے حضرت یونس، اسٹینڈنگ کونسل، نرسنگ کونسل کی طرف سے ضیاء الرحمان اورعلی نواز کھرل ایڈووکیٹ، الیکشن کمیشن کی جانب سے نعمان منیر پراچہ اورنرسنگ کونسل کے اسسٹنٹ ڈپٹی رجسٹرارعدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کونسل نے ڈی نوٹیفائی کردیا ہے مگر وہ ابھی بھی کام کر رہی ہیں.
ضیا الرحمان نے کہا کہ رجسٹرارکو صدر نرسنگ کونسل نے غیر قانونی طورمعطل کیا جبکہ علی نواز کھرل نے کہا کہ اسسٹنٹ ڈپٹی رجسٹرار نے ہمیں کیس میں انگیج کیا ہے۔
ضیاء الرحمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکیل انگیج کرنا رجسٹرار کا کام نہیں ہے، ایگزیکٹو کمیٹی فیصلہ کرتی ہے جس پرعدالت نے کہا کہ نرسنگ کونسل خود اندرونی طورپر اپنے وکیل کا فیصلہ کرے۔ آئندہ سماعت پر ایک وکیل پیش ہواور مشاورت کے بعد کمنٹس فائل کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔




















