Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پشاور ہائی کورٹ؛ آٹے کے بحران پر سیکریٹری فوڈ سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب

پشاورہائی کورٹ نے آٹے کے بحران سے متعلق کیس میں سیکریٹری فوڈ سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔

پشاورہائی کورٹ میں آٹا بحران سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں سیکریٹری خوراک، ڈی جی خوراک، ایڈیشنل سیکریٹری نیںشل فوڈ سیکیورٹی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس قیصررشید نے سماعت کرتے ہوئے سوال کیا کہ خوراک کا محکمہ کہاں ہے، کیا یہ محکمہ موجود بھی ہے؟ آٹا اتنا مہنگا کردیا گیا ہے کہ عوام کو ایک وقت کی روٹی نہیں مل رہی۔ حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔ لوگ 30 روپے کی کاغذی روٹی خریدے پرمجبورہیں۔

سیکریٹری فوڈ نے عدالت کو بتایا کہ آٹے کی قیمت میں کمی آئی ہے،20 کلو تھیلا 2400 روپے کا مل رہا ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ 24 سو روپے میں مل رہا ہے؟

سیکریٹری فوڈ اورڈی جی فوڈ کو مارکیٹ کا دورہ کرنے کا حکم

سیکریٹری فوڈ اورڈی جی فوڈ کو مارکیٹ کا دورہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ جائیں چیک کریں، کہاں 24 سو میں 20 کلو آٹا مل رہا ہے۔ روٹی کی قیمت بھی 20 سے زائد نہیں ہونا چاہیئے۔ اس کیس کو بعد آج دوبارہ سنتے ہیں۔

وقفے کے بعد سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس قیصررشید نے پوچھا کہ سیکریٹری صاحب مارکیٹ کا دورہ کیا؟ کیا صورتحال ہے؟

سیکریٹری فوڈ مشتاق احمد نے بتایا کہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 500 روپے کمی آئی ہے۔ قیمتیں مزید کم ہوں گی۔ 24 سو تک آجائے گی۔

عدالت نے کہا کہ 24 سو بھی بہت زیادہ ہے عوام کے لئے خریدنا مشکل ہوگا۔ ہرچیزمہنگی ہے، غریب عوام اتنا مہنگا آٹا خرید نہیں سکتے۔ لوگ احتجاج کررہے ہیں، حکومت سے مکھن نہیں مانگ رہی، صرف آٹا مانگ رہی ہے۔ افغانستان جو ٹرک جاتے ہیں اس کی کیا صورتحال ہے؟

چیف جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ افغانستان کے پی کا آٹا نہیں جاتا، ورلڈ فوڈ پروگرام نے پاسکو سے جو گندم خریدا وہ جاتا ہے۔  ہم چاہتے ہیں افغانستان کے عوام کو بھی آٹا ملے، لیکن پاکستانی عوام متاثرنہ ہوں۔ عوام کو مناسب قیمت پر آٹا اور روٹی کی دستیابی یقینی بنائیں۔

سیکریٹری فوڈ نے کہا کہ 51 لاکھ میٹرک ٹن گندم صوبہ کی ضرورت ہے۔ 12 لاکھ میٹرک ٹن صوبہ کی پیداوار ہے باقی پاسکو اور پنجاب سے آتا ہے۔ پنجاب میں قیمت بڑھ جاتی ہے تو یہاں بھی اثر پڑتا ہے قیمت بڑھ جاتی ہے۔

علی گوہردرانی ایڈوکیٹ نے کہاکہ ہم مارکیٹ گئے ڈیلرز سے بات ہوئی۔ ڈیلرز نے بتایا کہ اس وقت اٹک پوائنٹ انٹرنیشنل بارڈ جیسا بن گیا ہے۔ وہاں سے گندم، آٹا کی ٹرک کو اس وقت تک جانے کی اجازت نہیں دیتے جب تک ان کو پیسے نہیں دیتے۔ پولیس اور فوڈ کے اہلکارغیرقانونی طورپر پیسے لیتے ہیں، ڈیلرزکو تنگ کرتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ سیکریٹری صاحب آپ پنجاب کے محکمہ خوراک سے بات کریں۔

اے ڈی سی پشاور ثانیہ صافی نے بتایا کہ پشاور میں خلاف ورزی کرنے والے 62 ڈیلرز کے خلاف ایف آئی آر درج کئے ہیں 3 ملوں کو سیل کیا گیا ہے۔ روٹی کی قیمت اور وزن کو بھی چیک کریں گے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

عدالت نے کہا کہ سیکرٹری صاحب آپ ہمیں ایک ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ دیں۔ صوبہ میں کتنے پوائنٹ پر سرکاری نرخ آٹا دسیتاب ہے۔ روٹی کی قیمت پر بھی نظر رکھیں اور وزن کو بھی چیک کریں۔

پشاورہائی کورٹ نے سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں