عدالت عالیہ نے ممبران اسمبلی کی گرفتاری کے قانون کے خلاف درخواست پروفاق اوراسپیکرسے جواب طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں اسپیکر سے اجازت کے بعد ممبران اسمبلی کی گرفتاری کے قانون کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت اور اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوے معاونت کے لیے طلب کر لیا۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ قومی اسمبلی میں 20 اکتوبر 2022 کو اسمبلی رولز میں ترامیم کی گئیں۔ ترمیم میں کسی بھی ایم این اے کو گرفتار کرنے سے قبل اسپیکر سے اجازت لازمی قرار دی گئی یے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیارکیا کہ کوئی بھی ممبر قومی اسمبلی جرم کا مرتکب ہو کر گرفتار نہیں ہو سکے گا۔ گرفتار کرنے سے قبل اسپیکرکی اجازت لازم قرار دی گئی ہے۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ اس ترمیم سے قبل اسپیکر کو صرف آگاہ کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا، استدعا ہے کہ عدالت قومی اسمبلی رولز میں کی گئی ترمیم کو کالعدم قرار دے۔




















