سیکرٹری سوشل ویلفیئرنے معذورافراد کو سہولیات کی فراہمی اور قانون پرعمل درآمد سے متعلق روڈ میپ عدالت میں پیش کردیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں پنجاب میں معذورافراد کے لیےسہولیات کی فراہمی اور قانون پر عمل درآمد کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالتی حکم پرسیکرٹری سوشل ویلفیئر نے روڈ میپ عدالت میں پیش کردیا جس کے بعد عدالت نے روڈ میپ کےمطابق عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت یکم فروری تک ملتوی کردی۔
جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی۔
سیکرٹری سوشل ویلفیئرنے کہا کہ معذور افراد کےمقدمات کی سماعت کےلئے خصوصی عدالتیں قائم کردی گئی ہیں۔ عدالتی حکم کے مطابق قانون بنایاگیا جس پر عمل درآمد کا روڈ میپ بھی مرتب کرلیا۔
درخواست گزار جوڈیشل ایکٹوازم پینل کےوکیل اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم پر معذور افراد کےحقوق کے تحفظ کا قانون منظورہوگیا مگرعمل درآمد نہیں ہورہا۔
جوڈیشل ایکٹوازم پینل کےوکیل اظہر صدیق نے دلائل دیے کہ قانون میں معذور افراد کاسرکاری نوکریوں میں تین فیصد کوٹہ مختص ہےمگر وہ نظرانداز کئے جارہے ہیں۔ معذور افراد کے ساتھ مذاق کرنے والوں کو ابھی تک سزا نہیں دی جاسکی۔
ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے مؤقف پیش کیا کہ معذور افراد کو پبلک ٹرانسپورٹ میں خصوصی سہولیات اور رعایت فراہم کرنے کے قانون پرعمل کاحکم دیاجائے۔ استدعا ہے کہ عدالت تعلیمی اداروں میں برابری کی سطح پر معذوروں کےداخلے کےحوالے سے عمل درآمد رپورٹ طلب کرے۔




















