عدالتِ عظمٰی نے جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کے خلاف کسٹمز کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پاکستان کا بیڑہ غرق ہی ایمنسٹی نے کیا ہے۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کسٹمز وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایمنسٹی دینے ک اختیار پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کو حاصل ہے۔ صوبہ کہتا ہے کہ یہ گاڑی ہمارے دائرہ اختیار میں آتی ہے، آپ سو رہے ہیں یا اپنی پوسٹیں بیچ رہے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ گاڑی کوئی جیب میں ڈال کر نہیں لاتا اور نہ ہی اڑ کر آتی ہے، جب گاڑی آ جاتی ہے تو اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، گاڑی آئی کیسے اس کا کوئی جواب نہیں، آپ ذرا چمن بارڈر پر جائیں اور دیکھیں گاڑی کیسے آتی ہے۔
جسٹس یحیٰی آفریدی نے وکیل کسٹمزسے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ڈیوٹیز لیں اور معاملہ ختم کریں جس پر وکیل کسٹمز نے کہا کہ اس حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ قانون بتائیں، عدالت قانون نہیں بناتی بلکہ اس کی تشریح کرتی ہے جس پر کسمٹز کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر ایک گاڑی غیر قانونی طریقے سے آتی ہے تو وہ کسٹمز کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ لیکن آپ یہ جواب نہیں دیتے کہ گاڑی آئی کیسے؟ آپ کی استدعا یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے ٹیکس وصول کریں لیکن آپ گاڑی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔
دوران سماعت کسٹمز ایمنسٹی سکیمز کا حوالہ دینے پرعدالت اظہارِ برہمی کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کا بیڑہ غرق ہی ایمنسٹی نے کیا ہے، ون ٹائم ایمنسٹی کوئی سو بار ہو چکی ہے۔ ہر ادارہ ایمنسٹی دے رہا ہے۔ ہم نالائق ہیں گاڑیاں روک نہیں سکتے اس لیے ایمنسٹی دے رہے ہیں۔ ہم ایف بی آرسے ڈیٹا منگوا لیتے ہیں آج تک کتنی ایمنسٹی دی ہیں۔
جسٹس یحیٰی آفریدی نے استفسارکیا کہ کسٹمز کے قانون کے تحت ایمنسٹی کیسے دی جا سکتی ہے؟ جبکہ جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ سونا، چاندی کی اسمگلنگ کی تو سمجھ آتی ہے گاڑی کیسے اسمگل ہوسکتی ہے؟ ابھی اسلام آباد کی سڑکوں پرعجیب نمبر پلیٹ والی گاڑیاں چل رہی ہیں۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ یہ گاڑیوں والے شاید بہت طاقتور لوگ ہیں نہ کسٹمز والے چیک کرتے ہیں نہ پولیس، آپ نے قانون کا مذاق بنا کررکھ دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کا سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کیوجہ سے چالان ہو گیا، برطانوی وزیراعظم نے اپنے عمل پر معافی بھی مانگی۔ آپ اپنے وزیراعظم تو دور کسی ڈی سی یا سی ڈی اے افسر کا چالان کر کے دکھائیں۔
عدالت عظمٰی نے گاڑی ضبط کرنے کی پاکستان کسٹمز کی اپیل مسترد کردی۔
پاکستان کسٹمز نے 1998 ماڈل کا ہینو ٹرک 2018 میں پکڑا تھا۔ اپیلٹ ٹربیونل نے فیصلہ پاکستان کسٹمز کے خلاف دیا تھا۔




















