لاہور کے نجی اسکول میں طالبہ پرساتھی لڑکیوں کے تشدد کے معاملے میں 4 مذید ملزمان کی عبوری ضمانت منظورکر لی گئی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کی سیشن عدالت میں ڈیفنس کے نجی اسکول میں نشے سے منع کرنے پر طالبہ پر ساتھی لڑکیوں کے تشدد کے معاملے میں 4 مزید ملزمان لڑکیوں نے عبوری ضمانت کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا۔

عدالت نے نامزد ملزمہ نور رحمان، حنان علی جتوئی، سمید احمد، عبدالحنان کی عبوری ضمانتیں منظورکرتے ہوئے انھیں 50، 50 ہزارروپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا اورڈیفنس اے پولیس کو مزید 4 طلباء کو 30 جنوری تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج چودھری ظفراقبال نے ملزماؤوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی جس میں تین ملزمان کی طرف سے مؤقف پیش کیا گیا کہ متاثرہ لڑکی نے تتیمہ بیان میں ویڈیو بنانے کا الزام لگایا ہے۔

ملزمان کو مؤقف تھا کہ مدعی کی بیٹی نے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا بھی جھوٹا الزام لگایا، استدعا ہے کہ گرفتاری کا خدشہ، مقدمہ میں شامل تفتیش ہونے کیلئے عبوری ضمانت دی جائے۔

ملزمہ نور رحمان علی نے کہا کہ مدعی عمران یونس نے بلاجواز مقدمہ میں نامزد کیا، مقدمہ میں شامل تفتیش ہونے کیلئے عبوری ضمانت منظور کی جائے۔ استدعا ہے کہ مقدمہ کے حتمی فیصلے تک تمام ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے۔

مقدمہ میں نامزد 3 ملزمان لڑکیوں عمامہ قیصر، جنت ملک، کائنات ملک کی عبوری ضمانتیں 30 جنوری تک پہلے ہی منظور ہو چکی ہیں۔

مدعی عمران یونس نے ڈیفنس کے نجی اسکول میں بیٹی پرکلاس فیلوز کے تشدد کیخلاف مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔ مقدمہ میں طالبہ پر تشدد، کپڑے پھاڑنے اور سونے کا لاکٹ چوری کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔




















