Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ماہانہ تنخواہ 25 ہزار روپے کرنے کی درخواست پر تحریری حکم جاری

سینیٹری ورکرزکی کم ازکم ماہانہ تنخواہ 25 ہزارروپے کرنے کے کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے تحریری حکم جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں سینٹری ورکرز کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 25 ہزار روپے کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس پر عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

وکیل سندھ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے 7 جولائی 2022 کو مزدروں کی تنخواہ 25 ہزار روپے مقررکی تھی جس پر عدالت نے کہا کہ سرکاری وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت 7 جولائی کے نوٹیفیکیشن پرعمل درآمد کرایا جائے گا۔

سندھ حکومت کے وکیل نے کہا کہ سندھ حکومت نے کم سے کم تنخواہ کے قانون 2015 کی سیکشن 4 کے تحت مزدرو کی تنخواہ 25 ہزار روپے مقررکی تھی۔ سندھ حکومت کے 25 ہزار روپے کے کم سے کم  تنخواہ کے نوٹیفیکیشن پر صوبے بھر میں عمل درآمد کرایا جائے گا۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے سندھ حکومت کے مؤقف پر اطمینان کا اظہارکیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مزدروں کو کام کے دوران محفوظ ماحول فراہم کرنے سے متعلق تجاویز کے لیے مہلت دی جائے۔

سندھ  ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت 8 فروری تک ملتوی کردی۔

درخواست میں کہا گیا کہ سندھ حکومت کے مختلف محکموں اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں کام کرنے والے سینیٹری ورکرز کو 17 ہزار 5 ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے۔ سندھ حکومت نے مزدور کی کم سے کم 25 ہزار روپے مقررکررکھی ہے۔ 25 ہزار روپے سے کم تنخواہ دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

وکیل درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ سینیٹری ورکرزکو کام کے دوران تمام ضروری سامان مہیا کیا جائے۔ سندھ حکومت کو ہدایت کی جائے کہ سینیٹری ورکرز کے لیے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد کرائے۔

متعلقہ خبریں