Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہائی کورٹ از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں کرسکتی۔

تفصیلات کے مطابق عدالتِ عظمٰی نے کہا کہ ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں رکھتی۔  صرف سپریم کورٹ کو آرٹیکل 184/3 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار حاصل ہے۔

پشاور ہائی کورٹ نے لائیواسٹاک اورپولٹری اشیا کی قیمتوں کے تعین کیلئے کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے حکومتی اہلکاروں کو معیاری دودھ و دیگر اشیاء کی فروخت یقینی بنانے کیلئے مارکیٹس کے دورے کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے سامنے صرف اشیاء کی قیمتوں کا معاملہ زیر سماعت تھا۔

سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ ہائی کورٹ نے ایک سے زائد مرتبہ از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا۔ ہائی کورٹ نے پولٹری اشیاء کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ دیا۔

جسٹس اعجازالا حسن نے تحریری فیصلے میں کہا کہ اشیاء کی درآمد و برآمد کا اختیارعدالت نہیں بلکہ صرف انتظامیہ کے پاس ہے۔  ہائی کورٹ نے نا صرف از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا، انتظامی دائرہ اختیار میں بھی دخل اندازی کی۔

عدالتِ عظمٰی نے فیصلے میں مذید کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں عدالتی دائرہ اختیارسے متعلق کئی خامیاں موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں