بجلی چوری پربراہ راست ایف آئی آردرج ہوسکتی ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں دورانِ سماعت بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے وکیل کی کیس پر لارجر بنچ بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عدالتِ عظمٰی نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا غریب آدمی کنڈا ڈالے تو وہی سزا اور فیکٹری والا زیادہ بجلی چوری کرے تو بھی وہی سزا؟ کیا ایس ڈی او عدالت میں شکایت داخل کرے گا یا تھانے میں؟
وکیل تقیسم کار کمپنی نے عدالت کو جواب دیا کہ بجلی چوری روکنے کے لیے مقدمات درج کرکے چالان بجلی یوٹیلیٹی کورٹ میں بھیجے جاتے ہیں جس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ کیا پولیس کو اختیار دے دیا جائے کہ ازخود مقدمات درج کرے؟
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت نے تفریق کرنی ہوتی ہے کہ کون سا جرم سنگین نوعیت کا ہے اور کون سا نہیں؟ کوئی بارودی مواد سے ٹرانسمیشن لائن اڑا دے تو یہ ایک سنگین جرم ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کوئی قانون عام آدمی کا استحصال نہ کرے۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنی نے مقدمے کے اندراج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔




















