عدالتِ عالیہ نے لاپتا افراد کی عدم بازیابی کے معاملے پرسیکریٹری داخلہ سندھ کو طلب کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دو سگے بھائیوں سمیت لاپتا افراد کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سندھ کو ذاتی حیثیت سے طلب کرتے ہوئے کہا کہ ستم ظریفی ہے سیکرٹری داخلہ کو صوبائی ٹاسک فورس کی رپورٹ پر دستخط کرنے کا وقت نہیں مل رہا۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ بدقسمتی سے پولیس بھی 13 سال سے لاپتا شہریوں کا سراغ لگانے میں ناکام ہے، پولیس کی کارکردگی سے لوگ مایوس تو ہوں گے۔ بتایا جائے 13 برسوں میں لاپتا افرادکی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ 17 جے آئی ٹیز اور 12 صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔ حراستی مراکز اور حساس اداروں کی جانب سے رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے تفتیشی افسر کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ 13 برسوں میں رپورٹ تک حاصل نہیں کرسکے؟ کیوں نہ آپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے؟
فوکل پرسن محکمہ داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی ٹاسک فورس کی رپورٹ انڈر پراسز ہے جس پرعدالت نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ کے پاس انتا بھی وقت نہیں رپورٹ پر دستخط کردیں؟
وکیل درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ بلال اور اس کے بھائی کو 2011 میں حراست میں لیا گیا۔




















