جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے وکیل درخواست گزار سے کہا کہ ملک میں تو مسائل کے انبار ہیں، آپ کو صرف یہ مسلئہ نظرآیا؟
سندھ ہائی کورٹ میں این آئی سی وی ڈی میں مبینہ طور پر خلاف قانون اعلی عہدوں پر تعیناتیوں کے معاملے پرسماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران وکیل محمد ارشد خان تنولی نے مؤقف اپنایا کہ میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں، بنیادی تنخواہ 60 ہزار روپے ہے جبکہ مراعات ملا کر 7 لاکھ روپے بن جاتے ہیں۔ ملک کو ایسے لوٹا جا رہا ہے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ جب یہ ملک کھا رہے ہیں تو کھانے دیں آپ کا کیا جارہا ہے؟ جس پر وکیل محمد ارشد خان تنولی نے کہا کہ یہ پیسہ عوام کے ٹیکس کا ہے۔
جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ ملک میں تو مسائل کے انبار ہیں، بجلی ہے نہ ہی پانی، گیس گھروں میں نہیں آرہی، مہنگائی اور بے روزگاری ہے، کرائم بڑھتا جا رہا ہے۔ آپ کو صرف یہ مسلئہ نظر آیا؟ ہم دیکھتے ہیں اس معاملے کو؟
عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
درخواست میں حکومت سندھ، این آئی سی وی ڈی سمیت دیگر 11 کو فریق بنایا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ غیر قانونی بھرتیوں کے اس عمل پر نوٹس لیا جائے۔ نیب کو احکامات دیے جائیں کہ وہ نا صرف ریفرنس بنائے بلکہ اب تک تنخواہ کی مد میں وصولی جانے والی رقم قومی خزانے میں واپس کی کرائی جائے۔
بدعوانی کا کیس
دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں محکمہ تعلیم کے 5 مبینہ فیک پینشن اکاؤنٹس سے 16 کروڑ روپے کی بدعنوانی کے معاملے میں عدالت نے لیکچرار اسد علی کی درخواست صمانت پر فیصلہ محفوط کر لیا۔
وکیل ملزم شوکت حیات نے کہا کہ اسد علی کے خلاف ریفرنس من گھڑت ہے۔ ملزم پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر اکاؤنٹس سے کوئی کنکشن بنتا ہے تو بتایا جائے۔
نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کے نام پر 5 اکاؤنٹس ہیں۔ اکاؤنٹس اگرغلط دستخط سے بنے تو کسی متعلقہ فورم سے ابتک رجوع کیوں نہیں کیا۔ نیب طلبی کے باوجود 3 سال تک ملزم بیان دینے نہیں آیا۔




















