بھارت کے معروف گلوکار کیلاش کھیر نے اپنی زندگی سے متعلق ہولناک انکشاف کیا ہے۔
حال ہی میں معروف گلوکار کیلاش کھیر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘زندہ رہنے کے لیے میں نے کئی ایسی نوکریاں کیں جنہیں کرنے سے قبل لوگ کئی بار سوچتے ہیں، میں 20 یا 21 برس کا تھا جب دہلی میں اپنا بزنس شروع کیا’۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ ’ میں ہاتھ سے بنائی گئی اشیاء کا کام کرتا تھا، انہیں جرمنی بھیجا کرتا تھا لیکن بد قسمتی سے بزنس میں بھاری نقصان ہوا جس کے بعد میں رشیکیش پنڈت بننے چلا گیا’۔
کیلاش کھیر نے کہا کہ ‘میں ہر جگہ خود کو کم تر سمجھنے لگا، مسلسل ناکامیوں کے باعث میں نے خودکشی کا سوچا اور میں خودکشی کے لیے گنگا دریا میں کود گیا لیکن مجھے ایک شخص نے دیکھ لیا، جو میرے پیچھے فوراً کودا اور اس نے بچالیا ‘۔
View this post on Instagram
گلوکار کیلاش کھیر نے کہا کہ ’ جس شخص نے بچایا اس نے مجھ سے غصے میں کہا کہ جب تیرنا نہیں آتا تو کیوں گیا تھا پانی میں؟ میں نے جواب دیا مرنے، تو اس نے سر پر مجھے تھپڑ مارا اور بہت ڈانٹا’۔
View this post on Instagram
اس سے قبل بھارتی مشہور گلوکار کیلاش کھیر کی کنسرٹ میں پاکستان کے معروف گلوکار عاطف اسلم کا گانا ’ تو جانے نہ ‘ گانے کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کیلاش کھیر پر پرفارمنس کے دوران پانی کی بوتلیں پھینکی گئیں تاہم گلوکار نے تماشائیوں کی اس حرکت کو نظر انداز کرتے ہوئے گانا جاری رکھا تھا۔
Noted singer #KailashKher was attacked on Sunday evening at the Hampi Utsav in Karnataka. He was performing ‘Ajab Prem Ki Ghazab Kahani’s Tu Jaane Na’ song when two men attacked him with bottles.
As per reports, the miscreants demanded the singer to sing and talk in Kannada. pic.twitter.com/XuDFZKGkCn
— truth. (@thetruthin) January 30, 2023
دوسری جانب بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ کیلاش کھیر کرناٹک کےعلاقے ہیمپی میں کنسرٹ میں پرفارم کر رہے تھے اور تماشائیوں کی جانب سے بوتلیں پھینکی گئیں۔
میڈیا کا کہنا تھا کہ گلوکار پر بوتلیں اس لیے پھینکی گئیں کیونکہ وہ کناڈا زبان کی بجائے ہندی زبان میں عاطف اسلم کا گانا ’توجانے نہ‘ سمیت دیگر ہندی گانوں پر پرفارم کر رہے تھے۔
اس کے علاوہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس نے بوتلیں پھینکنے والے تماشائیوں کو گرفتا کر لیا تھا۔




















