Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی

عدالتِ عظمٰی نے نیب ترامیم کے خلاف سربراہ پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ 

تفصیلات کے مطابق نیب ترامیم کے معاملے میں سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو یہ سمجھانا ہو گا کہ ترامیم سے مخصوص افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا، درخواست گزار کو بتانا ہو گا کہ نیب ترامیم میں نقص کیا ہے۔

وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ دیکھنا ہو گا کہ درخواست گزار کا اپنا کنڈکٹ کیا تھا؟ جب نیب ترامیم پیش ہوئیں توعمران خان کا تب کنڈکٹ کیا تھا؟ عمران خان خود کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر عوام کا نمائندہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ درخواست گزارکا مؤقف ہی یہ ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت ہے جبکہ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ عدالت کو نہیں بتایا گیا کہ نیب ترامیم سے کیسے عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں؟

مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب ترامیم کیس میں کوئی بنیادی حقوق متاثرنہیں ہوئے، نیب ترامیم سے بظاہر کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوا جس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اگر احتساب کے قانون میں رد و بدل سے گورننس پر فرق آیا تو اس میں عوام کے بنیادی حقوق کیسے متاثر ہوئے؟ بنیادی حقوق یا تو متاثر ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ پوری دنیا میں کہیں یہ نہیں ہوتا کہ 30 فیصد بنیادی حق متاثر ہوا اور 70 فیصد محفوظ ہے، پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کوئی شہری سپریم کورٹ میں چیلنج کیسے کر سکتا ہے؟ پارلیمنٹ سزائے موت ختم کر دے تو متاثرین کی درخواست پر سپریم کورٹ اسے بحال کرسکتی ہے؟

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگرعدالت کے سامنے درخواستیں آئیں تو ہر قانون سازی میں نقص نکلیں گے، قانون سازی میں کوئی خلا ہو تو اس کو پارلیمنٹ کی درست کر سکتی ہے، نیب ترامیم سے 2019 سے اب تک 221 ریفرنسز واپس ہوئے، واپس ہونے والے 221 نیب ریفرنسز میں سے 29 سیاستدانوں کے ہیں۔ 2019 سے اب تک نیب سے 41 افراد بری ہوئے جن میں سے 5 سیاستدان ہیں۔  نیب ترامیم سے بری یا فائدہ حاصل کرنے والوں میں سیاستدان بہت کم ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نیب ترامیم سے مستفید سیاستدان کم ہیں لیکن جو ہیں وہ نمایاں ہیں۔

وکیل وفاقی حکومت نے دلائل دیے کہ نیب ترامیم سے بری ہونے والے افراد 2019 اور 2021 کے نیب آرڈیننس سے ہوئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تحریک انصاف کا کہنا ہے نیب قانون میں تبدیلی سے جرم کی شدت اور نوعیت ہی بدل چکی ہے،  درخواست گزار کے مطابق نیب ملزم کی اہلیہ اور بچوں کو احتساب کے عمل سے باہر کردیا گیا، حکومت کا مؤقف ہے اہلیہ اور بچوں کیخلاف تحقیقات کیلئے ٹھوس شواہد ہونے چاہییں۔

وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ بار ثبوت کا معیار زیادہ یا کم ہونے سے کون سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے؟ عدالت اگر ایک فریق کی درخواست پر نیب قانون تبدیل کرے تودوسرے کو بھی یہی حق ہونا چاہیے،

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔

متعلقہ خبریں