Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت ہے، چیف جسٹس آف پاکستان

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت ہے۔ کچھ آئی جی صاحبان تو ایک ماہ بھی آئی جی رہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پولیس افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

سماعت کے دوران پنجاب اورسندھ کی جانب سے ٹرانسفر پوسٹنگ پر تفصیلی رپورٹ جمع کروائی گئیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پنجاب کی رپورٹ کے مطابق 2018 سے ابھی تک کوئی بھی آئی جی نے ایک سال کی مدت مکمل نہیں کی۔ کچھ آئی جی صاحبان تو ایک ماہ بھی آئی جی رہے۔ مؤثرقیادت کیلئے ہی آئی جی کے عہدے کی مدت رکھی گئی ہے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ 2017 میں پنجاب کابینہ نے پولیس آرڈرمیں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ تاہم آج تک آئی جی کی جانب سے تبدیلی پربریفننگ ہی نہیں دی جا سکی۔

چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے کہا کہ 6 سال سے بریفننگ نہ ہونے کہ وجہ کیا سیاسی رکاوٹیں ہیں؟ پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت ہے۔ جان بوجھ کرپولیس کو ٹریننگ اوراختیارات کے بغیر رکھا گیا ہے۔ 6 سال سے مغوی بچیوں کی بازیابی کیلئے ایجنیسوں کی مدد لینا پڑی۔ پولیس کو ٹریننگ کی ضرورت ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ پنجاب کی رپورٹ میں آئی جی صاحبان کو عہدوں سے ہٹانے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔  ٹرانسفرکرنا ایگزیکٹو کا اختیار ہے وہی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اگر کارکردگی پرٹرانسفرز کی گئیں ہیں تو کیا کسی کے خلاف کارروائی ہوئی۔

وکیل درخواست گزار شہزاد شوکت نے استدعا کی کہ مجھے پنجاب اور سندھ کی رپورٹس کا جائزہ لینے کیلئے مہلت دی جائے۔  چیئرمین نیب کی طرزہرآئی جی کا بھی عہدہ بھی ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تحقیقاتی افسران کے پاس فنڈزہی نہیں نہ ٹریننگ۔ کریمنل جسٹس سسٹم میں بہتری کیلئے پولیس ٹریننگ ضروری ہے۔

دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور چیف جسٹس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ  کیس کو انتخابات کے بعد مئی میں رکھا جائے جس پرچیف جسٹس عمرعطابندیال نے پوچھا کہ کیا آپ الیکشن کرانا چاہتے؟

 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ آئین کے مطابق تو 90 دنوں میں انتخابات ہونا ہیں۔

سابق چیف سیکریٹری کامران افضل کی بحالی کی درخواست خارج

عدالتِ عظمٰی نے پولیس ٹرانسفرز سے متعلق کیس کی سماعت مارچ کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔ عدالت نے پنجاب کے سابق چیف سیکریٹری کامران افضل کی بحالی کی درخواست خارج کردی، کہا کہ چیف سیکریٹری کا کیس انفرادی نوعیت کا ہے۔ اس کیس کی پولیس کیس سے مماثلت نہیں بنتی۔ کامران افضل اپنی شکایت کے تدارک کیلئے ہائی کورٹ میں جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں