Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پشاورہائی کورٹ نےقومی اسمبلی کے حلقوں پرضمنی انتخابات کا نوٹفیکیشن معطل کردیا

پشاورہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقوں پر ضمنی انتخابات کانوٹفیکیشن معطل کردیا۔

پشاورہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقوں پر ضمنی انتخابات روکتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقوں پرضمنی انتخابات کیلئے نوٹیفیکیشن معطل کردیا۔

جسٹس عتیق شاہ اورجسٹس ارشدعلی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن ملتوی کرنے سے متعلق مختصر فیصلہ سنایا۔

وکلا کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد پشاورہائی کورٹ نے آج فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عدالت نے پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق جواب بھی طلب کرلیا اورآئندہ سماعت کیلئے 7 مارچ کی تاریخ دے دی۔

فیصلے سے قبل سماعت کا احوال

پشاورہائی کورٹ میں اسپیکر قومی اسمبلی کی پی ٹی آئی ممبران کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس سید ارشد علی نے کی۔

بیرسٹرگوہرخان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے بغیر ویریفکیشن کے ممبران کے استعفے منظور کیے۔ پی ٹی آئی قیادت نے کہا کہ 123 ممبران کے استعفی ایک ساتھ منظور کیے جائے اس وقت اسپیکر نے منظور نہیں کیے۔ اسپیکر نے خود کہا کہ ایک ایک ممبر کو بلا کر ویریفکیشن کرے گے پھر استعفی منظور کئے جائیں گے۔

وکیل نے دلائل دیے کہ 14 جنوری کے بعد حالات تبدیل ہوئے تو پی ٹی آئی نے دوبارہ اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا جس پر جسٹس ارشد علی نے پوچھا کیا ممبران نے استعفی واپس لینے کے لئے اسپیکر سے رابطہ کیا؟

بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان نے میڈیا پراعلان کیا کہ ہم اسمبلی واپس جارہے ہیں اور یہ کافی ہوتا ہے۔

جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ کیا آپ پارلیمنٹ کے ساتھ کھیل رہے ہیں کہ استعفی منظور ہوئے تو ٹھیک ہے نہیں ہوئے تو واپس جائیں گے۔ وکیل نے جواب دیا کہ نہیں ہم پارلیمنٹ کے ساتھ نہیں کھیل رہے ہیں۔

بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیے کہ اب 16 مارچ کو انتخابات ہورہے ہیں, ہماری استدعا ہے کہ الیکشن کو ملتوی کیے جائیں۔ لاہور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمنی الیکشن ملتوی کیے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل ثنا اللہ نے مؤقف پیش کیا کہ 11 ماہ میں یہ ایک دن بھی پارلیمنٹ نہیں گئے۔ استعفی دیے اور اس کے بعد اسپیکر کے پاس نہیں گئے۔

جسٹس ایم ایس عتیق شاہ نے ریمارکس دیے کہ وہ کہ رہا ہے کہ ہمارا مقصد صرف حکومت پر پریشر ڈالنا تھا کہ وہ نئے انتخابات کرائے۔

بیرسٹر گوہر خان نے مؤقف اپنایا کہ ہمارے ایک ممبر نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اورعدالت نے ان کے نوٹیفکیشن کو معطل کیا۔ وہ اسمبلی گئے لیکن اسپیکر نے ان کو اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔

عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب حکومت کا اس کیس سے کیا ہے؟ یہ اسپیکر کاکیس ہے۔ آپ فیڈریشن کو ریپرزنٹ کررہے ہیں، اسپیکرتو فیڈریشن نہیں ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ الیکشن ہونا جارہا ہے اور تمام انتظامات مکمل ہیں۔ درخواست گزار ضمنی انتخابات میں امیدوار بھی ہے۔ ملک کی معاشی حالت سب کے سامنے ہیں۔

جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ یہ تو الگ ایشو ہے یہ پارلیمنٹ کا کام ہے۔ آپ اتنی دیرسے عدالت کیوں آئے ہیں؟ ضمنی الیکشن تو قریب ہے۔

بیرسٹر گوہرخان نے دلائل دیے کہ تمام ممبران نے لاہورہائی کورٹ سے رجوع کیا لیکن عدالت نے کہا کہ آپ وہاں جائیں۔

جسٹس سید ارشد علی کہا کہ یہ تمام صوبے میں ضمنی انتخابات ہورہے ہیں اور تمام کورٹس نے الیکشن پراسس کو معطل کیا ہے۔ ہم ان کے آرگومنٹس سے مطمئن ہوں یا نہ ہوں لیکن وہاں پر ضمنی الیکشن معطل کیا ہے۔ ویسے الیکشن میں تو وقت تھا عدالتوں نے جلدی نہیں کیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ الیکشن پرجو خرچ آرہا ہے کیا اس کو ان ہی سے نہ لیں۔ آن نے کہا کہ الیکشن میں دیگر سیاسی پارٹیاں حصہ نہیں لے رہیں جس پروکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ جی پی ٹی آئی کے علاوہ باقی پارٹیوں نے بائیکاٹ کیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ پھرتو ویسے بھی یہ متنازع ہوگا جس پربیرسٹرگوہرخان نے جواب دیا کہ ضمنی الیکشن وقت اور پیسوں کا زیاں ہوگا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو لگتا ہے کہ رزلٹ یہی ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔

جسٹس عتیق شاہ اورجسٹس ارشدعلی نے خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقوں پر ضمنی انتخابات روک دیے اورآئندہ سماعت کیلئے 7 مارچ کی تاریخ دے دی۔

متعلقہ خبریں