وکلا نے گزشتہ روزاسلام آباد ائیرپورٹ سے شعیب شیخ کی گرفتاری کا معاملہ عدالت میں اٹھا دیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایگزیکٹ کیس میں بول نیوزٹی وی کے شریک چیئرمین شعیب شیخ اور دیگر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت شعیب شیخ کے وکلا عابد زبیری اور سردار لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید احسن رضا اور سرکاری وکیل اشفاق نقوی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
شعیب شیخ کی گرفتاری کا معاملہ عدالت میں اٹھایا گیا
وکلا کی جانب سے سماعت کے دوران گزشتہ روز اسلام آباد ائیرپورٹ سے شعیب شیخ کی گرفتاری کا معاملہ عدالت میں اٹھایا۔
وکیل عابد زبیری نے کہا کہ کل کراچی میں بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہوا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے کہہ رہی ہے ہم نے تو گرفتار ہی نہیں کیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا مطلب ایف آئی اے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ شاید ایف آئی اے پنڈی نے گرفتارکیا ہے۔
عدالت نے پوچھا کہ مطلب کسٹڈی میں ہیں۔
وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہیں رکھا ہوا ہے قریب آپ آرڈر کرکے طلب کر لیں جس پرچیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر کسٹڈی ہے تو ظاہر ہے جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس پیش کیا جائے گا۔ مجسٹریٹ کے پاس پیش ہو جائے تو پھر آرڈر کردوں گا۔
وکیل سردارلطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ عدالت گیارہ بجے تک شعیب شیخ کو طلب کرے۔ آپ نے آخری باراستثنیٰ منظور نہیں کیا آپ کی عدالت آتے ہوئے گرفتارہوگئے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سماعت اگلے جمعےکو رکھ لیتے ہیں ، کیا ڈویلپمنٹ ہوئی ہے اگلے جمعے کو بتائیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس کی سماعت اگلے جمعے تک ملتوی کردی۔
سردارلطیف کھوسہ کی بول نیوز سے گفتگو
کوچیئرمین بول نیوزشعیب شیخ کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے بول نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ شعیب شیخ آج عدالت میں پیش ہونے کے لیے آئے تھے انہیں گرفتارکرلیا گیا۔ بنیادی طورپرعدالت کی تحویل سے انہیں محروم کیا گیا ہے اغوا کیا گیا ہے۔ پنڈی ایف آئی اے کی کسٹڈی میں ہیں۔
وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا معززجج نے کہا کہ ایف ا ٓئی اے ایف آئی اے ہے پنڈی اسلام آباد کیا ہے۔ ساری دنیا نے دیکھا ہے کہ انہیں ہتھکڑی لگا کر ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا اورایف آئی اے عدالت کے سامنے مکر گئی۔ معزز جج نے کہا کہ ایف آئی اے نے جو مقدمہ درج کیا ہے اس کی نقول جمع کرائیں۔
انھوں نے مذید کہا کہ صحافی برادری جب تک متحد نہیں ہوگی اور ریاستی جبر کے خالف آواز نہیں اٹھائے گی تو کل کو یہ سب بھی نشانہ بنے گے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کا کو چیئرمین بول نیوز شعیب شیخ کو رہا کرنے کا حکم




















