پسند کی شادی کرنے والے جوڑے نے تحفظ کی فراہمی کیلئے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق لڑکی کے والدین نے بیٹی کے نکاح پر نکاح کرنے کا الزم عائد کرتے ہوئے دوسرا نکاح نامہ عدالت میں جمع کرادیا جبکہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے وکیل نے دوسرے نکاح نامے کو جعلی قرار دے دیا۔
ایڈووکیٹ عرفان عزیزنے مؤقف اپنایا کہ تنویراورسونیا نے سکھر میں پسند کی شادی کی۔ سونیا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صرف تنویر سے نکاح کیا ہے۔ جوڑے کو مسلسل ڈرایا اور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے باہر بھی لوگ کھڑے ہیں جن سے لڑکا لڑکی کو خطرہ ہے۔
وکیل اہلخانہ نے عدالت کو بتایا کہ سونیا پہلے سے شادی شدہ ہے اس کا نکاح نامہ موجود ہے۔ سونیا اور تنویر کی شادی غیر قانونی ہے۔
پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے وکیل نے کہا کہ لڑکے اور لڑکی کو تحفظ فراہمی کیا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے پولیس حکام کو جوڑے کو تحفظ فراہم کرنے اورتفتیشی افسرکو معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔




















