Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نواز شریف انتظار میں ہیں کہ مجھے نااہل کیا جائے یا قتل کردیا جائے، عمران خان

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف انتظار میں ہیں کہ مجھے نااہل کیا جائے یا قتل کر دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ سے روانگی سے قبل صحافی نے ان سے سوال کیا کہ نوازشریف اپنے بھائی کی حکومت میں بھی پاکستان نہیں آرہے، کیا کہیں گے؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ نواز شریف انتظار میں ہیں کہ مجھے نااہل کیا جائے یا قتل کردیا جائے، صحافی نے ایک اورسوال کیا کہ آپ گرفتاری پر بہت مذاحمت کررہے ہیں جس پرانھوں نے جواب دیا کہ میں نے کوئی جرم کیا ہو تو گرفتاری دوں۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ آمد کے موقع  پرسابق وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔ اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سیکیورٹی سے مطمئن ہیں؟ جس پرعمران خان نے جواب دیا کہ سیکیورٹی تو ہے ہی نہیں سیکیورٹی تو صرف اپنی ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ یا آپ ہیں یا ہم،جس پرسابق وزیراعظم نے جواب دیا کہ اس کی کیا حیثیت؟ کس کا نام تم نے لے لیا۔ خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے۔

صحافی کی جانب سے ایک اور سوال کیا گیا کہ اب آپ صحتیاب ہو گئے ہیں کیا کوئی مذاکرات کریں گے؟ پاکستان اور عوام کو سیاسی مفاہمت اور سیاستدانوں کی بات چیت کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے جواب دیا کہ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ آمد

سابق وزیراعظم عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تواس  موقع پران کے آفیشل فوٹو گرافر اور 3 کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

وکیل علی بخاری کے مطابق عمران خان کی گاڑی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندر داخلے کی اجازت مل گئی جبکہ پولیس نے ہائی کورٹ سائیڈ پر تمام گاڑیوں کو روک لیا۔

دوسری جانب پولیس نے پہلے تو عمران خان کی گاڑی کو ہائی کورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تاہم بعد میں گاڑی کو احاطۂ عدالت میں داخل ہونےکی اجازت دے دی گئی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے بائیومیٹرک تصدیق کرائی۔

رجسٹرار آفس عمران خان کی درخواست کو سماعت کے لیے مقررکیا جس کے بعد  اسلام آباد ہائی کورٹ کے  دو رکنی بنچ سماعت کرتے ہوئے عمران خان کی سات مقدمات میں عبوری ضمانت منظورکی۔

سماعت کی تفصیل پڑھنے کےلیے لنک پرکلک کریں

سیکیورٹی حکام کو کمرہ عدالت خالی کرنے کا حکم دیا گیا جس کے بعد عمران خان کی آمد سے قبل کمرہ عدالت خالی کروا گیا اوربم ڈسپوزل سکواڈ نے کمرہ عدالت کی سکریننگ کی۔

عمران خان کے فوٹو گرافر اور 3 کارکن زیرِ حراست

سابق وزیراعظم کی عدالت میں پیشی کے دوران ان کے ہمراہ آنے والے فوٹو گرافر نعمان جی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

عمران خان کی اسلام آباد آمد کے موقع پر پی ٹی آئی رہنما سرور خان اور راجہ بشارت موٹر وے ٹول پلازہ پر کارکنان کے ہمراہ موجود ہیں۔

اس سے قبل بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے جوڈیشل کمپلیکس میں چیکنگ کی۔

متعلقہ خبریں