Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بتایا جائے کہ صاف اور شفاف انتحابات کا انعقاد کیسے ہوگا؟ چیف جسٹس

انتخابات سے متعلق تمام فریقین سے کل تک کے لیے یقین دہانی طلب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بتایا جائے کہ صاف اور شفاف انتحابات کا انعقاد کیسے ہوگا؟ 

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پنجاب اورکے پی میں عام انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کی تاریخ آگے کرنا درست نہیں ہے، جس پر وکیل پی ٹی آئی علی ظفرنے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن ازخود انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا۔

وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ عدالتی حکم کی تین مرتبہ عدولی کی گئی، الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن شیڈیول جاری کیا۔  گورنرکے پی نے حکم عدولی کرتے ہوئے تاریخ مقرر نہیں کی۔

وکیل پی ٹی آئی سے مکالمہ

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ میں توسیع کیسے غلط ہے آگاہ کریں؟

وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے صدرکی دی گئی تاریخ منسوخ کر دی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اورمرکزی رہنما اسد عمر بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

وکیل علی ظفر نے دلائل دیے کہ دوسری خلاف ورزی 90 دن کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کی ہے، الیکشن کمیشن نے آئین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، عدالت نے 90 روز سے تجاوز صرف انتخابی سرکل پورا کرنے کی اجازت دی تھی۔ وزارت داخلہ و دفاع نے سکیورٹی اہلکاروں کی فراہمی سے انکارکیا، آئین انتظامیہ کے عدم تعاون پر انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دیتا، کیا گارنٹی ہے کہ اکتوبر میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ آئین اور اپنے حکم پر عملدرآمد کرائے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالتی حکم پرعملدرآمد ہائی کورٹ کا کام ہے۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ مان لی تو الیکشن کبھی نہیں ہونگے، معاملہ صرف عدالتی احکامات کا نہیں، سپریم کورٹ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کر چکی ہے، دو صوبوں کے الیکشن کا معاملہ ایک ہائی کورٹ نہیں سن سکتی، سپریم کورٹ کا اختیار اب بھی ختم نہیں ہوا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے راستے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ رکاوٹ بنا، سپریم کورٹ ہی بہتر فیصلہ کر سکتی ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، کیا گارنٹی ہے کہ اکتوبر میں سیکورٹی صورتحال بہتر ہو گی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا الیکشن کمشن صدر پاکستان کی دی گئی تاریخ کو ختم کرسکتا ہے، اس معاملے پر سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں، ملکی تاریخ میں الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی مثالیں موجود ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر بھی الیکشن تاخیر سے ہوئے، انتحابات صوبے کی عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔

عدالتِ عظمٰی نے ریمارکس دیے کہ اہم ایشوز اس کیس میں شامل ہیں جس میں سے فیصلے پر عملدرآمد بھی ایک معاملہ ہے، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت تاریخ بڑھانے کو قومی سطح پر قبول کیا گیا، اس وقت تاریخ بڑھانے کے معاملے کو کوئی چیلنج نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ 1988میں نظام حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہوئی، کیا آئین میں نگراں حکومت کی مدت کے تعین کی کوئی شق موجود ہے؟

وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ یہ معاملہ نوے روزمیں الیکشن کروانے سے بھی منسلک ہے جس پرجسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا صدرکی جانب سے دی گئی تاریخ نوے روز میں تھی یا نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے سماعت کل تک ملتوی کرتے یوئے انتخابات سے متعلق تمام فریقین سے کل تک کے لیے یقین دہانی طلب کرلی اور کہا کہ بتایا جائے کہ صاف اورشفاف انتخابات کا انعقاد کیسے ممکن ہے؟ انتحابات ازحد ضروری ہیں، الیکشن کا انعقاد ایک آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ الیکشن صرف اس وقت ہو سکتے ہیں جب حالات سازگار ہوں،۔

عدالتِ عظمٰی نے ریمارکس دیے کہ صاف اور شفاف انتخابات کے لیے سازگار حالات ضروری ہیں، موجودہ سیاسی صورتحال میں پیدا شدہ ہیجانی کیفیت کوعدالت دیکھ رہی ہے، عدالت چاہتی ہے کہ امن و امان سے انتحابات کا عمل مکمل ہو، علی ظفر صاحب آپ اپنی جماعت کو یہ پیغام دے دیں کہ حالات کو پرامن رکھے۔ اشتعال انگیزی سے باز رہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آپ بھی سن لیں امن قائم کرنا آپ کی بھی ذمہ داری ہے، آئین اور قانون عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے، ہمیں یقین دہانی کروائی جائے کہ اگر انتحابات کروائے جاتے ہیں تو وہ آئین اور قانون کے مطابق ہوں، الیکشن کمیشن تو صرف ایک ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کو ہم پاور دیتے ہیں۔

انھوں نے مذید کہا کہ جب آپ کل دوبارہ آئیں تو اپنی کمنٹمنٹ لے کرآئیں، اب میں یہ نہیں کہوں گا کہ کمنٹمنٹ میں کیا ہونا چاہیئے آپ سب کو پتہ ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں انتخابات ملتوی کرانے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اورجسٹس جمال خان مندوخیل میں شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں