پنجاب، کے پی انتخابات کے معاملے میں چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ کیا 8 اکتوبرکوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا؟
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق درخواست پرچیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں لارجربنچ نے سماعت کی۔ لارجربنچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی وضاحت
دورانِ سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں، فیصلہ چار کا تھا تین کا نہیں، جب چار کا فیصلہ ہو تو تین کا فیصلہ اقلیت میں جاتا ہے، فیصلہ تین دو کا نہیں تھا تو الیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے جاری کیا؟ چارججز نے اس معاملے کو نمٹا دیا تھا۔
جسٹس جمال مندوخیل کی اہم وضاحت
آرڈر آف کورٹ 4 ججز کا بنتا ہے
اپنے فیصلے پر قائم ہوں، جسٹس جمال مندوخیل
براہ راست دیکھیں: https://t.co/7PN6qbA9Hd#NationSupportsCJP #SupremeCourt pic.twitter.com/N3RgX7Ct1F— BOL Network (@BOLNETWORK) March 29, 2023
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرڈر اف کورٹ جاری نہیں ہوا تو الیکشن کمیشن کیسے عملدرآمد کرسکتا ہے، آرڈر آف کورٹ چار ججزکا بنتا ہے، اپنے فیصلے پر قائم ہوں، میرے بارے میں غلط تاثر دیا گیا، میرے کل سے منسوب بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ سپریم کورٹ رولز سے متعلق میں نے کہا کہ وہ اندرونی معاملہ ہے۔
سماعت کے دوران وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پرآئے اور کہا کہ پارٹی بننے کی درخواست دائر کردی ہے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ کی درخواست پی ڈی ایم کی طرف سے ہے؟
وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے جس پرچیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ پہلے الیکشن کمیشن کے وکیل کو سنیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن آرڈر کے بغیر کیسے عمل کررہا ہے، چار ججز میں سے 2 میرے بھی سینئر ہیں جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چلیں آپ کی وضاحت اگئی ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ میں نےابھی بات کرنی ہے۔
وکیل فاروچ ایچ نائیک نے کہا کہ انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے، جسٹس جمال کے ریمارکس کےبعد فل کورٹ بنائی جائے جس پرجسٹس جمال خان نے کہا کہ فل کورٹ کیوں وہی 7 ججز بنچ میں بیٹھنے چاہییں۔
فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ فل کورٹ وقت کی ضرورت ہے، پہلے فیصلہ کریں کہ 4/ 3 کا یا 3/2 کا فیصلہ تھا۔ ساری قوم ابہام میں ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ چارججز نے پی ٹی آٸی کی درخواستیں خارج کیں۔ ہمارے حساب سے فیصلہ چار ججز کا ہے۔ چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا۔ جب آرڈر آف کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی؟
الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے عرفان قادرعدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ میری آج پہلی پیشی ہے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ سے پہلے سواتی صاحب کمیشن کے وکیل تھے۔ ہم اس کیس کوآگے لے جانا چاہتے ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔ سپریم کورٹ کےاندرونی معاملے پرجومیرے ریمارکس ہیں وہ کورٹ رولزسے متعلق تھے۔ ان ریمارکس کومیڈیا میں غلط رنگ کرکے پیش کیا گیا۔
وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن کے وکیل کے طور پر عدالت کے سامنے معروضات رکھنا چاہتا ہوں۔ عدالت مجھے نہیں سننا چاہتی تو ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں جس کے بعد وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے کوششیں کیں، الیکشن کمیشن نے سیکشن 57 کے تحت الیکشن کی تاریخیں تجویزکیں۔
یہ بھی پڑھیں: عرفان قادر نے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ، تین مارچ کوعدالتی فیصلہ موصول ہوا۔ الیکشن کمیشن نے اپنی سمجھ سے فیصلے پر عملدرآمد شروع کیا، الیکشن کمیشن نے ووٹ کے حق اور شہریوں کی سکیورٹی کو بھی دیکھنا ہے۔ صدر کی طرف سے تاریخ ملنے پر شیڈول جاری کیا۔
جسٹس منیب اختر بولے کہ آپ کے 22 مارچ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، 22 مارچ کا آرڈر کب جاری کیا جس پروکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ آرڈر 22 مارچ شام کو جاری کیا، جب آرڈر جاری کیا تو کاغذات نامزدگیاں موصول ہو چکی تھیں۔ آرڈر جاری تک شیڈول کے چند مراحل مکمل ہو چکے تھے۔ وزارت دفاع نے الیکشن کمیشن کو فوج کی فراہمی سے انکار کیا۔
وکیل سجیل سواتی نے دلائل دیے کہ آئین کا آرٹیکل 17 پرامن انتخابات کی بات کرتا ہے، آئین کے مطابق انتخابات صاف شفاف پرامن سازگار ماحول میں ہوں، الیکشن کمیشن نے فوج، رینجرز اور ایف سی کو سیکیورٹی کے لیے خط لکھے۔
رانا ثنا اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے
سماعت کے دوران رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے، خواجہ آصف نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر رانا ثنا اللہ کو نیند سے جگایا، وزیر مذہبی امورمفتی عبدالشکور بھی کمرہ عدالت میں سو گئے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ پس منظر کے طور پر ان رپورٹس کا حوالہ دیا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ 22 مارچ کو کیا، اس سے پہلے یہ گراؤنڈز دستیاب تھے، اس کے بعد انتخابات کے حوالے سے میٹنگز ہوئیں، وزارت داخلہ نے بھی 8 فروری کے خط میں امن و امان کی خراب صورتحال کا ذکر کیا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں 20 ارب کا ذکر ہے لیکن کل عدالت کو 25 ارب کا بتایا گیا۔
وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ پانچ ارب روپے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو جاری ہوچکے ہیں، وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کرسکتے، سیکیرٹری خزانہ نے بتایا کہ بیس ارب روپے جاری کرنا ناممکن ہوگا۔ حساس اداروں نے الیکشن کمیشن کو خفیہ رپورٹس دیں، عدالت کہے گی تو خفیہ رپورٹس بھی دکھا دیں گے۔
وکیل سجیل سواتی نے بتایا کہ رپورٹس میں بھکر، میانوالی میں ٹی ٹی پی، سندھو دیش مختلف کالعدم تنظیموں کی موجودگی ظاہر کی گئی۔ الیکشن کے لیے چار لاکھ بارہ ہزار کی نفری مانگی گئی، دو لاکھ ستانوے ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ آٹھ فروری کے لیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں، عدالت نے یکم مارچ کو اپنا فیصلہ دیا، کیا آپ کو فروری میں خیال تھا کہ اکتوبرمیں الیکشن کروانا یے، دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ عدالتی فیصلے سے انحراف کا سوچ نہیں سکتے۔ اگراکتوبر میں الیکشن کروانا تھا تو صدرکو 30 اپریل کی تاریخ کیوں دی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کے علاؤہ بہت سارے سوالات ہیں، جسٹس منیب اختر کے سوالات نوٹ کر لیں۔ اس کے بعد چیف جسٹس جسٹس عمرعطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ دلائل دیں پھر سوالوں کے جواب دیں۔
وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ فوج کی تعیناتی کے بغیرالیکشن کو سیکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہوگا۔ اسپیشل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ان حالات میں پرامن انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکتا، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی نے بتایا کہ کے پی کے میں کالعدم تنظیموں نے متوازی حکومتیں بنا رکھی ہیں، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو مختلف دہشتگرد تنظیمیں متحرک ہیں۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات التوا کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت
حساس اداروں نے الیکشن کمیشن کو خفیہ رپورٹس دیں#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/J4SFa4vNI7— BOL Network (@BOLNETWORK) March 29, 2023
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ خفیہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شیڈو حکومتیں قائم ہیں، 2023 میں سیکیورٹی کے 443 تھریٹس کے پی کے میں موصول ہوئے، کے پی کے میں رواں سال دہشگردی کے 80 واقعات ہوئے، 170 شہادتیں ہوئیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق ان خطرات سے نکلنے میں چھ سے سات ماہ لگیں گے، رپورٹس کے مطابق عوام میں عدم سیکیورٹی کا تاثر بھی زیادہ ہے، خیبرپختونخوا کے 80 فیصد علاقوں سکیورٹی خطرات زیادہ ہیں، امریکی انخلا کے بعد افغانستان سے دہشتگرد حملے کر رہے ہیں۔
’’اگر صدر پاکستان کو نہیں بتایا تو آپ نے غلطی کی ہے‘‘
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جو معلومات آپ دے رہے ہیں وہ سنگین نوعیت کی ہیں، کیا آپ نے یہ باتیں صدرمملکت کے علم میں لاٸیں؟ اگر صدر پاکستان کو نہیں بتایا تو آپ نے غلطی کی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ صدر مملکت نے تاریخ الیکشن کمیشن کے مشورے سے دی تھی، خفیہ رپورٹس میں کہا گیا کہ علاقوں کو کلئیر کرنے میں چھ ماہ لگیں گے۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ سیکیورٹی سے متعلق اعداد و شمار بڑے سنجیدہ ہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ پنجاب نے بھی مختلف علاقوں میں جاری آپریشنز کا ذکر کیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کو علم ہے کہ کچے کے علاقوں میں ہر دو سے تین روز بعد آپریشن ہوتا ہے، پنجاب میں کچے کا آپریشن کب مکمل ہوگا؟
وکیل سجیل سواتی نے جواب دیا کہ پنجاب کے مطابق کچے کے آپریشن مکمل ہونے میں چھ ماہ تک لگ جاٸیں گے۔ الیکشن کمیشن کے پاس خفیہ اداروں کی رپورٹس پر شک کرنے کی گنجاٸش نہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں؟ دو اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں۔ اس پروکیل نے جواب دیا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس میں جو حقائق بیان کیے گئے وہ نظرانداز نہیں کرسکتے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا کوئی طریقہ کار ہے الیکشن کمیشن ان رپورٹس کی تصدیق کروا سکے، وکیل الیکشن نے جواب دیا کہ واقعات میڈیا پر رپورٹ ہو رہے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ایشو تو ہے۔ بیس سال سے ملک میں دہشتگردی کا مسئلہ ہے۔ اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں، 90 کی دہائی میں تین دفعہ الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں ملک میں فرقہ واریت اور دہشگردی عروج پر تھی، 58/2 بی کے ہوتے ہوئے ہر تین سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی، صدر مملکت کو یہ حقاٸق بتائے بغیر آپ نے الیکشن کی تاریخیں تجویزکردیں۔
وکیل سجیل سواتی نے جواب دیا کہ صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر الیکشن کمیشن کو خط نہیں لکھا۔ صدرمملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب میں دہشتگردی کے پانچ واقعات ہوئے، آخری واقعہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ تھا۔
جسٹس منیب اخترنے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر ادارے آپ کو معاونت فراہم کریں تو کیا آپ الیکشن کرواینگے؟ بظاہر الیکشن کمیشن کا سارا مقدمہ خطوط پر ہے، الیکشن کمیشن کا مسٸلہ فنڈزکی دستیابی کا ہے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فنڈز اور اداروں سے معاونت مل جائے تو پنجاب میں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالتِ عظمٰی نے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کیا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود کو آئینی ادارہ کہتا ہے، دو اسمبلیاں تحلیل ہیں الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرتا یے اوراچانک سے اپنا فیصلہ بدل دیتا ہے، الیکشن کمیشن کا مقدمہ آرٹیکل 218 کا ہے۔
’’الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنے سے پہلے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا؟‘‘
وکیل سجیل سواتی نے جواب دیا کہ ہم اپنی آئنی ذمہ داریوں سے انحراف نہیں کر رہے، جسٹس منیب اخترنے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریوں کے لیے تیار ہے، معاونت چاہیے۔ ہر انسانی جان قیمتی ہے، دہشگردی کے واقعات سنگین ہیں، فرنٹ لائن پرعوام کا تحفظ کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ عدالت نے ان حالات کے ساتھ آئین کو بھی دیکھنا یے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو 20 مارچ کو الیکشن کمیشن نے خط لکھا، کابینہ نے 21 مارچ کو الیکشن کمیشن کو جواب میں وزارت دفاع کے موقف کی تائید کی، کابینہ نے کہا کہ الیکشن کے لیے فوج تعیناتی کی منظوری نہیں دے سکتے، کابینہ نے الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے سے بھی معذرت کی۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنے سے پہلے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ الیکشن کمیشن شیڈول منسوخ کرنے سے پہلے عدالت سے رجوع کر سکتا تھا۔ وکیل نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی حکم پرعمل کیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جس عدالتی حکم پر تمام ججز کے دستخط ہیں وہ کہاں ہے؟ صبح سے پوچھ رہا ہوں کوئی بھی عدالتی حکم سامنے نہیں لا رہا۔
’’سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک انتحابات پر امن نہیں سکتے‘‘
وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کی سمجھ کے مطابق فیصلہ 3/2 کا تھا، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت کا مقصد سیاسی نظام کو چلنے رہنے دینا ہے۔ سیاسی جماعت بھی سیاسی نظام کو آگئے بڑھانے کی مخالفت نہیں کرتی۔ ایک مسئلہ سیاسی درجہ حرارت کا ہے، علی ظفر اور اٹارنی جنرل کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر ہدایت لیکر اگاہ کرنے کا کہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک انتحابات پر امن نہیں سکتے، کسی فریق نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، وکیل علی ظفرنے جواب دیا کہ عدالت کو مکمل یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے علی ظفرسے استفسارکیا کہ یقین دہانی کس کی طرف سے ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے تحریری یقین دہانی کروائیں گے۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ حکومت کی پارٹی کی باری آئے گی تو ان سے بھی اس حوالے سے بات کریں گے، جہاں مسئلہ زیادہ ہے اس ضلع میں انتحابات مؤخر بھی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کچے کے آپریشن کیوجہ سے پورے پنجاب میں الیکشن ملتوی کردیا۔ کے پی کے میں الیکشن کی تاریخ دے کرواپس لی گئی۔ اٹھ اکتوبر کی تاریخ پہلے سے مقررکی گی، اٹھ اکتوبر کو کون سا جادو ہو جائے گا جو سب ٹھیک ہو جائے گا؟
وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نے جواب دیا کہ اٹھ اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گی، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتحابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔ عدالت کو پکی بات چاہیے۔
مختصروقفے کے بعد سپریم کورٹ میں سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کی 8 اکتوبرکی تاریخ عارضی نہیں ہے، اگر کچھ علاقوں میں انتخابات کرائے جائیں تو ایجنسیوں کے مطابق وہیں دہشتگردی کا فوکس ہوگا، الیکشن کمیشن کے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے۔
وکیل نے کہا کہ عدالتی سوالات پر الیکشن کمیشن سے ہدایات لی ہیں، ایجنیسیوں کی رپورٹ کے مطابق تھریٹس لیول بڑھ گیا ہے، پرامن اور شفاف انتخابات کا انعقاد بھی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ایجنسیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس دوران الیکشن کیلئے انتظامات مکمل کرلیے جائیں گے۔ صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کےلئے الیکشن کمیشن کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے۔
’’کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیرآئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں؟‘‘
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اداروں سے معاونت نہیں مل رہی، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے، انتخابی شیڈول پر عملدرآمد شروع ہوگیا تھا، اگر کوئی مشکل تھی تو عدالت آجاتے، الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ انتخابات 6 ماہ آگے کیوں کردیے؟ کیا ایسے الیکشن کمیشن اپنی زمہ داری پورے کریگا؟ کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیرآئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں؟
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ انتخابات کرانے کا اختیار کس دن سے شروع ہوتا ہے؟ انتخابی تاریخ مقرر ہونے سے اختیار شروع ہوتا ہے۔
وکیل نے جواب دیا کہ تاریخ مقررہوجائے تو اسے بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔
’’گورنر اور صدر کی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیسے تبدیل کرسکتا ہے؟‘‘
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ صرف پولنگ کا دن نہیں پورا الیکشن پروگرام مؤخرکیا ہے، الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کرسکتا ہے تاریخ نہیں، الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہات پر الیکشن پروگرام واپس لے سکتا ہے۔ گورنر اور صدر کی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیسے تبدیل کرسکتا ہے؟ آئین میں واضح ہے کہ پولنگ کی تاریخ کون دے گا۔ کیا الیشکن ایکٹ کا سیکشن 58 آئین سے بالا تر ہے؟
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کرکے قائل کرنا چاہئے تھا۔ الیکشن کمیشن کو موقع ہے آج بھی عدالت کو قائل کرسکتا ہے۔ کیا 8 اکتوبرکوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا۔ 8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟
وکیل نے جواب دیا کہ 6 ماہ کا وقت مکمل ہونے کے بعد 8 اکتوبرکو پہلا اتوار بنتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا پولنگ کی تاریخ الیکشن پروگرام کا حصہ ہوتی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ پولنگ کی تاریخ الیکشن شیڈول کا حصہ ہوتی ہے؟
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ صدرکی تجویز کردہ تاریخ کمیشن کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی، صدر کو فروری میں ہونے والے اجلاسوں سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ جب معلوم تھا کہ 30 اپریل کو الیکشن نہیں ہوسکتے تو تاریخ تجویز ہی کیوں کی گئی؟
سجیل سواتی نے جواب دیا کہ معاملہ کی حساسیت کا اندازہ مارچ میں ہوا؟ جس پرجسٹس امین الدین خان نے کہا کہ عدالت نے صدر کو آگاہ کرنے سے نہیں روکا۔
وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ الیکشن کیلئے حالات کا جائزہ لینا الیکشن کمیشن کا کام ہے صدر کا نہیں۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ الیکشن شیڈول پرعمل کرنے کا کیا فائدہ ہوا جب آج پھر عدالت میں کھڑے ہیں؟
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگرصدرتاریخ کا اعلان کردیں تو کیا الیکشن کمیشن اختیار استعمال کرکے انتخابات سے انکار کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس بولے کہ الیکشن کمیشن نے پرانا شیڈول ختم کرکے نیا شیڈول جاری نہیں کیا، الیکشن شیڈول کی بجائے الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبرکو جھنڈا لگا دیا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیکشن 58 الیکشن کمیشن کو تاریخ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا۔
چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ چاہتےہیں عدالت 8 اکتوبر کی تاریخ پر مہر لگائے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صرف اپنے حکم کا دفاع کرنا ہے، عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں یہ درخواست گذارنے ثابت کرنا ہے۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ الیکشن شیڈول پرعمل کرنے کا کیا فائدہ ہوا جب آج پھرعدالت میں کھڑے ہیں؟
جسٹس منیب اختر بولے کہ اگر صدر تاریخ کا اعلان کردیں تو کیا الیکشن کمیشن اختیار استعمال کرکے انتخابات سے انکار کرسکتا ہے؟ الیکشن کمیشن کا حکم نامہ بنیادی طور پر مدد کی پکار ہے۔ تمام اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو کیا الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری ظاہر کر سکتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے حکومت پر انحصار کرتا ہے، حکومت نے بتانا ہے کہ وہ مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن حکومت کی بریفنگ پر مطمئن ہے؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر پیسے اور سیکیورٹی مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات ہو سکتے ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ حکومتی معاونت مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات کروا سکتے ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر انتظامی ادارے تعاون نہیں کر رہے تھے تو عدالت کو بتاتے، اگر الیکشن کمیشن حالات سے دس سال مطمئن نہ ہو تو کیا عدالت الیکشن کروانے کا کہہ سکتی ہے؟ وکیل سجیل سواتی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن حقیقت پسندانہ فیصلہ کرے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا تو ہم ڈھونڈیں گے، 1988 میں بھی عدالت کے حکم پر الیکشن تاخیرسے ہوئے تھے، 2008 میں حالات ایسے تھے کہ کسی نے انتخابات ملتوی کرنے پہ اعتراض نہیں کیا، اللہ کرے 2008 والا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دلائل
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا ن نے دلائل دیے کہ گورنر کے پی نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ نہیں دی، جس پرجسٹس منیب اختر نے کہا کہ نگران حکومت نے گورنر کو تاریخ دینے کا کیوں نہیں کہا؟
ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کےلئے تیار ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ کیا گورنر کے پی نے تاریخ کا اعلان کیا ہے؟
کامران مرتضٰی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کو تاریخ سے اگاہ کردیا ہے۔ گورنر نے 28 مئی کی تاریخ دی تھی۔
ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ گورنرکے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ دی ہے، گورنر کا خط کل موصول ہوا ہے ہدایات کےلئے وقت دیں۔
جسٹس منیب اختر بولے کہ عدالت نے فوری اور جلد از جلد تاریخ دینے کا کہا تھا، گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ کس بنیاد پر دی ہے؟ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز 30 اپریل کو پورے ہورہے ہیں، 90 دن سے کم سےکم آگے کی تاریخ 28 مئی کیسےدی گئی؟
وکیل کامران مرتضی نے جواب دیا کہ کل گورنرکے پی سےہدایات لے کرآگاہ کروں گا، اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔




















