عدالت نے لوکل باڈیزایکٹ 2021-22 کوکالعدم قراردینے کی درخواست پرحکومت پنجاب اور دیگر فریقین کونوٹس جاری کردیے۔
لاہورہائی کورٹ میں لوکل باڈیز ایکٹ 2021-22 کی کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالتِ عالیہ نے حکومت پنجاب اور دیگر فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس شمس محمود مرزا نے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید کےوکیل ملک اویس خالد نے دلائل دئیے، جس میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے کرانے کا قانون امتیازی سلوک ہے۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ قانون میں منتخب کی بجائے انتظامی اور مالی اختیارات انتظامی افسران کودینا خلاف آئین ہے۔ قانون میں آزاد امیدوار کوانتخابات لڑنے پر پابندی ماورائے آئین ہے۔
وکیل ملک اویس خالد نے مؤقف اختیار کیا کہ لوکل باڈیز ایکٹ 2021-22 کی بیس سے زائد دفعات آئین اور قانون کے برعکس ہیں، آئین جمہوریت میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا کہتا ہے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں مالی اختیارات انتظامیہ کو منتقل کیے گئے ہیں۔
وکیل درخواست گزارنے مذید کہا کہ چھ ماہ سے لوکل باڈیز کے امور ضلعی افسران چلا رہے ہیں، مقامی منتخب حکومتیں ختم ہوچکیں لیکن الیکشن نہیں کرائے گئے، الیکشن کمیشن لوکل باڈیز الیکشن 120 روز میں کرانے کا پابند ہے۔
وکیل ملک اویس خالد نے استدعا کی کہ عدالت الیکشن کمیشن کو لوکل باڈیز الیکشن پرانے ایکٹ کے تحت کرانے اورلوکل گورنمنٹ ایکٹ کی آئین سے متصادم 20 شقوں کو کالعدم قرار دے۔




















