Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی عمارت میں سہولیات سے متعلق درخواست پراعتراض عائد

اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں سہولیات کے معاملے پردائردرخواست پراعتراض عائد کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں سہولیات کے فقدان کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اعتراض کے ساتھ سماعت کی، وکیل نے بتایا کہ ہماری درخواست پر رجسٹرار ہائیکورٹ کو فریق بنانے پر اعتراض عائد کیا گیا جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو درخواست میں ترمیم کی ہدایت کردی۔

وکیل انعام الرحیم نے کہا کہ ہم درخواست میں ترمیم کر کے دوبارہ جمع کروا دیتے ہیں۔

درخواست گزار محمد انوار ڈار ایڈووکیٹ اپنے وکیل انعام الرحیم کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں منتقلی کے بعد متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ پارکنگ نہ ہونے سے وکلاء اور سائلین کو سخت مشکلات در پیش ہیں۔ خواتین، بزرگ وکلاء اور اپاحج افراد کو عدالت تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ وکلا اور سائلین کیلئے کسی پبلک ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام نہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرنے والے افراد کو 2 کلومیٹر سے زائد پیدل چلنا پڑتا ہے، رجسٹرار ہائیکورٹ خواتین، بزرگ وکلاء اور سائلین کو پارکنگ کا استعمال نہیں کرنے دیتے، سی ڈی اے اور حکومت وکلاء اور سائلین کو سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سی ڈی اے اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی عمارت کو ڈیزائن کرنے میں ناکام رہا ہے، نئی عمارت میں وکلاء اور سائلین کیلئے کوئی انتظار گاہ کا بھی انتظام نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی عمارت کی تعمیر پر اربوں روپے خرچ ہوئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت کی دیکھ بھال پر لاکھوں روپے خرچہ آتا ہے، پاکستان ایک غریب ملک ہے، اتنا خرچہ برداشت نہیں کر سکتا۔

درخواست گزارنے استدعا کی کہ عدالت وکلاء اور سائلین کو ہائیکورٹ کی پارکنگ کے استعمال کی اجازت دے، اگر پارکنگ کی جگہ دستیاب نہیں تو اسلام آباد ہائیکورٹ کو واپس پرانی عمارت منتقل کیا جائے۔

درخواست میں حکومت، وزارت خزانہ، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ، سی ڈی اے اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں