ایپل نے ابھی تک اپنی مصنوعات میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا استعمال نہیں کیا تھا تاہم اب اس نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی اور گوگل کے بارڈ کی طرح مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک نیا چیٹ بوٹ لانے کا عندیہ دیا ہے جسے ایپل جی پی ٹی کا نام دیا گیا ہے۔
ایپل اے آئی کے ساتھ ہی کئی اور ٹولز پر کام کر رہا ہے اس بات کا اعلان بلومبرگ نیوز نے حال ہی میں کیا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی اے آئی کا سب سے مقبول سافٹ ویئر ہے جو انسانوں سے بات چیت کر کے ان کے مسائل کرتا ہے، اور ایپل ایک ممکنہ حریف کے طور پر اپنا ایپل جی پی ٹی بھی تیار کر رہا ہے۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایپل ’’ایپل جی پی ٹی ‘‘کوڈ نام کے ساتھ ایک نیا پلیٹ فارم تیار کر رہا ہے۔ تاہم، ایپل نے اس نئی پروڈکٹ کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے تاہم باز گشت ہے کہ یہ اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایپل جی پی ٹی ایپل کے اپنے فریم ورک “Ajax” پر مبنی ہے، تاکہ بڑے لینگویج ماڈل بنائے جائیں۔ یہ اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی اور گوگل کے بارڈ کی طرح اے آئی پر مبنی سسٹمز پر بھی مشتمل ہے۔ Ajax گوگل کلاؤڈ پر چلتا ہے اور اسے گوگل JAX کے ساتھ بنایا گیا تھا۔
ایپل کے معاملے میں، آئی فون بنانے والا Ajax کو بڑے لینگویج ماڈل بنانے اور اندرونی چیٹ جی پی ٹی طرز کے ٹول کی بنیاد کے طور پر کام کرنا چاہتا ہے۔
یہ بات سب ہی جانتے ہیں ایپل نے ابھی تک اے آئی کے حوالے سے کوئی بھی بڑا قدم نہیں اٹھایاتھا اور نہ ہی اس نے اس طرح کا کوئی اعلان کیا تھا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے جارہا ہے۔ یہاں تک کہ جون میں اپنی ڈویلپر کانفرنس میں بھی اس نے بز ورڈ کا ذکر کرنے سے گریز کیاتھا، جبکہ دوسرے بڑی ٹیک کپمنیاں جیسے الفابیٹ اور مائیکروسافٹ کے بالکل برعکس، جنہوں نے اے آئی کو شامل کرنے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کیے ہیں۔
تاہم رپورٹ کے بعد مائیکروسافٹ، نیوڈیا اور الفابیٹ کے حصص میں 1 فیصد سے زیادہ کی کمی اور ایپل کے حصص میں اضافہ نوٹ کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایپل نے اپنی کچھ مصنوعات جیسے ایپل فوٹوز، ڈیوائس ٹیکسٹنگ پر، اور حال ہی میں لانچ کیے گئے مکسڈ ریئلٹی ہیڈسیٹ ویژن پرو میں ایڈوانسڈ اے آئی کو شامل کیا ہے۔پھر بھی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی نئی ٹیکنالوجی کو شامل کرنے میں اپنے ساتھیوں سے کافی پیچھے ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی ٹیمیں اے آئی کی اس تازہ ترین کوششوں میں شامل ہیں، جن کی قیادت کمپنی کے مشین لرننگ اور کے سربراہ جان گیاننڈریا اور ایپل کے اعلیٰ سافٹ ویئر انجینئرنگ ایگزیکٹو کریگ فیڈریگھی کر رہے ہیں۔
ایپل کا نیا ورچوئل اسسٹنٹ کسی بھی مضمون کا خلاصہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر سوالات کے جوابات دیتا ہے جس کے ساتھ اسے تربیت دی گئی ہے، اور رپورٹ کے مطابق، پروڈکٹ پروٹو ٹائپنگ کے لیے اندرونی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ ٹول بنیادی طور پر بارڈ، چیٹ جی پی ٹی اور برنگ اے آئی کی نقل تیار کرتا ہے، اور ایک ویب ایپلیکیشن کے طور پر کام کرتا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ ایپل جی پی ٹی چیٹ جی پی ٹی، بارڈ اور برنگ اے آئی کا نہ صرف حریف بلکہ یہ ان سے مختلف بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
اس چیٹ بوٹ کی تیاری کے لیے ایپل اپنے مقصد کو حاصل کرنے اور نئے ٹیلنٹ کی بھرتی جاری رکھنے کے لیے اے آئی انجینئرز کی بھی تلاش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ ایپل اس انڈر ڈویلپمنٹ جی پی ٹی پلیٹ فارم کی رازداری اور حفاظت پر توجہ دے رہا ہے جسے ایپل کی تمام مصنوعات پر انسٹال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایپل کے پاس ابھی تک ان ٹولز کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے جو وہ تیار کر رہا ہے، لیکن اس کا مقصد اگلے سال اے آئی سے متعلق ایک اہم اعلان کرنا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















