سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے کیس میں فل کورٹ بنانے کی درخواست پر فیصلہ کل سنایا جائے گا، عدالتی عملے نے آگاہ کردیا۔
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل پر دیگر درخواست گزاروں کی رائے بھی سنیں گے۔
وکیل احمد حسین نے کہا کہ جسٹس جواد خواجہ سے ہدایات لیکر آگاہ کروں گا۔
اعتزاز احسن نے فل کورٹ کی تشکیل کی استدعا کی مشروط حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بنچ کی ازسرنو تشکیل سے مقدمہ تاخیر کا شکارہوسکتا ہے، تمام ملزمان کو عدالتی تحویل میں جیل بھیجا جائے تو فل کورٹ پر آمادہ ہوں، پہلے ہم نے خود فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ سینئر وکلاء عدلیہ میں سٹیک ہولڈر ہیں، عدلیہ اور بنچ پر مکمل اعتماد ہے، ضیاء الحق کے دور میں بھی عدلیہ کیخلاف اقدامات پر احتجاج کیا اور جیل گیا، یہ سن کر تکلیف ہوئی کہ دو ججز نے کہا وہ بنچ کو تسلیم ہی نہیں کرتے، عدلیہ کو بنچ کے تنازعات پر اسٹینڈ لینا ہوگا، فوجی حراست میں موجود ملزمان کیخلاف ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔
سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ عوامی اہمیت کا حامل مقدمہ ہے، چھ رکنی بنچ بھی فل کورٹ ہی ہے، وزارت دفاع نے تو چیف جسٹس سمیت دو ججز پر بھی اعتراض کیا ہے، عدالتوں کا مذاق بنایا جا رہا ہے، مناسب ہوگا کہ موجودہ بنچ خود ہی مقدمہ کی سماعت جاری رکھے، فوجی تحویل میں ملزمان کی حالت اچھی نہیں ہے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک مجسٹریٹ نے ملزم کا اعترافی بیان لینے سے بھی انکار کیا تھا، مجسٹریٹ نے کہا ملزم تو اپنے پاؤں پرکھڑا تک نہیں ہوسکتا بیان کیسے لوں، ملزمان کو عام جیل میں بھجوا کر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے، عدالت اسی ہفتے میں مقدمہ کا فیصلہ کرے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ عدلیہ کو تاریخ میں پہلی مرتبہ موقع ملا ہے اسے ضائع نہ کیا جائے، سلمان اکرام راجہ بولے کہ فل کورٹ کی درخواست کی ٹائمنگ پر اعتراض ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے بھی ملزمان کی جیل منتقلی کی استدعا کر دی اوردلائل دیے کہ مناسب ہوگا عدالت مقدمہ کو جلد مکمل کرکے فیصلہ کرے۔
سپریم کورٹ بار نے بھی بنچ سے سماعت جاری رکھنے کی استدعا کر دی جبکہ درخواست گزار زمان وردگ نے فل کورٹ تشکیل دینے کی مشروط حمایت کردی اورکہا کہ ملزمان کو جیل بھیجا جائے تو فل کورٹ پر اعتراض نہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف نے فل کورٹ تشکیل دینے کی مخالفت کی، ان کے وکیل نے کہا کہ بنچ کی اس موقع پر تبدیلی صرف تاخیر کا باعث بنے گی۔
شعیب شاہین نے کہا کہ قاسم سوری کیس کے بعد عدالت نے ہمیشہ ہی لارجر بنچ تشکیل دیے، بنچ حکومتی خواہش پر نہیں بن سکتا کہ کس بنچ کا فیصلہ مانا جائے گا کس کا نہیں، فیصلہ آنے سے پہلے ہی اسے متنازع بنا دیا جاتا ہے، چھٹیوں میں ویسے ہی فل کورٹ دستیاب نہیں ہوتی۔
انھوں نے دلائل دیے کہ ملک میں غیراعلانیہ مارشل لا نافذ ہوچکا ہے، اسلام آباد سے اعظم خان اور ایم این اے کے بھائی کو اٹھا لیا گیا، اعظم خان کا کئی دن بعد اچانک اعترافی بیان سامنے آ جاتا ہے، رینجرز کہتی ہے ہماری وردی میں ملبوس لوگ تھے لیکن ہمارے بندے نہیں تھے، قوم عدلیہ سے امید لگائے بیٹھی ہے۔
تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر جلد کسی نتیجہ پر پہنچے تو آج سماعت کر لینگے، فل کورٹ پر فیصلہ میں تاخیر ہوئی تو کل سنائیں گے، عدالتی عملہ آگاہ کر دے گا کہ بنچ واپس آئے گا یا نہیں۔ دس سے پندرہ منٹ میں فل کورٹ پر مشاورت مکمل ہوئی تو واپس آئیں گے۔
اس سے قبل سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے فوج کی زیرِحراست افراد کے نام عدالت میں جمع کرائے۔ اس کی تفصیل پڑھنے کے لیے لنک پرکلک کریں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















