سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالتِ عظمٰی نے فیصلہ سنا دیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل روسٹرم پرآئے اورعدالت سے کہا کہ گزشتہ روز وکیل فیصل صدیقی کی درخواست میں تین نکات اٹھائے گئے تھے، میں نے عدالت کو ملزمان اور ٹرائل کے حوالے کچھ یقین دہانیاں کروائیں تھیں، ملزمان کو مرضی کا وکیل ،سہولیات کی فراہمی ،اہلخانہ سے ملاقات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مستردکرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کیلئے ججز دستیاب نہیں ہیں۔ موجودہ بنچ کے کچھ ارکان بھی چھٹیاں منسوخ کرکے سماعت کررہے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دیگر ججزنے بھی آگے چھٹیوں پر جانا ہے، سپریم کورٹ کا موجودہ بنچ ہی سماعت سنے گا۔ پہلے بھی دو مرتبہ عدالت نے نو رکنی لارجر بنچز تشکیل دیے تھے، دونوں مرتبہ ہی نو رکنی بنچز چل نہیں سکے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کے سوا کسی کی مدد نہیں چاہیے، عدالت آئین اور قانون کے مطابق اپنا کام کرتی رہے گی، کسی کو پسند آئے یا نہ آئے یہ تاریخی معاملات ہیں، جو بھی صورتحال ہے اس حوالے سے فیصلہ عوام نے کرنا ہے، ہمارا کام مقدمات سننا اور فیصلے کرنا ہے، تاریخ طے کرے گی ہم نے اپنا کام ٹھیک انداز میں کیا یا نہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو شواہد کی ریکارڈنگ، فیصلے میں وجوہات کو شامل کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے، کل وکیل لطیف کھوسہ نےایک ملزم کی صورتحال بارے بتایا تھا، میں نے ذاتی طور پر تمام ملزمان کے بارے میں معلومات حاصل کیں ہیں، 102 میں سے کوئی گرفتار ملزم کوئی ابتر صورتحال میں نہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















