جماعت اسلامی کراچی نے بلدیاتی چیئرمینوں کو بااختیار بنانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی نے بلدیاتی چیئرمینوں کو بااختیار بنانے کے لیے درخواست دائر کردی، حافظ نعیم الرحمن سمیت جماعت اسلامی کے 11 چیئرمینوں کی جانب سے درخواست دائر کی گئی۔
درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سندھ کو فریق بنایا گیا ہے اورمؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ حکومت نے منتخب نمائندوں کے بجائے ٹرانزیشن افسران کو تعینات کررکھا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرکے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
درخواست میں 7 ضلعوں کے ٹرانزیشن افسران کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ منتخب میئر اور چیئرمینز کو بلدیہ عظمیٰ کے انتظامات ، معاشی اقدامات اور دیگر معاملات میں فرائض انجام دینے کے قانونی اختیارات حاصل ہیں، پوری دنیا میں جمہوری نظام کی بدولت لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنایا جاتا ہے، لوکل گورنمنٹ کے فرائض میں شہری مسائل کا حل بھی شامل ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہوچکے اور نمائندے بھی منتخب ہوچکے، صوبائی حکومت نے منتخب نمائندوں کو انتظامی اختیارات دینے کے بجائے ٹرانزیشن افسران تعینات کردیے، استدعا ہے کہ ٹرانزیشن افسران کی تعیناتی غیر قانونی قرار دی جائے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی کہ سندھ حکومت کو ٹرانزیشن افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کی ہدایت کی جائے اورکراچی کے تمام ٹاؤنز اور یوسی چیئرمینوں کو سہولیات کی فراہمی اور اپنے ایڈمنسٹریٹوو پاور استعمال کرنے کا حکم دیا جائے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















