عدالت عالیہ نے سرکاری وکیل کی درخواست پرفیصلہ کرکے رپورٹ پیش کرنےکیلئےمہلت کی استدعا منظورکرتے ہوئے درخواست پرسماعت کل تک ملتوی کردی۔
لاہورہائیکورٹ میں سابق وزیراعلی پنجاب پرویزالٰہی کی نظربندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
سرکاری وکیل نے دلائل دیے کہ درخواست گزارکے وکلا ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب کے پاس درخواست لے کر پیش ہوگئے ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب اج ہی درخواست پر فیصلہ کردیں گے ۔
درخواست گزار کے وکلا نے سرکاری وکیل کے بیان سے اختلاف کیا اورکہا کہ عدالت کے حکم پر ڈی سی لاہور کے پاس پیش ہوئے۔ ڈی سی نے ان کو سننے سے انکار کردیا۔ ڈی سی کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اپ کی درخواست پر فیصلہ کریں گے۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے چوہدری پرویزالٰہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی درخواست پر سماعت کی، مؤقف اختیارکیا گیا کہ درخواست گزار کےشوہر کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات میں ملوث کرتے ہوے گرفتار کر لیا گیا۔
وکیل درخواست گزارنے استدعاکی کہ عدالت نے تمام مقدمات میں پرویز الٰہی کی ضمانتیں منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔ حکومت نے اس کے شوہرکورہا کرنے کی بجائے نظربند کردیا۔ شوہر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ عدالت اہل خانہ کوپرویز الٰہی سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















