لاہور ہائی کورٹ نے تین افسران کےجرمانہ اور شوکاز نوٹس پرعمل درآمد معطل کرنےکے اپنے حکم میں توسیع کردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں آئی جی، ہوم سیکرٹری، آئی جی جیل خانہ جات کو جرمانے اور شوکاز نوٹس کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے تینون افسروں کےجرمانہ اور شوکاز نوٹس پر عمل درآمد معطل کرنے کے اپنے حکم میں توسیع کردی۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے حکومت پنجاب کی درخواست پر سماعت کی، سرکاری وکیل نے کہا کہ پرویزالٰہی کو قانون کے مطابق مقدمات میں گرفتارکیا گیا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ اسپیشل جج سنٹرل نے پرویزالٰہی کی ضمانتیں کو منظورکرلیا۔
وکیل حکومت پنجاب نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے قانون کے تحت پرویزالٰہی کو نظر بند کرتے ہوے اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔ اسپشل جج سنٹرل نے درخواست آنے پر پرویز الٰہی کو عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ اڈیالہ جیل حکام نے پرویز الٰہی کو لولیس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹرائلز کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوے تینون افسران کو 50.50 ہزار روپے جرمانہ کرتے ہوئے شوکاز دے دیے۔
وکیل سرکار نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے جرمانہ کی رقم انکی تنخواہوں سے کاٹنے کق حکم دیا۔ ٹرائل کورٹ ایسا حکم جاری کرنے کا قانونی اختیارنہ رکھتی ہ، عدالت ٹرائل کورٹ کے جرمانہ اورشوکاز نوٹس پر عمل درآمد معطل کرے۔
عدالت نے کہا کہ اس اپیل کو بھی نظربندی کے خلاف درخواست کے ساتھ سماعت کی جائے گئی، عدالت نے سماعت 16 اگست تک ملتوی کردی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















