لاہورہائی کورٹ نے پولیس آرڈر2002 میں ترمیم کرکےعدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ کےجسٹس علی ضیاء باجوہ نے پنجاب پولیس میں سی آئی اےکی تشکیل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔
عدالتی حکم پرسی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ ڈی آئی جی لیگل کامران عادل رپورٹ پیش کی جس میں سی سی پی او نے بتایا کہ موجودہ حالات میں سی آئی اے کی ضرورت ہے۔
ڈی آئی جی لیگل نےعدالت کو بتایاکہ پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم کی سفارش کی ہے جس پرعدالت نے ریمارکس دیے پولیس کی اپنی رپورٹ کے مطابق سی ائی اے کی قانونی حیثیت نہیں ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی سوکراٹھےاوراٹھتے ہی نیا یونٹ بنادے۔
عدالت نے کہا کہ اس وقت سی آئی اے کی پشت پر کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے، پولیس آرڈر میں جلد ترمیم کرائی جائے ایسا نہ ہوکہ پولیس آرڈر دوبارہ چیلنج ہونے پرساری کارروائی ضائع ہو جائے۔
لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت ستمبرکےآخری ہفتے تک ملتوی کردی۔
درخواست گزارثمن بی بی وغیرہ نےکہاکہ سی آئی اے کی تشکیل غیر قانونی ہے، پولیس کی نئی ایجنسی بنانے کے لیے اسمبلی کی منظوری ضروری ہے،
درخواست گزار نے کہا کہ سی آئی اے بغیر قانونی حیثیت کے افراد سے تحقیقات کر رہی ہے، سی سی پی او سی آئی اے میں ڈی آئی جی، ایس پیز اور ڈی ایس پیز کی تعیناتیاں کررہے ہیں، سی سی پی او نے تعیناتیاں کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، عدالت سی آئی اے کو کام سے روکنے کا حکم دے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















