عدالتِ عالیہ نے ملازم کو مستقل نہ کرنےکیخلاف درخواست پرسیکریٹری سی اینڈ ڈبلیوسے رپورٹ طلب کرلی۔
لاہورہائیکورٹ میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ملازم کو مستقل نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو سہیل اصغرسمیت دیگر افسران عدالت پیش ہوئے۔
عدالت نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو درخواست گزار کو سن کر جمعہ کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ نےمحکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ملازم محمد اسلم کی درخواست پر سماعت کی۔
چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ اس کو ریگولر کرنے کا کیا طریقہ ہے، اسے مستقل کیوں نہیں کیا جارہا؟ وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو ادھر ہیں، وہ تفصیل بتادیتے ہیں۔
سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیونے کہا کہ عدالت سے درخواست گزارکا دوہزارپندرہ میں آرڈر ہوا، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سول سرونٹ ایکٹ کے تحت ملازمین کو ریگولر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، ریگولیشن ونگ کی جانب سے درخواست گزارکو پرماننٹ ورک مین بنانے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔
سیکریٹری نے بتایا کہ درخواست گزارکے ساتھ 37 اور بھی کنٹریکٹ ملازمین ہیں، سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے یہ پالیسی جاری نہیں کی۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ پرماننٹ ورکر کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دس ہزار روپے تنخواہ میں ایک ہی جگہ کھڑا رہا، وہ پہلے بھی یہی تنخواہے رہا تھا اور نوٹفکیشن کے اجراء کے بعد بھی وہی، اسے کیا فائدہ ہوا۔آپ کو اس لئے بلوایا یہ آپ بتائیں ، آپ کو سمجھ نہیں آرہی تو عدالت کو بتائیں تاکہ ہم آرڈر کرسکیں۔
اسپیشل سیکرٹری فنانس نے کہا کہ میں اسپیشل سیکرٹری فنانس ہوں، سیکرٹری فنانس ملک سے باہر ہیں، ہمیں دو روز کا وقت دے دیں ، درخواست گزار کو سن بھی لیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دو دن چائیے یا تین؟ سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیونے جواب دیا کہ تین دن دے دیں جس کے بعد عدالت نے کہا کہ ٹھیک ہے اس کو سن لیں، کیس کو جمعہ کے روز کے لئے رکھ رہے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 18 اگست تک ملتوی کردی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















