عدالتِ عالیہ نے پرویزالٰہی کی رہائی کے حکم کیخلاف اپیل پرفریقین کے وکلا دلائل کے لیے طلب کرلیا۔
لاہورہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کی سابق وزیراعلی چوہدری پرویز الٰہی کی رہائی کے حکم کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے کیس کی سماعت 21 اگست تک ملتوی کردی۔
دورانِ سماعت دو رکنی بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کو معطل کرنے کے حکم میں توسیع کرتے ہوئے عدالت نے اپیل پر چوہدری پرویز الٰہی سمیت فریقین کے وکلاء کو دلائل کیلئے طلب کرلیا۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ دو رکنی بنچ کے آرڈر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے جس پرعدالت نے کہا کہ ٹھیک پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر لیتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، انٹرا کورٹ اپیل میں چوہدری پرویز الٰہی، ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
وکیلِ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ کے سنگل جج نے 14 جولائی کو چوہدری پرویز الٰہی کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ دیا، سنگل جج کو تھانہ غالب مارکیٹ اور گجرات انٹی کرپشن کیس میں حفاظتی ضمانت نہ دینے کی استدعا کی۔
درخواست گزارکا مؤقف تھا کہ سنگل جج کو بتایا گیا کہ عبوری ضمانت درخواست پر حفاظتی ضمانت نہ لی جائے۔ سنگل جج نے خلاف قانون دو مقدمات میں پرویز الٰہی کی حفاظتی ضمانت منظور کی، استدعا ہے کہ عدالت سنگل بنچ کا چوہدری پرویزالٰہی کی ضمانت کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
وکیل نے استدعا کی کہ اپیل کے فیصلے تک سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کیا جائے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















