سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے لاپتا افرادکے کیس میں پولیس اورجے آئی ٹیزحکام پراظہارِ برہمی کرتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں 20 سے زائد لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت عدالت نے پولیس اور لاپتا افراد سراغ لگانے سے متعلق تشکیل دی گئی جے آئی ٹیز حکام پر برہمی کا اظہارکیا۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ 26،26 جے آئی ٹیز اجلاس کے باوجود لاپتا افراد کا سراغ نہیں لگایا جاسکا؟ ہمیں کارکردگی سے بتائیں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
سماعت کے دوران تفتیشی افسر، فوکل پرسن محکمہ اور سرکاری وکیل خاموش رہے۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ اس طرح کام نہیں چلے گا، اس کے بعد عدالت نے جے آئی ٹی سربراہ کو طلب کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری خارجہ اور دیگر کو بھی تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ چاروں صوبوں میں کراچی سے لاپتا افراد کا سراغ لگا کر رپورٹ پیش کریں۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے آئی جی سندھ کو بھی سنجیدگی سے معاملے پر توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے 22 ستمبر کو پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















