Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایف آئی اے کیسے پرائیویٹ بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ

دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے اہم ریمارکس دیے، کہا کہ ایف آئی اے کیسے پرائیویٹ بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟

سپریم کورٹ میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ہم نے ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے،  رپورٹ کے مطابق 175 ارب روپے کا نقصان ہوا، رپورٹ میں ایک مجموعی تخمینہ دیا گیا مگر سوسائٹیوں سے وضاحت طلب نہیں کی گئی۔

دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے اہم ریمارکس دیے، کہا کہ ایف آئی اے کیسے پرائیویٹ بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟ ایف آئی اے پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں۔

 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئی بی بھی بظاہر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہے، ان اداروں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے ہاؤسنگ سوسائٹی چلانا نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگرآئی بی کی ہاؤسنگ سوسائٹی ہوگی تو اس کے ساتھ کون مقابلہ کریگا؟  سرکاری اداروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ ہمارے سامنے نہیں، اس معاملے پرالگ سے ازخود نوٹس ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے مذید کہا کہ دیکھتے ہیں از خود نوٹس لینا ہے یا نہیں،  بہتر ہوگا ہمارے سامنے کوئی درخواست آ جائے، ہم ازخود نوٹس لینے میں محتاط ہیں، ازخودنوٹس کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں