لاہورہائی کورٹ نے پرویزالہی کےضمانتی مچلکوں کےحوالےسےسپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل لاہورسے ریکارڈ طلب کرلیا۔
لاہورہائی کورٹ میں سابق وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کی نظربندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران عدالت نے پرویز الہی کےضمانتی مچلکوں کےحوالے سے سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل لاہور سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ آگاہ کیاجائے کہ پرویزالہی کو نظربندی سے پہلے ڈیڑھ دن کیوں نظربند رکھاگیا۔
عدالت نے کہا کہ جیل مینوئل کےتحت قانونی تقاضے پورے کرنے پر پرویز الہی کو کیوں ریلیز نہیں کیا گیا۔
چوہدری پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کےوکیل عامرسعید راں نے دلائل دیے، کہا کہ عدالت نے کسی بھی مقدمے میں پرویز الہی کوگرفتار نہ کرنے کاحکم دیاتھا۔ پرویزالہی کونیب نے بلاجواز گرفتار کرلیا۔
وکیل عامرسعیدراں نے کہا کہ پرویزالہی ضمانت پر تھے نظربندی کا حکم جاری کردیاگیا۔ دو دن تک پرویز الہی کو غیر قانونی طور پر بغیر نظربندی کے رکھا گیا۔ پندرہ اور سولہ جولائی پرویز الہی کو نظربندی کےبغیررکھاگیا۔ اب نظربندی کا نوٹیفیکیشن مدت ختم ہونے پر غیرموثر ہوچکاہے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ پرویزالٰہی کی نظر بندی کی مدت ختم ہو چکی یے۔ رہائی کے بعد پرویز الٰہی کو گرفتار کرلیا گیا ہے، اب درخواست کا جوازنہیں مسترد کی جاٸے۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے پرویزالٰہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی درخواست پر سماعت کی۔
وکیل درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ شوہر کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات میں ملوث کرتے ہوے گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت نے تمام مقدمات میں پرویز الٰہی کی ضمانتیں منظور کر کے رہائی کا حکم دیا۔ حکومت نے شوہرکورہا کرنے کی بجائے نظر بند کر دیا۔ استدعا ہے کہ عدالت پرویزالہی کی نظر بندی کالعدم قرار دے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















