سپریم کورٹ نے والیم 10 کےحصول سےمتعلق براڈشیٹ کی درخواست واپس لینے کی بنیادپر نمٹا دی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پانامہ جے آئی ٹی کا والیم 10فراہمی کیلئے براڈشیٹ کمپنی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ درخواست کے مطابق والیم 10 ثالثی عدالت کی کارروائی کیلئے درکار تھا، ثالثی عدالت کی کارروائی تو مکمل ہوچکی ہے، ثالثی عدالت کی کارروائی کے بعد درخواست غیرمؤثر ہوچکی ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ براڈشیٹ کمپنی کو 28 ملین ڈالر کی ادائیگی بھی 3 سال پہلے ہوچکی۔
وکیل براڈشیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ شریف خاندان کے اثاثوں کا کھوج لگانے کیلئے براڈشیٹ کی خدمات لی گئیں، ملک کو کیسے لوٹ کر جائیدادیں بنائی گئیں سب سامنے لایا گیا، یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ تھا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پررکھ کر فائرنہ کریں۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پانامہ کیس میں عدالت فیصلہ کرچکی، وزیراعظم کو نااہل کیا گیا۔ اپنے دلائل کو پانچ رکنی بنچ کے فیصلے سے تک ہی محدود رکھیں، کیا پانامہ فیصلے میں والیم 10 کے حوالے سے کوئی ہدایت ہے؟
سردارلطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ پانامہ کے حتمی فیصلے میں والیم 10 کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے کچھ نہیں ہے، والیم 10 کو خفیہ رکھنے کا آرڈر حتمی فیصلے میں ضم نہیں کیا گیا۔
وکیل براڈشیٹ نے والیم 10 کے حصول کی درخواست واپس لینے کی استدعا کردی، کہا کہ یہ درخواست واپس لیتا ہوں۔ ہم براڈشیٹ کی طرف سے والیم 10 کیلئے نئی درخوست دائر کرینگے جس کے بعد عدالت نے براڈشیٹ کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔
دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ اور وکیل براڈ شیٹ میں تکرارہوئی، وکیل نے کہا کہ عوام کو پتہ چلنا چاہیے شریف خاندان کی عالمی جائیدادوں سے متعلق والیم دس میں کیا لکھا ہے۔ جے آئی ٹی کی استدعا پر والیم 10 کو پانچ رکنی بینچ نے سیل کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ یہاں عوام کے نہیں براڈشیٹ کے وکیل ہے۔ یہ دلائل دے کر کیا آپ پانچ رکنی بینچ کے فیصلہ پر شک کر رہے پیں؟ کیا پنامہ پانچ رکنی بینچ نے کسی کی طرفداری کی تھی؟ عوام کو والیم 10 کی تفصیلات چاہیےتوعوام خود آجائیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















