توشہ خانہ کیس میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو کل صبح سماعت کرنےکی ہدایت کردی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے بعد کل دن ایک بجے سماعت ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ توشہ خانہ سے متعلق کیس کی کل جلد سماعت کرے۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کل سپریم کورٹ پھر ایک بجے سماعت کرے گی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ بادی النظرمیں توشہ خانہ سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین کے ٹرائل میں غلطیاں ہیں۔ پہلی بات یہ ثابت ہوئی کہ ملزم کو حق دفاع نہیں دیا گیا، دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ ریمانڈ آرڈرکےاگلے ہی دن سزا دے کرملزم کو جیل بھیج دیا گیا، فی الحال ان غلطیوں پرمداخلت نہیں کرینگے۔
ایڈیشنل ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹرائل کورٹ اٹھائے گئے تمام نکات پر فیصلہ دے چکی ہے، فیصلے کیخلاف کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل پر سماعت مقرر ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویزسماعت کے دوران عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ پانچ اگست کو ملزم کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا تو سزا سنائی گئی جس پرجسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا ملزم نے گواہ پیش کرنے کا کہا تھا؟
وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ ملزم کے گواہان کوعدالت نےغیرمتعلقہ قرار دیا تھا، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فوجداری کیس میں گواہ کو غیر متعلقہ کیسے کہا جا سکتا ہے؟
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو اتنی کیا جلدی تھی جو صفائی کا موقع ہی نہ دیا گیا، ٹرائل کورٹ نے اپنے کالعدم شدہ فیصلے کی بنیاد پر کیسے فیصلہ کر دیا؟
چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ اس طرح تو فیصلے میں غلطیاں ثابت ہوگئی ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ غلطیوں کے باوجود عمران خان کے پاس دادرسی کا فورم موجود ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں عدالت آج ہی ملزم کو رہا کر دے، آپ اس طرح کا طرزعمل کیسے اپنا سکتے ہیں؟
اس سے قبل سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کیا تمام اپیلیں ایک ہی فیصلے کیخلاف ہیں؟ جس پروکیل چیئرمین پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہائی کورٹ نے ایک ہی فیصلے میں متعدد درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا، ہر درخواست کے حوالے سے فیصلے کو الگ الگ چیلنج کیا ہے، توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ رکن پارلیمان ہر سال 31 دسمبر تک اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرانے کا پابند ہے،6 ایم این ایز نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سپیکر کو ریفرنس بھیجا، ریفرنس میں اثاثوں سے متعلق جھوٹا ڈیکلیئریشن جمع کرانے کا الزام لگایا گیا، اسپیکر نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا۔
جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے استفسارپر لطیف کھوسہ نے الیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 اور سب سیکشن 4 پڑھا اور دلائل دیے کہ مالی گوشوارے جمع کرانے کے بعد 120 دن میں ہی کارروائی ہوسکتی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نےپوچھا کہ کیا ایک رکن اسمبلی کسی دوسرے کیخلاف شکایت درج کروا سکتا ہے؟ جس پروکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میرے مطابق رکن اسمبلی شکایت درج نہیں کروا سکتا، سپیکر ریفرنس بھیجتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف سپیکر نے ریفرنس بھیجا لیکن 120 دن گزرنے کے بعد۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس تو ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے شکایت کی قانونی حیثیت پر نہیں، ٹرائل کورٹ سے مقدمہ ختم ہوچکا اب کس کو ریمانڈ کیا جا سکتا ہے؟ موجودہ کیس کا سزا کیخلاف مرکزی اپیل پرکیا اثرہوگا؟
لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ عدالت کو گھڑی کی سوئیاں واپس پہلے والی پوزیشن پر لانی ہونگی جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہرمرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیں گرسکتی۔
وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبرکو چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل کرکے شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، لاہورہائی کورٹ نے قرار دیا نہ کوئی فوجداری کارروئی تاحکم ثانی نہیں ہوگی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا لاہورہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی؟ لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرینگے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست وہاں ہی دائر ہوسکتی جس عدالت کی توہین ہوئی۔ وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے فوجداری شکایت درج کرائی، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن نے مقدمہ درج کرانے کی اتھارٹی نہیں دی تھی۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال نے وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھا کہ سیشن عدالت میں کیا آپ کا مؤقف ہے کہ شکایت قابل سماعت نہیں تھی؟ جس پرلطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہمارا مؤقف ہے کہ توشہ خانہ کی شکایت پہلےمجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی۔ آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 193 کو پڑھ کر اپنا سوال بتائیں، آپ کے مطابق اس معاملے پر ابتدائی کارروائی مجسٹریٹ کرکے ٹرائل سیشن عدالت ہی کرسکتی ہے۔
جسٹس مندوخیل نے کہا کہ قانون میں لکھا ہے کہ مجسٹریٹ شکایت کا جائزہ لےکراسے سیشن عدالت بھیجے گا، قانون میں مجسٹریٹ کے جائزہ لینے کا مطلب کیا ہے؟
لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ اس کا مطلب ہے کہ مجسٹریٹ جائزہ لے گا کہ شکایت بنتی بھی ہے یا نہیں؟ قتل ہونہ تو دفعہ 302 کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی، ڈی ای سی کو مقدمہ درج کرنے کا اختیار سیکریٹری الیکشن کمیشن نے دیا تھا، سیکریٹری الیکشن کمیشن کا اختیاراستعمال نہیں کرسکتا،
الیکشن کمیشن کا مطلب اس کا چیف اور چار ممبران ہیں، جج ہمایوں دلاورمقدمہ سننےکے بھی اہل نہیں تھے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ قانون کےمطابق مجسٹریٹ نےتعین کرنا ہوتا کہ مقدمہ وہ سن سکتا ہے یا سیشن کورٹ، جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ موجودہ کیس کا ہائی کورٹ میں زیرالتوا اپیل پر براہ راست اثر پڑے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے توشہ خانہ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کو واپس بھجوانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام نکات ہائی کورٹ میں اٹھائےتوزیادہ مناسب ہوگا۔
وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ میں یہ نکات دوسری مرتبہ اٹھائے جا رہے ہیں، عدالت نے پہلے بھی سارے نکات ہائی کورٹ کو بھیجے تھے، ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود کیس دوبارہ ہمایوں دلاورکو بھیج دیا۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ دائرہ اختیارکا اعتراض اپیل میں بھی اٹھایا جا سکتا ہے، ان نکات پرفیصلہ ہم کریں یا ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہربات پراسلام آباد ہائیکورٹ پراعتراض اٹھارہے ہیں، جس پرلطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ اعتراض نہ کریں تو پھرکیا کریں؟
چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ کردیا تو آپ اپیل کردیں، عدالت کا ہرفیصلہ پبلک ڈومین میں جاتا ہے، عدالت کا فیصلہ ڈسکس ہونا چاہیے ججز نہیں، جس پروکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے سر۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ہائی کورٹ نے چاراگست کو آپ کی درخواستوں پر فیصلہ کردیا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاورنے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیشن عدالت کے خلاف کوئی حکم امتناع نہیں تھا اس نے فیصلہ ہی کرنا تھا، جس پرلطیف کھوسہ بولے کہ قانون میں پھر120 کی حد کیوں دی گئی ہے؟ کیا ساری عمر یہ تلوارلٹکتی رہے گی؟
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ قانون میں لکھا ہے کہ جب ڈیکلریشن کا جھوٹا ہونےکا پتہ چلے گا اس کے 120 دن تک شکایت درج ہوسکتی ہے، چیف جسٹس پاکستان بولے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 800 سے زیادہ ارکان ہیں، الیکشن کمیشن نے سیکڑوں ارکان اسمبلی کے اثاثوں کا جائزہ 120 دن میں تو نہیں لےسکتا، 120 دن کب شروع ہوں گے اس کے لیے مائنڈ آپلائی کرنا پڑتا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پانچ اگست کو اپیل کا فیصلہ ہوگیا آپ نے چینلج بھی کردیا، ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو تعصب کے ساتھ ٹرائل کی تیز رفتاری پر بھی اعتراض تھا، اگرکوئی فیصلہ غلط ہے اس میں مداخلت کرسکتے ہیں، سپریم کورٹ یہاں ہرجج کے تحفظ کے لیے بیٹھی ہے۔ سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ماتحت عدالت تک ہر جج کی عزت برابر ہے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس پاکستان کو جواب دیا کہ جی، جی، ہم نے آپ کے لیے خون دیا ہے، جس پرچیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ہمیں پتا ہے آپ ہمارے ساتھ ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ نے ہمارے لیے یا کسی شخص کے لیے نہیں کرسی اورآئین کے لیے خون دیا۔
لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہم نے قانون کی حکمرانی اورآزاد عدلیہ کے لیے قربانی دے دی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















