سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اٹک جیل میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت کے سامنے لایا گیا اورحاضری لگائی گئی۔
ذرائع کے مطابق عدالت نے حاضری لگانے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر نوٹس جاری کیا گیا جس پرعدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جواب طلب کر لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت، وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی دائر کی گئی۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنے کی درخواست بھی دائر کی گئی اورعدالت سے استدعا کی گئی کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے ضمانت منظورکی جائے۔
وکلا کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقدمہ بنتا ہی نہیں، سیاسی انتقام کیلئے سائفرکیس بنایا گیا۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کی جس کے بعد وہ اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم 5 وکلا پر مشتمل ہے جس میں نعیم پنجوتھا، سلمان صفدر، انتظار پنجوتھا، علی اعجاز بُٹر اور عمیر نیازی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں اپیل کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا معطل کر کے چیئرمین پی ٹی آئی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم سائفرکیس میں ایف آئی اے نے سابق وزیراعظم کی باضابطہ گرفتاری عمل میں لائی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















