Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کیخلاف درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا

شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سےنکالنے کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے عدالت نے19 ستمبرتک ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی۔

سماعت کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے پوچھا کہ 2014 میں جب مقدمات بنے تب گرفتاری کیوں نہیں کی؟ سال 2014 کے مقدمات کا کیا اسٹیٹس ہے؟ ان مقدمات کو دس سال ہوگئے ہیں۔

عدالت نے استفسارکیا کہ کیا وفاقی حکومت سے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی اجازت لی گئی؟ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے۔

حکام نے عدالت کو بتایاکہ ہمیں تفتیشی ایجنسی لکھتی ہے پھر ہی نام شامل کیا جاتا ہے جس پرعدالت نے کہا کہ فاقی حکومت منظوری دیتی ہے جبکہ فہرست وزارت داخلہ تیار کرتی ہے، وفاقی حکومت اپنا اختیار کسی کو دے ہی نہیں سکتی، ای سی ایل میں نام ڈالنے کی بھی وفاقی حکومت ہی منظوری دیتی ہے۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی منظوری سے وزارت داخلہ نام ایف آئی اے کو بھیجتا ہے، تھانہ سیکرٹریٹ میں 2014 کا مقدمہ ہے پولیس نے تب کیوں گرفتار نہیں کیا یہ بھی بتائیں، کیا آئی جی اسلام آباد نے 25 ہزار جرمانہ ادا کیا ہے؟ آئی جی کو کہیں جرمانہ ادا کریں ورنہ توہین عدالت لگا کر جیل بھیجیں گے، آپ نے عدالتی احکامات کو مذاق بنا رکھا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے  شیریں مزاری کیخلاف درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 19 ستمبر تک ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئےکیس کی سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں