Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

’’بنچ کےججز پراعتراض سے متعلق متفرق درخواست مذموم مقاصد کیلئے دائرکی گئی‘‘

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ بنچ کےججز پراعتراض سے متعلق متفرق درخواست مذموم مقاصد کیلئے دائرکی گئی۔ 

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن، ججز پر اعتراض کے معاملے میں 32 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال نے تحریری کیا۔ تحریری فیصلے میں انھوں نے کہا کہ تین ججز پراٹھائے گئے اعتراضات کی قانون کی نظرمیں کوئی اہمیت نہیں، بنچ پر اعتراض کی درخواست اچھی نیت کے بجائے بنچ کے رکن پر ہراساں کرنے کیلئے دائر کی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطابندیال نے فیصلے میں لکھا کہ ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کو سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے چکی، وفاقی حکومت نے متعدد آئینی مقدمات سے ججز کو الگ کرنے کیلئے درخواستیں دائر کیں۔

عدالتِ عظمٰی نے فیصلے میں کہا کہ آڈیو لیک کمیشن میں بھی ایسی ہی مفادات کا ٹکراؤ اور تعصب جیسی بے سر و پا بنیادوں پر درخواست دائر کی، آڈیو لیکس کیس کیخلاف اعتراض کی درخواست دائر کرنے کا مقصد چیف جسٹس پاکستان کو بنچ سے الگ کرنا تھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی وزرا نے مختلف مقامات سننے والے ججز کیخلاف بیان بازی کی، وفاقی وزرا نے صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کیخلاف کیس میں عوامی فورمزپراشتعال انگیزبیانات دیے،  وزرا کا اشتعال انگیز بیانات کا مقصد وفاقی حکومت کے ایجنڈے کو تقویت دینا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے فیصلے میں لکھا کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے ان مقدمات کو انتہائی تحمل اور صبر سے برداشت کیا، کسی عدالتی فیصلے پر حتمی عدالتی فیصلے کی پابندی لازم ہے، فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر آئین میں نتائج دیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ متفرق درخواست عدلیہ پر حملہ ہے،  متفرق درخواست مسترد کی جاتی ہے، بنچ کے ججز پر اعتراض کیلئے دائر کی گئی متفرق درخواست مذموم مقاصد کیلئے دائر کی گئی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں