Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ پر فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستیں قابل سماعت قرار، تاریخ میں پہلی بارفل کورٹ براہِ راست

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں پندرہ رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیخلاف فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستیں قابل سماعت قراردے دیں۔

سال 2015 کے بعد پہلی مرتبہ فل کورٹ کسی مقدمے کی سماعت کر رہا ہے، اس سے قبل فوجی عدالتوں کے قیام پر مبنی 21 ویں آئینی ترمیم کیس فل کورٹ نے سنا تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ کچھ ججز نے پہلے یہ مقدمہ سنا ہوا ہے، کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ سینئرججز کو مقدمہ سننا چاہیے، بہترین حل یہ تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیدی جاتی، پاکستان بار کونسل سمیت تین درخواستوں میں فل کورٹ کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست گزارکے وکیل خواجہ طارق رحیم نے دلائل کا آغازکیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لارجربنچ کے ایک ممبرریٹائر ہوئے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیا۔

وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نئے سربراہ کا ویلکم کرتے ہیں۔ خواجہ طارق رحیم کی جانب سے قانون پر حکم امتناع دینے پر مبنی حکم نامہ کا حوالہ دیا گیا جس پر چیف جسٹس نے طارق رحیم کو روک دیا کہ ماضی کی باتیں نہ کریں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے مطابق 184/3 میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، فل کورٹ اگر قانون درست قرار دے تو اپیل کون سنے گا؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مناسب ہوگا پہلے قانون پڑھ لیں پھر سوالات کے جواب دیں جس پروکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ پہلے جسٹس عائشہ ملک کے سوال کا جواب دینا چاہوں گا، جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ چیلنج کیا گیا قانون پڑھنا چاہتے ہیں یا نہیں؟

وکیل درخواست گزارطارق رحیم نے کہا کہ بار کا عدالت کیساتھ تعاون رہے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ تاخیرکا شکار ہے اس پر معذرت خواہ ہوں۔ ججز فل کورٹ میٹگ کی وجہ سے تاخیر ہوئی جس پروکیل طارق رحیم نے جواب دیا کہ آپ کیلئے ہماری نیک تمنایئں ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پہلا پائلٹ ٹیلی کاسٹ شروع کیا ہے۔ لائیو ٹیلی کاسٹ معاملے پر کمیٹی بنا دی ہے۔ متعلقہ کمیٹی اس معاملہ کو فائنل کرے گی۔

وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ مناسب ہوگا پہلے بیک گرائونڈ بتا دوں، آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ نے 1980 میں اپنے رولزبنائے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز کب اور کیوں بنے اس میں دلچسپی نہیں، جس قانون کو چیلنج کیا ہے اس پر دلائل دیں۔

خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ سپریم کورٹ کو انتظامی طورپرکیسے چلانا ہے یہ فیصلہ خود کورٹ نے کرنا ہے، سپریم کورٹ کے تمام ججز بیٹھ کر رولز بناتے ہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ ایک ہی آفس کو اتنے اختیارات ہونے کو سپورٹ کرتے ہیں؟ کیا آپ کہتے ہیں ماضی میں جو ہوا وہ درست تھا؟

وکیل درخواست گزارخواجہ طارق رحیم نے جواب دیا کہ میں تو 1980 کے رولز کو سپورٹ کرتا ہوں، بنچز کیسے تشکیل دینے ہیں یہ فیصلہ خود سپریم کورٹ کے کرنے کا ہے، جس عدالت نے کہا کہ مناسب ہوگا پہلے آپ اپنے دلائل دیدیں اور سوالات نوٹ کرتے رہیں۔ دلائل کے اختتام پر تمام سوالات کے جواب ایک ساتھ دیجیئے گا۔

خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ آئین کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کو ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 191 میں آئین کیساتھ قانون کا بھی ذکر ہے، وکیل درخواست گزارنے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کئی دہائیوں سے اپنے رولزخود بناتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کی بات سے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کو غیرآئینی قرار دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا مطلب تمام ججز ہیں،  کیا جہاں اختیار ایک یا تین ججز کا ہے وہ غیر آئینی ہے؟

خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ میرا نکتہ یہ ہے کہ رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار ہے پارلیمان کا نہیں جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اپنے آپ کو کیس پر فوکس رکھیں، ادھر ادھر کی بات کی بجائے اپنے کیس پر دلائل دیں۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کا اختیار استعمال کرنا جوڈیشل اختیار ہے، کیا قانون کے تحت بنی کمیٹی کے تین ججز انتظامی سطح پر عدالتی اختیار روک سکتے ہیں؟

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پہلے سوموٹو لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا تھا، ایک بندہ بنچز تشکیل دیکر مقدمات کے نتائج پر اثرانداز ہوسکتا ہے، جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سوموٹو کیسے لینا ہے سپریم کورٹ کا لارجر ببنچ یہ طے کر چکا ہے۔  فیصلے کے مطابق بینچ چیف جسٹس کو سوموٹو لینے کی تجویز کرسکتا ہے۔

جسٹس منیب اختربولے کہ بینچز کی تشکیل انتظامی معاملہ ہے عدالتی نہیں۔

وکیل درخواست گزارخواجہ طارق رحیم نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا اختیارآئین سے مشروط ہے۔ رولز بنانے اور پریکٹس اینڈ پروسیجرکا اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا۔ جس پرجسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے ساتھ قانون کا بھی کہا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ سوال نوٹ کرتے جائیں۔ جبکہ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ کیا کہ رہے ہیں یہ قانون بنانا پارلیمان کا دائرہ کارنہیں تھا یا اختیارنہیں تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ جو باتیں کررہے اس پر الگ درخواست لے آئیں ابھی اپنی موجودہ درخواست پر فوکس کریں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ اس پر مطمئن ہیں کہ بنچ کی تشکیل کا اکیلا اخیتار چیف جسٹس کا ہو؟ آپ اس پر مطمئن نہیں کہ چیف جسٹس دو سنئیر ججز کی مشاورت سے فیصلہ کریں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ خواجہ صاحب میں آپ کی زندگی آسان بنانا چاہتا ہوں اپ نہیں چاہتے، کہا ہے آپ صرف سوال نوٹ کریں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا اس قانون سے چیف جسٹس کو بے اخیتار سا نہیں کردیا گیا۔

خواجہ طارق رحیم کے جواب دینے پرچیف جسٹس پاکستان نے انھیں پھر ٹوک دیا، کہا کہ آپ پھرجواب دینے لگ گئے ہیں میں نے صرف کہا کہ ابھی صرف نوٹ کریں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا صرف قانون بنانے سے سپریم کورٹ کا اختیار متاثر ہوا یا چیف جسٹس کا؟

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خواجہ صاحب میں یہی سمجھا کہ آپ مطمئن ہیں پرانے ماڈل سے، آپ مطمئن ہیں کہ چیف جسٹس اکیلے ہی روسٹرم کے ماسٹر ہوں جبکہ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ خواجہ صاحب کیا اس طرح کے اختیارات پر سادہ قانون کے بجائے آئینی ترامیم نہیں ہونی چائیے؟

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ خواجہ صاحب ایک سادہ سا سوال میرا بھی ہے، یہی پریکٹس اینڈ پروسیجر بنالیں تو ٹھیک ہے۔ آپ یہ کہہ رہے کہ یہی کام پارلیمنٹ کرے تو وہ غلط ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا قانون سازی کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کو غیر مؤثر کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا قانون سازی سے چیف جسٹس کی پاورز کو ختم کیا گیا یا پھرسپریم کورٹ کی؟

وکیل خواجہ طارق رحیم نے دلائل میں کہا کہ آئینی مقدمات میں کم سے کم پانچ ججز کے بنچ کی شق بھی قانون سازی میں شامل کی گئی ہے جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ جس شق پر آپ کو اعتراض ہے کہیں کہ مجھے اس پر اعتراض ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں سے بھی درخواست کروں گا بشمول میرے ہم سب آپ کے لیے مشکل بنا رہے ہیں،  آپ سیکشن 5 کو آئین سمجھتے ہیں یا غیر آئینی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میں سوال آسان بنا دیتا ہوں، آپ اپنے مؤکل کے لیے اپیل کا حق چاہتے ہیں یا نہیں؟

وکیل خواجہ طارق رحیم نے جواب دیا کہ ایک اچھی چیز اگر غیر آئینی طریقے سے دی گئی تو وہ غلط ہے، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے پھر پوچھا کہ سیکشن 5 آئینی ہے یا غیر آئینی؟ وکیل نے جواب دیا کہ یہ غیر آئینی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آپ چائیں تو ہمیں سوالات کے تحریری جوابات دے سکتے ہیں، درخواستیں کیسے 184/3 کے تحت قابل سماعت ہیں وہ بھی بتائیں،  جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر بل عوامی مفاد میں بنایا گیا ہے؟  بظاہر کچھ فیصلوں سے بچنے کیلئے یہ قانون بنایا گیا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پارلیمان کو یہ اختیار کہاں ہے کہ سپریم کورٹ رولز سے بالاتر قانون بنا سکے یا ان میں ترمیم کرسکے؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر کوئی اہم مقدمہ میں دس سال مقرر نہ کروں تو کیا میری یہ مرضی درست ہے؟ پارلیمان نے پابند کیا ہے کہ اہم مقدمات دو ہفتے میں مقررکیا جائے، آپ چاہتے ہیں چیف جسٹس کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو؟ آپ بار بار میری رائے کا لفظ استعمال کرتے ہیں آئینی حوالہ دیں۔

وکیل خواجہ طارق نے کہا کہ کئی بار کہ چکا ہوں کہ اپیل کا حق 184/3 میں ترمیم سے ہی ممکن ہے، جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایکٹ کا سیکشن فور 1956 کے آئین میں تھا لیکن بعد میں نکال دیا گیا، کیا اس قانون سازی کے لیے آئینی ترمیم درکار نہیں تھی؟

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ میرا بھی ایک سوال اپنی فہرست میں شامل کر لیں، اگر 17 جج بیٹھ کر یہی قانون بنا دیں تو ٹھیک ہے پارلیمنٹ نے بنایا تو غلط ہے؟ آپ کا پورا کیس یہی ہے نا یہی ساری بحث آپ کر رہے ہیں؟

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ عدلیہ کی آزادی بنیادی انسانی حقوق میں سے ہے، عدالت اپنے رولز خود بنا سکتی ہے، کیا پارلیمنٹ اپنا قانون سازی کا اختیار استعمال کرتے ہوئے عدلیہ میں مداخلت کر سکتی ہے؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مسلسل سوالات سے ہم آپ کی زندگی مشکل اور ناممکن بنا رہے ہیں، ہمارے سو سوالات میں اصل مدعا تو گم ہو جائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے اندر اپیل کا حق دیا گیا تھا تو کیا وہ غلط تھا؟ ایک فوجی آمر کے دور میں سپریم کورٹ رولز بنے وہ ٹھیک تھے؟ اگر یہ قانون سازی غلط ہے تو وہ بھی غلط تھا۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے خواجہ طارق رحیم کو ہدایت کی کہ آپ سوالات نوٹ کر لیں جواب دینے کی ضرورت نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدہ کالعدم قراردیا تو ملک کو 6.5 ارب ڈالر کی ڈز لگی، آپ چاہتے ہیں ملک کو چاہے ڈز لگ جائے چیف جسٹس کا اختیار کم نہ ہو، مجھے ایسا اختیار دیں بھی تو نہیں لوں گا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پہلے میرے بنیادی سوال کا جواب دیدیں کہ فل کورٹ فیصلے کیخلاف اپیل کون سنے گا؟ جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ فل بنچ ہوگا تو واضح ہے کہ اپیل نہیں ہوگی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس سے تو واضح ہے کہ جس کیس میں اپیل کا حق نہیں دینا اس میں فل کورٹ بنا دیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا فل کورٹ اس پر بھی نہیں بننا چاہیے کہ قانون معطل ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جسٹس اطہرمن اللہ بولے کہ عدلیہ کی بیرونی عناصر سے آزادی اہم ہے تو اندرونی آزادی بھی اہم ہے، پارلمینٹ نے اس قانون سے اندرونی آزادی کو فوکس کیا ہے۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ کیا عدلیہ کی اندرونی آزدای کا معاملہ پارلیمینٹ کے ہاتھ میں دیا جا سکتا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ کے لیے احترام ہے مگر کیا یہ کوئی حل ہے؟

وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات میں کسی اور کی مداخلت ہوگی تو یہ سپریم کورٹ نہیں رہے گی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سوالات نوٹ کریں پھر جواب دیں، خواجہ صاحب آپ ہر سوال کا جواب دینے لگ جاتے ہیں۔ ہم یہاں آپس میں بحث کرنے نہیں بیٹھے کہیں قوانین مجھے بھی پسند نہیں مگر میں نے حلف اُٹھایا ہے، حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق کام کروں گا ہم نے اس کیس میں سوموٹو نوٹس نہیں لیا، ہم پر اتنا بڑا حملہ ہوتا تو ہم کہیں معاملات پر سوموٹو لے چُکے ہوتے، آپ بار بار ذاتی رائے دیتے ہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ آپ ارٹیکل 184/3 پر بات کریں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایک سوال یہ بھی ہے کہ یہ قانون عوامی مفاد کے لیے بنایا گیا؟ جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ  بنیادی سوال درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا ہے، براہ راست سپریم کورٹ آنے کیلئے 184/3 کے تقاضے پورے کریں، بتائیں یہ درخواستیں کیسے عوامی مفاد کا معاملہ ہیں، میری مرضی نہیں چل سکتی ہم کو عوام کے ٹیکسوں سے اپنی مرضی چلانے کی تنخواہ نہیں دیتی۔ ہمیں انصاف کرنے اور بروقت فیصلےکرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

’’میں جب چیف جسٹس ہوں تو میری مرضی نہیں ہوتی‘‘

درخواست گزار خواجہ طارق رحیم نے دلائل مکمل کیے جس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ عدالتی سوالات کے جواب تحریری طورپرجمع کرا دیجئے گا، آپ نے درخواست دی بہت اہم کیس ہے ، میں نہیں لگاتا۔ میری مرضی، میں 10 سال اس کیس کو نہیں لگاؤں گا، آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے، یہاں ہم آئین سے پہلے اللہ کو بھی جوابدہ ہیں، میں جب چیف جسٹس ہوں تو میری مرضی نہیں ہوتی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس کے اختیارات کا عدلیہ کی آزادی سے تعلق نہیں ہے، جبکہ جسٹس اعجازالاحسن بولے کہ یہ بھی بتائیں کہ عدلیہ سے متعلق قانون سازی کس کا اختیار ہے؟ جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ قانون پارلیمان نے نہیں بنانا تو کس نے بنانا ہے؟ لوگوں کو شکایت ہے کہ کیسز نہیں لگتے چیف جسٹس مقدمات مقرر نہیں کرتے، ہم سترہ غیر منتخب افراد جیسے چاہیں فیصلے کریں لیکن عوام پارلیمان کے ذریعے کچھ نہ کہے۔

’’آپ کا آئین سپریم کورٹ سے نہیں اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے‘‘

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ لگتا ہے میرے تمام ساتھی ججزمیرے خلاف ہوگئے ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ  کیا آپ پارلیمنٹ کا دائرہ اختیار محدود کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا کیا نہیں کرسکتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا پارلمینٹ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے رولز میں ترامیم کرسکتی ہے؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ رولز کو چھوڑیں آئین کی بات کریں کیا آپ چیف جسٹس کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں بنانا چاہتے؟ ہم اس قانون سے بھی پہلے اوپر والے کو جواب دہ ہیں مجھے بطور چیف جسٹس آپ زیادہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں، میں تو پھر آپ کی درخواست دس سال نہ لگاؤں تو آپ کیا کریں گے؟ آپ کا آئین سپریم کورٹ سے نہیں اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ سپریم کورٹ سے 184/3 کے تحت ریکوڈک کیس کے فیصلے سے ملک کو ساڑھے 6 ارب ڈالر کی ڈز لگی، اس کیس کا فیصلہ ہوچکا ہے اس لیے میں اس کا حوالہ دے رہا ہوں۔ ریکوڈک کا فیصلہ درست تھا یا غلط اس پر بات نہیں کررہا بلکہ اس فیصلے سے پاکستان کو ہونے والے نقصان پر تبصرہ کررہا ہوں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا دیگر ممالک میں کسی ایسی قانون سازی کی مثال ملتی ہے؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کس بنیادی حق کیخلاف ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ بولے کہ آپ کے مطابق قانون اچھا ہے لیکن پارلیمان بنا نہیں سکتی تھی۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے وکیل سے کہا کہ آپ ہمارے سوالات کہاں لکھ رہے ہیں؟ وکیل امتیازصدیقی نے جواب دیا کہ پورے کا پورا قانون ہی آئین کیخلاف ہے، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بطور ججز ہم نے حلف آئین و قانون پر عمل کرنے کا کیا ہے عدالتی فیصلوں کے تابع ہونے کا نہیں، ملک میں کئی مرتبہ مارشل لاء لگے اس دور میں آنے والے فیصلوں کا پابند نہیں ہوں، آئین پر عمل کرنے کا پابند ہوں، ہم سپریم کورٹ کے فیصلوں کے پابند نہیں، ملک میں متعدد مرتبہ آمریت کو بھی عدالتی فیصلوں نے توثیق کی۔ ہم نے عدالتی فیصلوں پرنہیں بلکہ آئین پرعمل کرنے کا حلف لیا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس آپ کے نہیں ہیں بلکہ قوم کے ہیں۔ قوم کی نمائندہ پارلیمنٹ ہے اور پارلیمنٹرین قوم کے نمائندے ہیں۔

وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ ہمارے چیف جسٹس کے اختیارات ختم کیے جا رہے ہیں، جس پرچیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں نے آپ کو وکیل نہیں کیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قوم کے نمائندے پارلیمان میں ہیں وہ کہتے ہیں چیف جسٹس کو ایسا ہونا چاہیے، جس پرجسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جب آپ قانون کو بہترین مان رہے ہیں تو بتائیں پارلیمان کا اختیار کیسے نہیں ہے؟

وکیل امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ میں نے کبھی قانون کو بہترین نہیں کہا، چیف جسٹس کو اختیار رولز بنا کر سپریم کورٹ نے دیا ہے میں نے نہیں، جس پرجسٹس منصورعلی شاہ بولے کہ جس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے وہ بتائیں، وکیل نے جواب دیا کہ اختیارات کی تقسیم کے تحت عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ اپنے رولز خود بنائیں گے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس بات سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا؟ پارلمینٹ کا یہ اقدام تو عدلیہ کی آزادی کو مضبوط بنائے گا، باہر سے تو کوئی نہیں آیا چیف جسٹس نے تو دو سئنیر ججز سے ہی مشاورت کرنی ہے۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس کے اختیار کو چھیڑنے سے عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑنے والی کوئی بات نہیں، آئین اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسجیر کے لیے ہو سکتا ہے۔

وکیل امتیازصدیقی نے دلائل دیے کہ یہ قانون پارلیمنٹ سے نہیں ہو سکتا فل کورٹ کرسکتا ہے، جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ قانون پارلمینٹ سے ہی آتا ہے اور کہاں سے آنا ہے، ہم سوئے رہیں ارجنٹ کیس بھی مقرر ہی نہ کریں تو وہ ٹھیک ہے، عوام پارلمینٹ کے ذریعے ہمیں کہیں کہ وہ کیس 14 دن میں مقررکریں تو کیا وہ غلط ہو گا؟

وکیل امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ مجھے سانس لینے کی مہلت دیں سب سوالات کے جوابات دوں گا۔ جس پرجسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدیقی صاحب آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی میں جو ہوا اصلاحات ضروری تھی۔

’’میں نے یہ حلف نہیں اٹھایا کہ میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تابع ہوں‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں نے حلف اُٹھایا ہے کہ میں آئین اور قانون کے تابع ہوں میں نے یہ حلف نہیں اٹھایا کہ میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تابع ہوں۔ یہاں کہیں مارشل لا بھی لگے ہیں میں ان فیصلوں کا تابع نہیں۔ میرے سامنے وہ فیصلے پڑیں گے تو روک دوں گا۔ میرے سامنے آئین سے پڑھ کر بتائیں کہ کیا غلط ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاا کہ آپ یہ جانتے ہیں کہ یہ قانون بہت اچھا ہے مگر پارلمینٹ یہ نہیں بنا سکتی، جس پروکیل امتیازصدیقی نے کہا کہ جی میں یہی کہہ رہا ہوں، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آئین تو سپریم کورٹ کی بات کرتا ہے آپ چیف جسٹس کے اختیار پر بات کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقے لگے کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں میں نے آپ کو اپنا وکیل نہیں کیا۔

وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیے کہ پارلیمان بھی آئین کی تابع ہے، ریاست کا ایک ستون دوسرے میں مداخلت نہیں کرسکتا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگریہ قانون صرف چیف جسٹس کا اختیار تقسیم کرتا ہے تو اچھا ہے؟ وکیل امتیازصدیقی نے جواب دیا کہ اختیار تقسیم کرنے کیلئے آئین کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے، مجھے دلائل کا موقع دینگے تو ہی اپنا کیس پیش کر سکوں گا، مقصد کوئی بھی ہو قانون سازی آئین کیخلاف نہیں ہوسکتی۔

’’پارلیمان کون ہوتی ہے تین رکنی کمیٹی بنانے والی؟‘‘

جسٹس منیب اخترنے پوچھا کہ کیا انصاف تک رسائی بنیادی حق نہیں ہے؟ کیا عدلیہ کی آزادی آئین کی بنیاد اور عوام کا حق نہیں ہے؟  اگر فل کورٹ ماضی کی عدالتی نظیریں نہیں مانتی تو اسکی وجوہات بھی بتانی ہونگی، پارلیمان کون ہوتی ہے تین رکنی کمیٹی بنانے والی؟  بینچز تشکیل دینے کیلئے کمیٹی پانچ یا سات رکنی کیوں نہیں ہوسکتی؟ آئین کا دفاع کرنے والی سپریم کورٹ عدلیہ کی آزادی پر قدغن کیسے لگا سکتی ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کا ایک پہلو اندرونی آزادی بھی ہے، چیف جسٹس کا اختیار مقدمات میں بنچ بنا کر مخصوص نتائج لینے کا اختیارعدلیہ کی آزادی کیخلاف ہے، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ دیگر ممالک میں قرعہ اندازی کے ذریعے بنچز تشکیل دیے جاتے ہیں۔

وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز کی ہی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ججز کی جانب سے دیے گئے فیصلے بھی قانون ہی ہوتے ہیں، ججز کے فیصلوں سے بنائے گئے قوانین کیخلاف پارلیمان قانون سازی کیسے کرسکتی ہے، پارلیمان عدالتی فیصلوں کو قانون سازی کے ذریعے بے اثر بھی کرسکتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تین ججز کا بنچ بنانا عدلیہ کی آزادی کیخلاف ہے تو سترہ ججز کا اختیار ایک جج کو دینا کیسے درست ہے؟ جسٹس سردارطارق نے کہا کہ ساتھی ججزسے گزارش ہے کہ پہلے وکیل صاحب کو دلائل دینے دیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاملہ عدلیہ کی انتظامیہ امور میں پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار کا ہے جبکہ جسٹس منصورعلی شاہ بولے کہ چیف جسٹس کے اختیار کو عدلیہ کی آزادی سے نہ جوڑا جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو غیرمؤثر کرسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ہرسوال کا جواب نہ دیں صرف اپنے دلائل دیں۔

’’دوسرے ممالک میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک دن درخواست آئے اگلے روز چیف جسٹس بینچ بنا دے‘‘

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہراختیار پارلیمنٹ کو نہیں دیا جاسکتا جبکہ جسٹس منصورعلی شاہ بولے کہ باقی ممالک میں چیف جسٹس نہیں بلکہ بیلٹ سے بنچ بنتا ہے، یہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ تو سپریم کورٹ کو مضبوط بناتا ہے، دوسرے ممالک میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک دن درخواست آئے اگلے روز چیف جسٹس بنچ بنا دے۔ یہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ تو سپریم کورٹ کو مضبوط بناتا ہے، دوسرے ممالک میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک دن درخواست آئے اگلے روزچیف جسٹس بنچ بنا دے، ہم مرضی کے بینچ بنائیں کیس نہ لگائیں کیا یہ ٹھیک ہے؟ کیا اگر ہم 17 غیر منتخب ججز بیٹھ کر رولز بنائیں تو ٹھیک ہے، اگرمنتخب نمائندے قانون سازی کریں تو کیا برائی ہے؟

وکیل امتیازصدیقی نے آئین کے آرٹیکل 176 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق چیف جسٹس طاقت کا منبع ہیں، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ جو باتیں سب کو معلوم ہیں وہ کرکے وقت ضائع نہ کریں۔

’’اگرغیر متعلقہ دلائل دینگے تو جرمانہ کروں گا‘‘

وکیل نے کہا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں دلائل دیں پھر کہتے ہیں یہ نہ کہیں وہ نہ کہیں، سپریم کورٹ میں صرف چیف جسٹس ہو باقی ججز نہ ہوں تو بھی آئین کے مطابق عدالت چلے گی جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اگرغیر متعلقہ دلائل دینگے تو جرمانہ کروں گا۔

وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ پارلیمان اپنی کارروئی کیلئے خود رولز بناتی ہے، قانون صرف ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں ہوتا جس پرچیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کیا اور کہا کہ ایسے دلائل کسی صورت قبول نہیں کروں گا۔ وکیل امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ آپ اس انداز میں بے توقیر کرینگے تو کیس نہیں لڑوں گا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کیس نہ لڑنا آپکی جوائس ہے، آپ ہماری بات نہیں سنتے جس پر وکیل نے جواب دیا کہ آدھے گھنٹے سے آپ کی ہی سن رہا ہوں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز آئین کے مطابق بنائے گئے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین میں کئی جگہ ایکٹ آف پارلیمنٹ اور قانون کا لفظ الگ الگ استعمال ہوا ہے، ایکٹ آف پارلیمنٹ اور قانون میں فرق کیا ہے؟ جس پرجسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ایکٹ آف پارلیمنٹ قانون نہیں ہوتا؟

وکیل امتیازصدیقی نے جواب دیا کہ قانون ایک وسیع ٹرم ہے جس کا ایک حصہ ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے، روایات اور عدالتی فیصلے بھی قانون ہی ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قانون دنیا کا بدترین قانون بھی ہوسکتا ہے مگر آرٹیکل 184/3 کے تحت دیکھیں گے، آرٹیکل 184/3 تو عوامی مفاد کی بات کرتا ہے آپ بتائیں اس آرٹیکل کے تحت یہ درخواست کیسے بنتی ہے؟ پارلیمنٹ نے صرف یہ کہا کہ چیف جسٹس کا اختیار دو سنیئررججز کے ساتھ بانٹ دیا، اس بات سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا؟ پارلمینٹ کا یہ اقدام تو عدلیہ کی آزادی کو مضبوط بنائے گا۔

وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ یہ قانون پارلیمنٹ سے نہیں ہو سکتا فل کورٹ کر سکتا ہے۔ جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ قانون پارلمینٹ سے ہی آتا ہے اور کہاں سے آنا ہے۔

’’میں اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کروں گا‘‘

چیف جسٹس نے کہا کہ میں اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کروں گا، اس ملک میں کٸی بارمارشل لا لگا، میں ججمنٹس کے نہیں آئین کے تابع ہوں، سپریم کورٹ میں 57ہزار کیسز التوا کا شکار ہے، پارلیمنٹ اگر بہتری لانا چا رہی ہے تواسے سمجھ کیوں نہیں رہے؟ اگر یہ برا قانون ہے تو آٸین کے مطابق جواب دیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا کسی فرد واحد کو لامحدود ناقابل احتساب اختیار دیا جاسکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہ کہ ہمیں صرف یہ بتادیں کونسا بنیادی حق متاثرہوا ہے؟

وکیل امتیازصدیقی نے کہا کہ آئینی اختیارات میں مداخلت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ہر مرتبہ مارشل لاء لگانے والے آمر کو 98.6فیصد ووٹ ملتے ہیں، ہم قانون کو جانچنے کیلئے ریفرنڈم نہیں کروا سکتے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل سے پوچھا کہ چیف جسٹس پاکستان کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیسے ہے؟

وکیل امتیازصدیقی نے جواب دیا کہ میری دلیل ہے قانون اچھاہے لیکن طریقہ کار غلط اپنایا گیا، عدلیہ کو خود اختیارات کو ریگولیٹ کرنا چاہئے تھا۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ پارلیمنٹ کون ہوتا ہے کہ کمیٹی تین رکنی ہی ہوگی، پانچ رکنی کمیٹی کیوں نہیں کرسکتی، کیا پارلیمنٹ فیملی کیسزسننے کیلئے سات رکنی بنچ تشکیل دینے کا قانون بناسکتی ہے؟

وکیل امتیازصدیقی نے کہا کہ اگرمجھے نہیں بولنے دیا جائے گا اور تضحیک ہوگی تو میں جارہا ہوں جس پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ عوام کا خیال کریں۔ وکیل نے جواب دیا کہ میں عوام کی ہی بات کررہا ہوں، مجھے بات ہی نہیں کرنے دی جارہی تو میں چلا جاتا ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کی مرضی ہے جانا چاہتے ہیں تو جائیں ورنہ موجودہ کیس تک محدود رہیں۔

’’چیف جسٹس کو ماسٹر آف روسٹر عدالتی فیصلے میں قراردیا گیا‘‘

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین کے تحت بنائے گئے رولز بھی قانون کا درجہ رکھتے ہیں، اعلی عدلیہ کے دیے گئے فیصلے بھی قانون ہوتے ہیں، انتظامی سطح پر فل کورٹ بھی عدالتی فیصلے کی نفی نہیں کرسکتی، چیف جسٹس کو ماسٹر آف روسٹر عدالتی فیصلے میں قراردیا گیا۔ جب تک عدالت اپنی رائے نہ بدلے انتظامی طور پر فل کورٹ بھی کچھ نہیں کرسکتی۔

وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولزکی ہی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جسٹس منیب اختربولے کہ ججز کی جانب سے دیے گئے فیصلے بھی قانون ہی ہوتے ہیں، ججز کے فیصلوں سے بنائے گئے قوانین کیخلاف پارلیمان قانون سازی کیسے کرسکتی ہے، کیا پارلیمان عدالتی فیصلوں کو قانون سازی کے ذریعے بے اثر بھی کرسکتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تین ججز کا بنچ بنانا عدلیہ کی آزادی کیخلاف ہے تو سترہ ججز کا اختیار ایک جج کو دینا کیسے درست ہے، جسٹس سردارطارق نے کہا کہ ساتھی ججزسے گزارش ہے کہ پہلے وکیل صاحب کو دلائل دینے دیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاملہ عدلیہ کی انتظامیہ امور میں پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار کا ہے۔

وکیل امتیازصدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹ، ایگزیکٹو اور سپریم کورٹ کے رولز الگ الگ ہیں، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایگزیکٹو کے رولز جب چیلنج ہوں گے تو دیکھیں گے آپ سپریم کورٹ رولز بتائیں۔

وکیل امتیازصدیقی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے جوغیرآئینی ہے جس پر جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ آرٹیکل 141 کے مطابق پارلیمنٹ قانون بناسکتی ہے، وکیل نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ کوئی ایسا قانون ہوسکتا ہے جو عدلیہ کو ریگولیٹ کرے، وکیل نے جواب دیا کہ عدالتی دائرہ سماعت اور اختیارات سے متعلق براہ راست کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا، پارلیمنٹ سپلیمنٹری قانون سے صرف عدلیہ کو کسی معاملے پر سفارش کرسکتی ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ چیف جسٹس کے اختیارات اور سپریم کورٹ کی پاور میں فرق ہے۔ اس سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو نہیں چھیڑا گیا۔ پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کی پاور پر قدغن لگائی گئی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اختیارات میں اضافہ بھی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ جسٹس محمد علی مظہربولے کہ کیا اپیل کا حق دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کو الگ کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ الگ نہیں ہوسکتے تو رولز میں کیسے اختیارات دیے گئے ہیں؟

وکیل امتیازصدیقی  نے جواب دیا کہ رولز میں ججز نے اپنے اختیارات چیف جسٹس کے حق میں سرینڈر کیے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کو دیکھ لیں جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ فیصلہ کتنے ججز کا ہے، یہاں کتنے ججز بیٹھتے ہیں۔ فل کورٹ لارجر بنچ کے فیصلے کی پابند نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ رولزایکٹ سے بالاتر کیسے ہوسکتے ہیں؟

وکیل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ عدالتی رولز قانون سے بالاتر ہیں، عدالتی فیصلے کے مطابق آئینی روایات بھی آئین کا درجہ رکھتی ہیں، سپریم کورٹ رولز آئینی ادارے نے بنائے اس لیے قانون سے بالا قرار دیے گئے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا پارلیمان آئینی ادارہ نہیں ہے،  چیف جسٹس نے کہا کہ جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں اس میں یہ نہیں لکھا کہ رولز قانون سے بالاتر ہیں۔

وکیل امتیازصدیقی نے جواب دیا کہ پورا فیصلہ پڑھ دیتا ہوں واضح ہوجائے گا، جس پرچیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ پورے فیصلے کا کہہ کر ہمیں ڈرائیں نہ، نشاندہی کریں ہم پڑھ لینگے۔

وکیل امتیازصدیقی نے کہا کہ اگراس قانون کی توثیق ہوئی تو یہ تاریخ کی بدترین قانون سازی ہوگی۔ جس پرجسٹس منیب اخترنے کہا کہ کیا پانچ رکنی بنچ بیٹھ کر کہہ سکتا ہے فل کورٹ کا فیصلہ غلط تھا؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر تین رکنی بنچ پر پانچ رکنی بنچ کافیصلہ لاگو ہوتا تو ججز کبھی اختلافی فیصلہ نہ دے سکتے۔

’’سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے تو کیا پارلیمنٹ نہیں ہے؟‘‘

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پورا قانون پڑھ لیں اس میں صرف دو چیزیں ہیں، چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیارات کو سپریم کورٹ نے تقسیم کیا، چیف جسٹس کے اختیارات کو ان کے اور دو سینیئر ججز کے درمیان تقسیم کیا گیا، باہر سے کوئی آ کر مداخلت کر رہا توبنیادی حقوق کی خلاف ورزی کہاں ہوئی؟ اگر پارلیمنٹ چیف جسٹس کی بادشاہت ختم کی ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ دوسرا اپیل کا حق دینے سے کون سا بنیادی حق متاثرہوتا ہے؟

جسٹس منیب اختر نے کہ کہ یہ سپریم کورٹ ہے جس کا کام آئین کا دفاع کرنا ہے، ہر بنایا جانے والا قانون قابل عمل نہیں ہوتا۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے تو کیا پارلیمنٹ نہیں ہے؟

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ قانون سے بالا ہے یہ کہاں لکھا ہے؟ اس میں دو بنیادی باتیں ہیں، اس فیصلے میں جو لکھا ہے وہ آپ کی دلیل کی نفی کررہا ہے، ہمیں ڈرائیں مت صرف دلائل دیں، وکیل کا کام ہے بتائے اس فیصلے کے فلاں صفحے پر یہ لکھا ہے، نظرثانی اپیل نے تو سپریم کورٹ کے اختیارکو بڑھا دیا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے آپ کی دلیل سے اتفاق کروں اور درخواست مسترد کردوں، آپ کی دلیل سے متفق ہوتے ہوئے بھی درخواست خارج کرسکتا ہوں، جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ آپکے حق میں نہیں جاتا، وقت بچانے کیلئے اگر پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیں انہوں نے ملک سے باہر جانا ہے، آپ کو دوبارہ بھی دلائل کا موقع دینگے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق کیس کیلئے ویانا جانا ہے، اپنی تحریری معروضات پیش کر چکا ہوں آدھے گھنٹے میں دلائل ختم کروں گا، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ اٹارنی جنرل سے سوالات نہ پوچھیں تاکہ وہ بیرون ملک جا سکیں جس کے بعد سماعت میں تین بجے تک وقفہ کردیا گیا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل شروع کردیے کہا کہ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ درخواستیں کوئی عوامی مفاد کا معاملہ اُٹھا رہی ہیں؟  میرے فاضل دوستوں نے پارلیمنٹ کے اختیار قانون سازی پر بات کی۔ قانون ایک عہدے کے اختیارسے متعلق ہے، قانون سے ادارے میں جمہوری شفافیت آئے گی۔

اٹارنی جنرل کا درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پراعتراض

اٹارنی جنرل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت بنیادی حقوق اور عوامی مفاد کے کیسزسنے جا سکتے ہیں، درخواست گزاروں کا اعتراض قانون نہیں بلکہ قانون سازی کے طریقہ پرہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل عدلیہ کی آزادی کیخلاف نہیں، قانون میں عدالت کا کوئی کام بھی کسی دوسرے ادارے کو نہیں دیا گیا، قانون کے تحت سپریم کورٹ ہی اپنے تمام امورانجام دے گی، امریکا میں سپریم کورٹ بار کونسل اور لارڈ چانسلر کی مشاورت سے ہی رولز بنا سکتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایکٹ اور پارلیمنٹ اور قانون میں کیا فرق ہے؟ آپ اس نکتے پر کیوں آ گئے ہیں؟ کیا آپ کے دلائل ختم ہوگئے ہیں جو درخواست گزاروں کے جواب دے رہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ کیس میں عوامی اہمیت کا سوال موجود ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 1973 کے آئین میں عدلیہ کی آزادی کا ذکرہوا ہے۔

اٹارنی جنرل کا ایکٹ 1935، 1956 اور 1962 کے آئین کا حوالہ

اٹارنی جنرل نے نے ایکٹ 1935، 1956 اور 1962 کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں قابل سماعت نہیں، 1962 کا آئین سپریم کورٹ رولز کو صدر کی پیشگی اجازت سے مشروط کرتا ہے۔ 1973 کے آئین میں عدلیہ کو اس کو اس لیے آزاد بنایا گیا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اس ادارے میں شفافیت لایا، یہ قانون خود عوام کے اہم مسائل حل کرنے کے لیے ہے، قانون کے ذریعے سارے اختیارات اس عدالت کے اندرہی رکھے گئے ہیں، یہ درست ہے کہ عدلیہ کی آزادی ہر شہری سے متعلقہ ہے، 1973ء کے آئین میں بھی قانون سازوں کو درمیان میں سے ہٹایا نہیں گیا۔ میں آرٹیکل 191 کی طرف جاؤں گا میں بتاؤں گا کہ ایکٹ آف پارلمینٹ قانون کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

’’آرٹیکل 184کی شق 3وکلاء اوراشرافیہ کیلئے نہیں یہ معاشرے کیلئے ہے‘‘

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ایکٹ آف پارلمینٹ اور قانون ایک ہیں یا نہیں اس کی اہمیت کیا ہے؟ آپ نے دلائل درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے پرشروع کیے تھے وہ مکمل کریں، آپ نے درخواست گزار کے وکیل کے نقاط پر بات شروع کر دی، ایک قانون اس وقت تک قابل عمل ہے جب تک وہ غلط ثابت نہ کر دیا جائے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر ہے جو قانون کو چیلنج کرے، ہمارے پاس اس معاملے پر ہائی کورٹ سے کم اختیارات ہیں۔ اگر فیصلہ آئے تو کون متاثرہ فریق ہوگا جو اپیل دائر کرے گا،  آرٹیکل 184کی شق 3وکلاء اور اشرافیہ کیلئے نہیں یہ معاشرے کیلئے ہے، مزدوروں، خواجہ سراؤں اور غریبوں کے حقوق کیلئے ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں کہیں چیزیں خلاف آئین ہو رہی ہیں مگر وہ 184/3 میں نہیں آتی، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو 184/3 پڑھنے کی ہدایات کی اور کہا کہ ہائی کورٹ اس قانون کو شاید کالعدم کرسکتی ہے ہم اپیل کے فورم پر اسے سن سکتے ہیں، ہمیں 184/3 اور بنیادی حقوق دونوں کو دیکھنا ہے، آرٹیکل 184 کی شق کے تحت ہمارے اختیارات ہائیکورٹ سے کم ہیں۔

جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ کیا قانون سازی کے کیخلاف دائرکی گئی درخواست بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے دائرکی گئی ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیس یہ نہیں کہ بنیادی حقوق کے نفاذ میں خلل ڈالا ہے جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ قانون انصاف کی فراہمی کیلئے ایک اچھا قانون ہے، کیا پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کرسکتی ہے؟ قانون غیرآئینی ہوسکتا ہے لیکن کیا ہم آرٹیکل 184کی شق 3 کے تحت کیس سن سکتے ہیں۔

’’آرٹیکل 184 کی شق کے تحت ہمارے اختیارات ہائیکورٹ سے کم ہیں‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں کہیں چیزیں خلاف آئین ہو رہی ہیں مگر وہ 184/3 میں نہیں آتی، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو 184/3 پڑھنے کی ہدایات کی اور کہا کہ ہائی کورٹ اس قانون کو شاید کالعدم کرسکتی ہے ہم اپیل کے فورم پر اسے سن سکتے ہیں، ہمیں 184/3 اور بنیادی حقوق دونوں کو دیکھنا ہے، آرٹیکل 184 کی شق کے تحت ہمارے اختیارات ہائیکورٹ سے کم ہیں۔

جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ کیا قانون سازی کے کیخلاف دائرکی گئی درخواست بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے دائرکی گئی ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیس یہ نہیں کہ بنیادی حقوق کے نفاذ میں خلل ڈالا ہے جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ قانون انصاف کی فراہمی کیلئے ایک اچھا قانون ہے، کیا پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کرسکتی ہے؟ قانون غیرآئینی ہوسکتا ہے لیکن کیا ہم آرٹیکل 184کی شق 3 کے تحت کیس سن سکتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں اور بھی غیر آئینی کام ہوتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے یا نہیں یہ طے کرنا ہائیکورٹ کا اختیار ہے جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اگرفیصلہ آئے تو کون متاثرہ فریق ہوگا جو اپیل دائر کرے گا، آرٹیکل 184کی شق 3وکلاء اور اشرافیہ کیلئے نہیں یہ معاشرے کیلئے ہے، مزدوروں، خواجہ سراؤں اورغریبوں کے حقوق کیلئے ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا مینڈیٹ ہائی کورٹ میں کیسے چیلنج ہوسکتا ہے؟ جس پراٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام سوالات نوٹ کرلیے ہیں بعد میں جواب دوں گا، میری نظر میں قانون کا ایک ہی مطلب ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ قانون کا مطلب ایک ہی ہے تو آئین میں کہیں ایکٹ آف پارلیمنٹ اور کہیں قانون کا لفظ کیوں استعمال ہوا؟

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اپیل تو متاثرہ فریق نے کرنا ہوتی ہے، اس کیس میں متاثرہ فریق کون ہوگا۔ ہمیں ایک دو الفاظ میں نہیں پھنسنا چاہیے پورا آئین دیکھنا چاہیے ہیں، متاثرہ فریق وہی ہوتا ہے جیسے کوئی نقصان پہنچا ہو۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیس کو فل کورٹ کے سننے سے اپیل کا حق متاثرہوگا، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اپیل کے بارے میں نے بریک میں بھی سوچا ہے، اپیل کیلئے کسی کے حقوق کا متاثرہونا ضروری ہے، آرٹیکل 10 اے شخصیات سے متعلق بات کرتا ہے سپریم کورٹ سے متعلق نہیں۔

جسٹس یحٰیی آفریدی نے کہا کہ درخواست گزاریہاں انصاف تک رسائی کے حق کا معاملہ اُٹھا رہے ہیں، جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انصاف تک رسائی یقیناََ سب کا حق ہے۔ فل کورٹ کے سامنے معاملہ ہے اس لٸے مدعا سامنے رکھا ہے۔

جسٹس یحیٰی آفریدی نے پوچھا کہ کیا درخواست بنیادی حقوق یقینی بنانے کی بات کر رہی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہاں یہ کیس ہے ہی نہیں کہ یہ قانون کس کے بنیادی حق کے نفاذ میں رکاوٹ ہے۔

جسٹس اعجازالا احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ عوامی اہمیت کا کیس ہے، یہ عوامی اہمیت کا کیس ہے، دوسری جانب بھی یہی مدعا ہے، قانون سپریم کورٹ کی پاور سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بنیادی حقوق کے معاملے کیا پہلے ہاٸیکورٹ نہیں جانا چاہیےتھے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پہلے بھی ایک مقدمہ میں کہا کہ ہاٸیکورٹس سپریم کورٹ سے متعلق کیس دیکھ سکتی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آرٹیکل 10 اے ذرا پڑھ لیں تاکہ ہماری یاداشت تازہ ہو جائے، جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرٹیکل 10 اے میں سپریم کورٹ کا ذکر نہیں۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ بات اس بنیادی اصول کی ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارے اپنے الگ الگ خیالات ہیں آپ آگے چلیں، آپ نے ہمیں مطمئن کرنا ہے ہمیں آپ کو نہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگرچیف جسٹس رولز بنانے کیلئے فل کورٹ اجلاس نہ بلائے تو کیا پارلیمنٹ مداخلت نہیں کرسکتی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ رولز آئین سے متصادم ہیں، سول پٹیشن اورسول اپیل سے متعلق رولزآئین سے متصادم ہیں، اگر چیف جسٹس مقدمات پر بنچ نہ بنائے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا، چار سال سے فل کورٹ میٹنگ نہیں ہو رہی تھی، سپریم کورٹ رولز کو چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ سپریم کورٹ رولزبھی آئین اورقانون کے مطابق ہی بنتے ہیں، پہلے قانون موجود نہیں تھا اب بن گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‏ہمارا کام فیصلے کرنا ہے اپنی مرضیاں چلانا نہیں، اپنی مرضیاں چلانے والوں کو تنخواہ مرضیوں کی نہیں ملتی بلکہ فیصلے کرنے کی ملتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین سپریم کورٹ احکامات کے خلاف اپیل کا حق نہیں دیتا تو کیا سادہ قانون سازی سے دیا جا سکتا ہے۔

جسٹس مظاہراکبرنقوی نے کہا کہ اٹارنی جرنل صاحب آپ اس قانون کا دیباچہ اور شق 3 پڑھیں، ایک قانون بات ہی سپریم کورٹ کے اختیارات کی کر رہا ہے تو ہائی کورٹ میں کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہمالیہ جیسی بڑی غلطی ریکوڈک کیس میں معاہدہ کالعدم قراردیکرکی تھی، کیا اتنی بڑی غلطی ہمیں سمجھنے کیلئے کافی نہیں ہے؟ صبح سے ہم یہ مقدمہ سن رہے ہیں اب تک 150 کیسز کا اضافہ ہوچکا ہوگا، سسٹم تباہ کرنا ہے تو یہ مقدمہ اگلے ماہ بھی سن سکتے ہیں، میں اپنا بوجھ تقسیم کرنا چاہتا ہوں اپنے سرکیوں لوں۔

اتارنی جنرل نے کہا کہ زیادہ لوگ فیصلے کریں تو نتائج اچھے بھی ہونگے اور شفاف بھی۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر یہ دونوں ایک ہی ہیں تو آئین سازوں نے کسی جگہ ایکٹ آف پارلیمنٹ اور کسی جگہ قانون کیوں لکھا؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرڈیننس صدرجاری کرتا ہے مگر وہ ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں ہوتا، آپ سوال نوٹ کریں جو آبزرویشن دی جا رہی ہیں خود کو الگ کرتا ہوں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کس بنچ نے کونسا مقدمہ سننا ہے اس معاملے پر یہ قانون بھی خاموش ہے، کیا تین رکنی کمیٹی چیف جسٹس کو ایک ماہ کیلئے کوئٹہ بھیج سکتی ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیٹی کا کبھی اجلاس ہی نہیں ہوا کیونکہ قانون بننے سے پہلے ہی معطل ہوگیا تھا، کمیٹی خود طے کرے گی کہ اس نے کام کیسے کرنا ہے، جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ سپریم کورٹ کیا ہے، سپریم کورٹ چیف جسٹس اور تمام ججز پر مشتمل ہوتی ہے، کیا وہ گھرمیں بیٹھ کر بھی سپریم کورٹ ہوں گے، ہم ایکڈیمک بحث میں کیوں پڑے ہوئے ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سوموٹو کیلئے عوامی مفاد کا کیس بنتا ہے یا نہیں کمیٹی کیسے طے کرسکتی ہے؟ سوموٹو لینا اورعوامی اہمیت کا حامل ہونا عدالت طے کرسکتی ہے، کیا تین رکنی کمیٹی کا انتظامی فیصلہ چیلنج ہوسکتا ہے؟

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ چیف جسٹس اکیلا سوموٹو لے تو کیا یہ درست ہے اور کمیٹی لے تو غلط؟ جسٹس اعجازالاحسن بولے کہ  کمیٹی کو قانون میں عدالتی اختیارات دیے گئے ہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں لفظ سپریم کورٹ لکھا ہوا ہے،  سپریم کورٹ کا مطلب ہے چیف جسٹس اور تمام ججز۔

جسٹس منیب اختترنے کہا کہ اگرآئندہ پارلیمنٹ پھراختیار چیف جسٹس کو دے دیتی ہے تو تب کیا ہوگا؟ جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئندہ پارلیمنٹ جب ایسا کرے گی تو اس کودیکھ لیا جائے گا، ہمارےپاس معاملہ آئندہ پارلیمان کا نہیں۔ ہم مجودہ معاملے کو دیکھ رہے ہیں، اس میں آئندہ پارلیمان کی بات نہیں۔ ہمیں وقت ضائع کرنے کی بجائے فیصلہ کرنا ہے۔ پہلے ہی 57 ہزار کیسز التوا کا شکار ہیں۔ جب تک یہ کیس سن رہے ہیں 150 کیس اور رجسٹرڈ ہوچکا ہوگا۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ میں کوئی مفروضوں پربات نہیں کررہا، میرا سوال موجود ہے۔ جبکہ جستس مظاہرنقوی نے کہا کہ کیا کمیٹی میں متاثرہ فریق کیس عوامی اہمیت کا ہونے پردلائل دے سکیں گے؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ رجسٹرارآفس کئی آئینی درخواستوں پر اعتراض لگاتا ہے، کئی غیرسنجیدہ درخواستوں پر رجسٹرار اعتراضات میں نے چیمبرمیں برقرار رکھے، ایک جج چیمبر میں فیصلہ کرے تو کہانی ختم ہوجاتی ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون میں کوئی حق متاثر نہیں ہو رہا۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ رجسٹرارکا فیصلہ چیمبر میں چیلنج ہوتا ہے کمیٹی کا نہیں ہوسکتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر 184/3 میں شنوائی نہ ہو تو ملکی قوانین دادرسی کے فورم ختم نہیں ہوجاتے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1980 سے رولز میں ترمیم نہیں کی جس وجہ سے پارلیمنٹ نے قانون بنایا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میرے سوال کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بنیادی سوال سادہ قانون سازی سے اپیل کا حق دینے کا ہے، اپیل کا حق دینا ممکن ہے تو آرٹیکل 185 میں بھی دوسری اور تیسری اپیل بھی دیدیں۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ اپیلیں اور ان کا دائرہ کار بڑھانے سے نظرثانی کا آئینی نکتہ غیر فعال ہوجائے گا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فل کورٹ فیصلے کیخلاف اپیل والے سوال پر کیا جواب دینگے؟ جسٹس منصورعلی شاہ بولے کہ میری نظر میں فل کورٹ فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہیں ہوگا، جبکہ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ اگر نو رکنی بنچ 184/3 میں فیصلہ کرے تو اپیل کا حق تب کیسے برقرار رہے گا؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس طرح تو عدالت جب چاہے گی جس کا چاہے گی اپیل کا حق ختم کر دے گی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس حساب سے پہلے ہی دن آٹھ رکنی بنچ بھی مقدمہ نہیں سن سکتا تھا۔ اگر آج خدشہ ہے کہ اپیل کا حق ختم ہورہا ہے تو پہلے بھی ہونا چاہیے تھا۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ فل کورٹ درخواستوں پر پہلے بھی یہ سوال اٹھایا گیا تھا، جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ بنچ پراعتراض کا مطلب ایکٹ کو تسلیم کرنا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے قانون برقراررکھا تو کمیٹی اپیل مدنظررکھ کرہی بنچ بنائے گی۔ جس پرجسٹس منیب اخترنے کہا کہ اس کا مطلب ہے پارلیمان نے طے کر لیا کہ کبھی فل کورٹ نہیں بن سکتا۔

اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے کہا کہ ریکوڈک اورکار کے کیسز 184/3 میں سنے گئے تھے، اسٹیل مل منافع میں تھی جب سوموٹو لیا گیا، ان نقصانات کو دیکھتے ہوئے اپیل کا حق دیا جانا ضروری ہے۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ معاملہ پھربھی فل کورٹ اورلارجربنچ کیخلاف اپیل کا ہے جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ریکوڈک کا فیصلہ تین رکنی بنچ نے کیا تھا، ملک کا نقصان کرنے سے پہلے اختیارچھوڑ دینا بہتر سمجھوں گا۔ ملک کو 6.5 ارب ڈالر کا نقصان ہو تو صرف عدلیہ نہیں پاکستان کی آزادی بھی متاثر ہوگی۔ بھٹو کیس میں پہلا فیصلہ منقسم تھا لیکن نظرثانی کا فیصلہ متفقہ تھا، مان لیں ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں، ہم آمریت کو دوام بخشتے رہے ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں