Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ؛ معلومات تک رسائی سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معلومات تک رسائی کے حوالے سے دنیا میں مروج طریقہ کارسے متعلق تفصیلات و تمثیلات طلب کرلیں۔

عدالتِ عظمٰی نے درخواست گزار کو بھی تحریری طور پر معروضات دو ہفتے میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپنے جواب میں یہ بھی بتائیں کہ کیا ہم یہ کیس سن سکتے ہیں؟ جبکہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت پیچیدہ قانونی نکات اٹھائے ہیں۔ ہم دنیا میں جاری پریکٹس کا بھی جائزہ لیں گے۔

شہری کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے آغاز میں چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزارسے استفسارکیا کہ آپ نے کونسی تفصیلات مانگی تھیں؟

درخواست گزار نے جواب دیا کہ گریڈ 1-22 تک عدالتی عملے کی تفصیلات مانگی تھیں جو فراہم نہیں کی گئیں۔ خواتین، معذور اور مستقل و عارضی ملازمین کی تعداد بھی مانگی تھی جس پرچیف جسٹس فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ آپ نے ان معلومات کا کرنا کیا ہے؟

درخواست گزارنے جواب دیا کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت یہ بتانے کا پابند نہیں ہوں، جس پرچیف جسٹس نے پوچھا کہ صرف اپنی معلومات کیلئے پوچھ رہا ہوں معلوم ہے آپ قانونی طور پر بتانے کے پابند نہیں۔

درخواست گزارمختاراحمد نے کہا کہ ملکی اداروں میں شفافیت کیلئے کام کر رہا ہوں اس لئے معلومات درکار ہیں، قانون اور آئین میں کسی آئینی ادارے کو معلومات تک رسائی سے استثنیٰ نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ انفارمیشن کمیشن میں رجسٹرار آفس نے کیا جواب جمع کرایا تھا؟ کیا رجسٹرار آفس نے آپ کو معلومات دیں؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ رجسٹرار آفس نے کمیشن کو آرڈر واپس لینے کا کہا، رجسٹرار کا مؤقف تھا کمیشن سپریم کورٹ سے متعلق آرڈر نہیں دے سکتا، معاملہ رٹ میں ہائیکورٹ گیا سنگل بینچ کا فیصلہ آچکا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ ناقابل تصورہے کہ سپریم کورٹ خود درخواست گزار بن کر کسی عدالت جائے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز رجسٹرار کو سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست گزار بننے کا اختیار نہیں دیتے جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کل کمیشن سپریم کورٹ ججز کی پرائیویٹ فیملی معلومات پبلک کرنے کا کہہ دے تو کیا ہوگا؟ کیا پھر وہ آرڈر بس نظرانداز کر دیں گے یا چیلنج ہو گا؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ بھی بتائیں پھر وہ آرڈر فیملی چیلنج کرے گی یا سپریم کورٹ؟ جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کی تعریف میں چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تمام ججز آتے ہیں۔ مجاز اتھارٹی آئین کے مطابق فل کورٹ بنتی ہے۔ چیف جسٹس اور ججز مجاز اتھارٹی ہیں، فیصلہ انہوں نے کرنا ہوتا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ مجازاتھارٹی نہیں بنتی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہ کیا ایڈیشنل اٹارنی جنرل اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میں مجاز اتھارٹی سے متعلق اٹارنی جنرل کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کیا یہ اپنی نوعیت کا انفرادی اورپہلا کیس ہے، دنیا میں معلومات تک رسائی سے متعلق کیا پریکٹس ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس نوعیت کے کسیز آئے ہیں۔ جبکہ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ پر معلومات تک رسائی کے ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟ جس پراتارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی، سپریم کورٹ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ خود سے ایسا اختیار استعمال نہیں کرسکتے۔ انتظامی سطح پر اگر فل کورٹ رجسٹرار کو اختیارات دے تو رجسٹرار ایسا اختیار استعمال کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو رجسٹرار سپریم کورٹ کی نمائندگی کرنے پر کتنی فیس ملی؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے جواب دیا کہ میں نے ایک روپیہ بھی فیس نہیں لی۔

اتارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل انیس کے تحت معلومات تک رسائی کے قانون کو سپریم کورٹ کیلئے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا،  سپریم کورٹ عوام عامہ کے تحت رولز میں ترمیم کرکے معلومات کے حصول کیلئے ایک افسر مقرر کرے، مقرر کردہ افسر انفارمیشن سیکشن کے زریعے درخواست آنے پر معلومات فراہم کر دے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر میں کہوں سپریم کورٹ میں اس وقت دو خواجہ سرا بھی کام کر رہے ہیں تو آپ ان کے نام یا تفصیل نہیں پوچھ سکتے، یہ تو پرائیویٹ معاملہ ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ خود معلومات کے حصول کے قانون کو استعمال کر سکتی ہے؟ جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قانون افراد کیلئے ہے اداروں کیلئے نہیں ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مسکراتے ہوئے استفسارکیا کہ کیا سپریم کورٹ کی معلومات فراہم کرنے سے عدلیہ کی خودمختاری پر حرف تو نہیں آئے گا، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے معلومات تک رسائی کے معاملے پر سپریم کورٹ کی معلومات کے حصول سے متعلق کیس پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں