Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پارلیمان کچھ کرےتوسب کوحلف یادآجاتا ہے، پارلیمنٹ کی قدرکرنی چاہیے، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ بہ طورچیف جسٹس اپنے اختیاربانٹ رہا ہوں، عدالت کی آزادی ہوگی توعوام کے لیے بہتری ہوگی۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کےخلاف دائر 9 درخواستوں پرچیف جسٹس پاکستان قاضی فائرعیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کر رہا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 15 رکنی فل کورٹ بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان کچھ کرےتوسب کوحلف یادآجاتا ہے، پارلیمنٹ کی قدرکرنی چاہیے،  بہ طورچیف جسٹس اپنے اختیاربانٹ رہا ہوں، عدالت کی آزادی ہوگی توعوام کے لیے بہتری ہوگی۔

سپریم کورٹ میں پریکٹس پروسیجرایکٹ سے متعلق پہلے وقفے کے بعد کیس کی سماعت ہوئی تو درخواست گزارمدثر حسن کے وکیل حسن عرفان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ تمام عدالتی سوالات کے جواب آئین میں موجود ہیں۔ پارلیمان نے قانون سازی کی آڑ میں دراصل میں آئین میں ترمیم کر دی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ اب تک درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دے رہے ہیں؟ صرف یہ بتا دیں کہ کون کون سی دفعات سے آپ متفق یا مخالف ہیں، جس پرحسن عرفان نے جواب دیا کہ سوال پوچھا گیا تھا قانون کس بنیادی حق سے متصادم ہے، انصاف بنیادی حق ہے جس کا تعلق تمام بنیادی حقوق سے ہے، آرٹیکل 184 تین خاموش ہے کہ کون سا خاص حق متاثرہو گا تو نوٹس ہو سکے گا۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ آپ مفاد عامہ کی بات کر رہے ہیں جس میں آئین کے پہلے حصے میں لکھے بنیادی حقوق آتے ہیں جب کہ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا انصاف تک رسائی کیلئے قانون سازی نہیں ہوسکتی؟ درخواست گزار اس کیس سے کیسے متاثرہ فریق ہے؟

حسن عرفان نے کہا کہ میرا مؤکل وکیل ہے اور نظام انصاف کی فراہمی کا اسٹیک ہولڈر ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ انصاف تک رسائی کیلئے بنیادی شرط آزاد عدلیہ بھی ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر قانون کا مقصد انصاف تک رسائی ہے تو فل کورٹ کیخلاف اپیل کا حق کیوں نہیں حاصل ہوگا؟

حسن عرفان نے جواب دیا کہ قانون سازوں کے ذہن میں شاید یہ سوال کبھی آیا ہی نہیں تھا، پارلیمان سپریم ضرور ہے لیکن آئین کے بھی تابع ہے، چیف جسٹس، وزیراعظم اور صدر تینوں نے آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

’’جب مارشل لا لگتا ہے سب ہتھیار پھینک دیتے‘‘

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ حلف میں آئین کیساتھ قانون کا بھی ذکر ہے اسے مدنظر رکھیں، جب مارشل لا لگتا ہے سب ہتھیار پھینک دیتے ہیں، مارشل لا لگے تو حلف کو بھول جایا جاتا ہے، پارلیمان کچھ کرے تو سب کو حلف یاد آ جاتا ہے، مارشل لا کیخلاف بھی درخواستیں لایا کریں وہاں کیوں نہیں آتے؟ اس کمرے میں بہت سی تصاویر لگی ہیں جو مارشل لاء آنے پر حلف بھول جاتے ہیں۔ پارلیمان کے مطابق سپریم کورٹ کو مزید بااختیار کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وکلا اورلوگ کہتے ہیں سپریم کورٹ نے 184-3 کا بے دریغ استعمال کیا ہے، کہا جاتا ہے سپریم کورٹ نے چینی کی قیمت تک مقررکرنے میں مداخلت کی تھی، نظر ثانی میں اپیل کا حق ملنے سے آپ کو کیا تکلیف ہے؟

وکیل حسن عرفان نے جواب دیا کہ میرے قانون کی رسائی کا حق متاثرہوگا کل کو سماجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت نے کئی بار مارشل لاء کی توثیق کی ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے حق کو پارلیمنٹ کیوں نہیں بدل سکتی؟

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا پارلیمان کی اچھی نیت پراختیار سے کیا گیا تجاوز درست مانا جا سکتا ہے؟ جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بنیادی سوال یہ نہیں اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے یا نہیں،سوال یہ ہے کہ اپیل کا حق کس نے کیسےدینا ہے، آرٹیکل 184/3 میں اپیل نہیں دی گئی تو آئین کی منشا نہیں تھی، اب اگر یہ منشا ہے تو آئین کی ترمیم سے ہی کیا جا سکتا ہے، اس طرح تو آئین کو ایک طرف رکھ کر کہہ دیں قانون کی پاور سے چار اپیلوں کا حق دے دیتے ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی تھی، کیا آپ سپریم کورٹ کے اُس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟

وکیل حسن عرفان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ظفرعلی شاہ کیس کے فیصلے سے متفق نہیں۔

’’ججز نے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئین کیساتھ کھلواڑ کی اجازت دی‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا پارلیمان نے اچھا قانون نہیں بنایا کہ ہم اس فیصلے کو واپس لے سکیں؟ ججز نے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئین کیساتھ کھلواڑ کی اجازت دی، سپریم کورٹ بار کہتی تھی کسی ڈاکٹرائن کی وجہ سے مقدمات مقرر نہیں ہوتے، کیا ڈاکٹرائن آئین اور قانون کے مطابق تھی؟ آپ کہتے ہیں بس فرد واحد کا اختیار کم نہ ہو، فرد واحد نے ہی ہمیشہ ملک کی تباہی کی ہے، مارشل لاء لگتا ہے تو ملک فرد واحد ہی چلاتا ہے، ہم آپس میں تین لوگ فیصلہ کریں یا پانچ کریں آپکو کیا مسئلہ ہے؟

انھون نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان کو احترام دینا ہوگا، مفروضوں کی نہیں حقیقت کی زبان جانتا ہوں، مولوی تمیز الدین کیس سے شروع کریں یا نصرت بھٹو کیس سے، انہوں نے کہا آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کرنا چاہو کرو، پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہونے نہیں دے سکتے، پارلیمنٹ کی قدرکرنا چاہیے۔

وکیل حسن عرفان نے کہا کہ آپ 15 ججز بیٹھے ہیں جو فیصلہ کریں کر سکتے ہیں۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ جب پہلی باراس عدالت نے مارشل لاء کی توثیق کی تو اس کو عاصمہ جیلانی کیس میں کالعدم قرار دیا گیا،  کیا عاصمہ جیلانی کیس میں وہ اپیل تھی جس سے مارشل لاء کی توثیق کالعدم ہوئی؟ ہمارے ساتھی جج کئی فیصلوں میں کہ چکے رجسٹرار آفس درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتا، رجسٹرار کا اختیار تین ججز بھی استعمال کریں تو یہ غلط ہوگا، درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ عدالتی اختیار ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پہلے چیف جسٹس فیصلہ کرتے تھے کہ کونسی درخواست مقرر ہونی ہے کونسی نہیں.

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا آرٹیکل 191 میں استعمال لفظ قانون کا مطلب پارلیمان کا اختیار ہے؟ جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز خود بنا سکتی ہے جب آئین اور اس وقت کے رائج قانون میں پابندی نہ ہو۔

وکیل حسن عرفان نے دلائل دیے کہ آئین کی ٹکڑوں میں تشریح کی گئی تو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکیں گے، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ اصلاح کیلئے غلطی تسلیم کرنا ضروری ہے، ایک دن سپریم کورٹ کسی فیصلے کو درست دوسرے دن غلط بھی کہ سکتی ہے۔  آپ کہیں سپریم کورٹ نے غلط کیا تھا، یا پھر یہ کہیں گے کہ سپریم کورٹ جنگل کا بادشاہ ہے جو چاہے کرے، اس طرح تو ملک آئین پر نہیں بلکہ ججز کے فیصلوں کے ذریعے بنائے گئے قوانین پر چلے گا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سپریم کورٹ رولزآئین اور قانون کے تحت بنا سکتی ہے، آئین اور قانون دونوں ہی پارلیمان بناتی ہے۔

وکیل حسن عرفان نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز بناتے وقت کوئی قانون ہوتا تو اس کے تابع ہی رولز بنتے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ قانون کا مطلب صرف ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں ہے ہوتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق رولز بنانے میں پابندی کہاں سے آ گئی؟ سپریم کورٹ خود بھی آئین سے ہی بنا ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد رولز میں ترمیم بھی کرسکتی ہے۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ اگررولز اور قانون میں تضاد آجائے تو کیا ہو گا؟ اگر قانون سپریم کورٹ کے رولز کو ختم ہی نہیں کر سکتاتو تضاد کدھر جائے گا؟

حسن عرفان نے کہا کہ رولزکی پاوربھی آئین دیتا ہے جس پرجسٹس منیب اخترنے کہا کہ میں آپ کی توجہ 1956 کے آئین کی طرف دلانا چاہتا ہوں، 1956 کے آئین کا آرٹیکل 177اورموجودہ آئین کا 191 ایک بات کر رہے ہیں یا نہیں؟ کیا 1973 کے بعد پارلیمنٹ قانون بنا کر سپریم کورٹ کے 1956 کے رولز ختم کرسکتی تھی؟

حسن عرفان نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی کہ بنچز کی تشکیل چیف جسٹس کا اختیار ہے۔

جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ عدالت نے پارلیمانی کارروئی کا ریکارڈ مانگا تھا جو تاحال نہیں ملا، بنیادی سوال قانون سازی کا طریقہ کار ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ کیا قانون سازی کے ذریعے عدالت کے اختیارات میں توسیع کی گئی ہے؟ جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا آرٹیکل 184/3 میں اپیل اختیارات میں اضافہ ہے یا نیا اختیار دینا ہے؟ قانون سازوں نے اپیل کا حق آئین کے آرٹیکل 185 میں دیا ہے، آرٹیکل 185 میں سپریم کورٹ فیصلے کیخلاف اپیل کا ذکر نہیں ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ مسابقتی کمیشن کے قانون میں بھی اپیل کا حق دیا گیا ہے، مسابقتی کمیشن کے حوالے سے آئین میں تو اپیل کا حق نہیں ہے تو عدالت کیوں اپیل سنتی ہے؟

حسن عرفان نے دلائل مکمل کیے جس کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل عذیربھنڈاری نے دلائل کا آغازکیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت ہمیں ایک غیر معمولی اختیار دیاگیا، کیا ایکٹ کے ذریعے اس اختیار کو وسیع کیا گیا یا کم؟ جو نیا اختیار دیا گیا وہ اسی سپریم کورٹ کے اندر ہی دیا گیا، اس عمارت سے باہر کسی اور کو اختیارات منتقل نہیں کیے گئے، آپ بتائیں اس ایکٹ سے سپریم کورٹ کے اختیارات کم کیسے ہوئے؟ میں نہیں محسوس کررہا ہم سے کوئی اختیارات لے لیے گئے ہیں۔

عذیر بھنڈاری نے کہا کہ بطوروکیل سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہوں، جس پرعدالتِ عظمٰی نے کہا کہ آپ آئین اور قانون کے پابند ہیں عدالتی فیصلے بعد میں آتے ہیں، میں نے حلف آئین و قانون کیمطابق کام کا لیا ہےعدالتی فیصلوں کے مطابق نہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا اختیار پہلے سے موجود ہے اس میں صرف ایک اپیل کا حل دیا گیا ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اپیل کا حق ایک بنیادی حق ہے جس کو باقاعدہ قانون سازی سے دیا جانا چاہئے، عام قانون سازی سے یہ قانون سازی کا حق دیا نہیں جا سکتا، کیا اس سے پہلے پارلیمنٹ اکثریت سے ترمیم نہیں کرسکتی تھی؟ اس وقت پریہ قانون سازی کرنا کیوں ضروری تھی؟

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس سوال کو ماضی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے، بینظیر بھٹو اور درشن مسیح کیسز میں سپریم کورٹ نے 184/3 پر بہترین فیصلے دیے، سال 2010 کے بعد 184/3 کا بے جا استعمال ہی اس قانون کی وجہ بنا۔

سپریم کورٹ نے دوسرے وقفےکی بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا، پی ٹی آئی کے وکیل عزیربھنڈاری نے دلائل کا آغاز کیا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون حاوی ہوگا یا رولز جس پروکیل عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ میری نظر میں رولز کو اہمیت دی جائے گی، ماضی میں اگرعدالت غلط کرتی رہی ہے تو اب ہارلیمان بھی کر رہی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں رولز بائینڈنگ ہیں قانون نہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ رولز آئین کے تحت بنائے گئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 204 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، پارلیمان نے آرڈیننس کے تحت 204 میں اپیل کا حق دیا ہے،  کیا پہلے اس نکتے کی وضاحت کردیں کہ اپیل کا وہ حق کیسے درست ہے اوریہ غلط؟ سپریم کورٹ نے 184/3 میں وزیراعظم کو نااہل قرار دیا، آرٹیکل 204 میں کہاں لکھا ہے کہ اپیل کا حق حاصل ہوگا؟

وکیل عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ آرٹیکل 184/3 میں کہاں لکھا ہے کہ اس کا اطلاق قانون کے تحت ہوگا؟ جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ہم یہاں آپس میں بحث کے بجائے آپ کو سننا چاہیں گے، اپنی رائے تو ہم فیصلے میں لکھ ہی دیں گے۔ آپ کو بعد میں بلا کر تو نہیں کہہ سکیں گے ہمارے ذہن میں یہ سوال رہ گیا تھا۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آئین سے ہٹ کرکوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ مسابقتی کمیشن قانون سمیت بہت سے قوانین آئین کے اندرنہیں تو انکا کیا ہوگا، آئین میں جو چیزیں نہیں کیا قانون سازی سے انکو شامل نہیں کیا جاسکتا؟

وکیل عزیربھنڈاری نے کہا کہ سنگین غداری کے لئے پارلیمان نے الگ سے قانون اور خصوصی عدالت قائم کی، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سنگین غداری کیس میں سزا کیخلاف اپیل کا حق کہاں دیا گیا ہے؟ آرٹیکل 6 میں تو اپیل کا حق نہیں ہے تو کیا قانون میں دی گئی اپیل خلاف آئین ہوگی؟

وکیل نے دلائل دیے کہ اسپیشل ٹریبونل بنائے گئے ہوں تو ان کیخلاف اپیل دی جاسکتی ہے، جس پرچیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کیا یہ آئین میں لکھا ہوا ہے؟

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین میں کچھ موضوعات پر قانون سازی کا حق دیا گیا ہے، آرٹیکل 191 میں قانون سازی کا اختیار کہیں نہیں دیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آرٹیکل 191 میں قانون کے تابع رولز بنانے کے الفاظ غیرمؤثر ہوجائیں گے، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آپکے دلائل مان لیں تو مسابقتی کمیشن ایکٹ میں اپیل کا حق بھی غیرآئینی ہے۔

وکیل عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ جو قانون عدالت میں زیربحث نہیں اس پررائے نہیں دوں گا۔ جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق ملنے سے تحریک انصاف کو کیا مسئلہ ہے؟ پی ٹی آئی نے اپنا مؤقف ہارلیمان میں کیوں نہیں اٹھایا؟

وکیل نے جواب دیا کہ کسی سیاسی فیصلے کا دفاع نہیں کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ آپ سیاسی جماعت کے وکیل ہیں تو جواب بھی دینا ہوگا جس پرعزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ اسمبلی سے مستعفی ہونا سیاسی فیصلہ تھا، تحریک انصاف کے ہر اقدام کا ذمہ دار نہیں ہوں، اچھا کام بھی وہی ادارہ کر سکتا ہے جو بااختیار ہو۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا پارلیمان قانون سازی کیلئے اچھا ادارہ نہیں ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ پارلیمان آئین کے مطابق قانون سازی کرے تو ہی ٹھیک ہوگا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اگربطور چیف جسٹس غصے میں آپ کا لائسنس منسوخ کردوں تو کیا ہوگا؟ اپیل کا حق نہ تو نظرثانی کا دائرہ کافی محدود ہے، پارلیمان نے 184/3 کا غلط استعنال دیکھ کر ہی اپیل کا حق دیا ہے۔

وکیل عزیربھنڈاری نے کہا کہ پوری امید ہے آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرینگے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ 184/3 میں اپیل کا حق دے سکتی ہے؟ عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ ازخود اپیل کا حق نہیں دے سکتی۔

چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ آپ کے مطابق صرف آئینی ترمیم سے ہی اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن کا سوال یہی تھا کہ طریقہ کارکیا ہوگا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اپیل پربات آئی ہے تو میرا سوال اب تک قائم ہے کہ فل کورٹ کیخلاف اپیل کون سنےگا؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ موجودہ کیس کے فیصلے کیخلاف اپیل کا کیا ہوگا؟ اگر قانون کالعدم ہوگیا تو اپیل کا حق ہی ختم ہوجائے گا، اگر 17 ججز نے بھی بیٹھ کر غلطیاں کرنی ہیں تو اپیل کا حق ہونا ہی نہیں چاہیے۔

وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اگرسپریم کورٹ قانون برقراررکھتی ہے تو اپیل کا حق مل جائے گا، جو فیصلے 9 رکنی یا اس سے بڑے بنچ کرینگے ان کے خلاف اپیل کہاں جائے گی؟

چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہوسکتا ہے پی ٹی آئی کو اپیل کے حق سے فائدہ ہی ہوجائے، جس پروکیل نے کہا کہ مسئلہ فائدے یا نقصان کا نہیں ہے، آج میرا مؤکل جیل میں ہے کل دوبارہ اقتدار میں آ سکتا ہے، مجھے مؤکل کی ہدایات ہیں کہ قانون برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہدایات لینے کی بات نہ کریں یہ 184/3 کا مقدمہ ہے جس پروکیل عزیربھنڈاری نے کہا کہ سپریم کورٹ اور پارلیمان میں ہاتھاپائی بھی ہوتی رہی ہے، عدالت نے اپنے ادارے کا تحفظ کرنا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ عدالت نے پارلیمان کا بھی تحفظ کرنا ہے، تمام ججز مجھے فل کورٹ اجلاس بلانے کا کہیں اورمیں نا بلاؤں تو کوئی کچھ نہیں کرسکے گا، پارلیمنٹ نے کہا کہ چیف جسٹس کو اچھا لگے یا نہیں لیکن یہ ایکٹ بنانا ہے، چیف جسٹس خود سے کبھی یہ قانون نہ بناتے، کیا اسلام اس طرح ایک فرد کی بے پناہ طاقت کی اجازت دیتا ہے؟ چیف جسٹس کے اختیارات کو تقسیم کرنا مقصود تھا، چیف جسٹس کے بےسبب کنڈکٹ کو کون کچھ کہہ سکتا ہے؟

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جب سپریم کورٹ رولزبنے کیا اس وقت کوئی قانون تھا؟ قانون تو اب 2023 میں بنا ہے تو آرٹیکل 191 میں کس قانون کا ذکر ہے؟ میرے خیال میں آئین کوغیرآئینی طریقے سے ترمیم کیا گیا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ پارلیمان قانون بدل سکتی ہے لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ غیرمؤثر نہیں کرسکتی، این آراو کیس میں بھی سپریم کورٹ نے یہی قرار دیا تھا، سپریم کورٹ کا لارجر بنچ ماضی کے فیصلوں کو واپس لے سکتا ہے، فیصلہ ریورس لینے سے جو حقوق فریقین کو مل چکے ہوتے ہیں وہ واپس نہیں ہوتے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہوسکتا ہے پی ٹی آئی کل دوبارہ اکثریت میں آ جائے، لگتا ہے تحریک انصاف کو پارلیمان پراعتماد نہیں تھا، دنیا بھرمیں کبھی کسی اچھے قانون کو کسی عدالت نے کالعدم قراردیا ہے؟

وکیل عزیربھنڈاری نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے عدلیہ کی آزادی کیخلاف کی گئی آئینی ترمیم کالعدم قرار دیدی تھی، جس پرجسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر تو ایک اچھا قانون ہے۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کسی صورت اچھا قانون نہیں ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر میں کہاں لکھا ہے کہ مقدمات کیسے مقرر ہونگے؟ قانون صرف بنچز تشکیل دینے کے حوالے سے ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مقدمات مقررکرنے کے لیے میرے دائیں بائیں بیٹھے فرشتے نظر رکھیں گے جبکہ جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مطلب چیف جسٹس اور تمام ججز ہیں، چیف جسٹس رولز کے تحت ججز کو انتظامی امور سونپتے ہیں، تین رکنی کمیٹی بن گئی تو کیا ججز کے درمیانی برابری کا اصول ختم نہیں ہوجائے گا؟

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ممکن ہے کل پی ٹی آئی اقتدار میں آئے تو پارلیمان کے ویژن کو کیوں چیلنج کر رہی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو پریکٹس اینڈ پروسیجرسے اچھا قانون آئینی طریقے سے بنائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں چاہ رہا تھا کیس آج ختم کردیں لیکن وکلا کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ وہ یہ نہ کہیں کہ ہمیں سنا نہیں گیا، سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہیں۔

وکیل پی ٹی آئی نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہ چکی 184/3 میں قانون سازی سےاپیل کا حق نہیں دیا جا سکتا، قانون برقرار رہا ہے 1975 سے آج تک ہر فیصلے کیخلاف اپیل آ جائے گی، جو فیصلے حتمی ہوچکے انہیں کئی سال بعد دوبارہ کیسے کھولا جا سکتا ہے؟ پارلیمان سپریم کورٹ کے حوالے سے قانون بنا سکتی ہے لیکن آئین کی حد میں رہ کر، سپریم کورٹ کے انتظامی معاملے کو کوئی بیرونی ایجنسی ریگولیٹ نہیں کر سکتی۔

چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ پارلیمان کو بیرونی ایجنسی نہ کہیں۔

عزیربھنڈاری نے کہا کہ بیرونی ایجنسی کا مطلب ایسا ادارہ ہے جو سپریم کورٹ سے ہٹ کر ہو، مختلف قوانین کے تحت کی جانے والی تمام اپیلیں آئین کے تناظرمیں ہی ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 میں اپیل کا حق لا ریفارمز آرڈیننس کے تحت دیا گیا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ لا ریفارمز آرڈیننس آئین پاکستان سے پہلے کا ہے، الیکشن مقدمات میں اپیل آرٹیکل 225 کے تحت سپریم کورٹ آتی ہے، عدالت پریکٹس اینڈ پروسیجر برقرار رکھتی ہے تو اس دوران ہوئے فیصلوں کو تحفظ دیا جائے، سپریم کورٹ ماضی میں بھی کالعدم شدہ قانون کے تحت ہونے والے فیصلے برقرار رکھ چکی ہے۔

آج کی سماعت کا حکم نامہ

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوایا جس میں انھوں نے کہا کہ آئین کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ حاکمیت اللہ تعالی کی ہے، اللہ تعالی کا تقویض کردہ مقدس اختیار منتخب نمائندے استعمال کرینگے، کیا موجودہ کیس میں قرآن شریف سے مدد لی جا سکتی ہے؟ قرآن پاک بھی مشاورت سے فیصلے کرنے کا حکم دیتا ہے، میں اپنے طو پرساتھیوں سے مشاورت کرکے فیصلے کر رہا ہوں، آئینی نکات پر پانچ رکنی بنچ بننے میں کیا برائی ہے؟ نبی کریم بھی ہر کام مشاورت سے کرتے تھے، پارلیمان نے مشاورت کرنے کا کہہ کر ہم پر کونسا حملہ کردیا ہے۔

وکیل عزیربھنڈاری نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز بھی مشاورت سے ہی بنائے گئے تھے، چیف جسٹس مشاورت تمام ججز کیساتھ بھی کر سکتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر اپنی مرضی چلائوں تو کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے رولز میں مقدمات مقرر کرنے اور کاز لسٹ کو بھی شامل کرے۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت 9 اکتوبر پیرتک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ زمان خان وردگ نے تحریری دلائل جمع کرائے، آئندہ سماعت پر مزید دو درخواست گزاروں اور سپریم کورٹ بار کے دلائل سنے جائیں گے، آئندہ سماعت پر سیاسی جماعتوں کے وکلاء کو بھی سنا جائے گا۔

دورانِ سماعت پہلےوقفے سے قبل چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا اثرچیف جسٹس اور دو سینئر ججز پر ہوتا ہے، چیف جسٹس کے اختیارات کو ایک طرف محدود کیا جا رہا ہے دوسری طرف دو ججز میں بانٹا جا رہا ہے۔ قانون کا اطلاق مستقبل کے چیف جسٹس صاحبان اور ججز پر بھی ہوگا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پہلے سوچا تھا کہ خود اس کیس کو نہ سنوں لیکن پھر سوچا اس کا اطلاق سب پر ہوگا، کوشش ہے آج مقدمہ ختم کریں، سپریم کورٹ ایک ہی مقدمہ کو لیکر بیٹھی نہیں رہ سکتی، خواجہ طارق رحیم، امتیاز صدیقی اور اٹارنی جنرل کو سن چکے ہیں۔

خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ مجھ سے سوالات پوچھے گئے تھے ان کے جواب دینا ہیں جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ چاہیں گے پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیں۔

نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون مخصوص وقت اور افراد کیلئے بنایا گیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی سیکشن تین آئین اور سپریم کورٹ رولزکے متصادم ہے، سیکشن تین کے تحت 184/3 کا ہر معاملہ تین رکنی کمیٹی کے پاس جانا خلاف آئین ہے۔

اکرام چوہدری نے کہا کہ پارلیمان نے اختیارات کی آئینی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے، آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق آئینی ترمیم سے ہی ممکن ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو بلڈوز کیا گیا، پارلیمان نے ایسی قانون سازی کی جس کیلئے وہ بااختیار نہیں تھی، قانون سازی سے پہلے میڈیا میں کچھ اہم چیزیں شائع ہوئیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کیا آپ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر دلائل دینگے؟جس پروکیل اکرام چوہدری نے جواب دیا کہ پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ نے اسمبلی سے ریکارڈ لینے کیلئے اسپیکر کو درخواست دی؟ اکرام چوہدری نے جواب دیا کہ پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ عدالت منگوا سکتی ہے جس پرعدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ الگ آئینی ادارہ ہے اور سپریم کورٹ الگ۔ اخبار میں آنے والی خبریں ہوسکتا ہے درست نہ ہوں، اپنے کیس تک خود کو محدود رکھیں۔

وکیل نے کہا کہ مقدمہ میرا ذاتی نہیں پوری قوم کا ہے جس پرجسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ قوم کے نمائندے ہیں نہ ہی ہم، اس لئے اپنی بات کریں۔ ایسی بات بالکل نہ کریں، جس کے متعلق بات کر رہے ہیں انہیں آپ نے فریق ہی نہیں بنایا ہوا، عدالت کو سیاسی تقریر کیلئے استعمال نہ کریں۔

’’حسبہ بل قانون بنا ہی نہیں تھا پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون بن چکا ہے‘‘

سماعت کے دوران اکرام چوہدری کی جانب سے حسبہ بل کیس کا حوالہ دیا گیا جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حسبہ بل قانون بنا ہی نہیں تھا پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون بن چکا ہے۔ اکرام چوہدری نے جواب دیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے ذریعے آئین کی نفی کی گئی ہے۔ جب آپ عدالت کی آزادی بات کرتے ہیں تو کیا یہ آزادی ازخود نایاب چیز ہے یا یہ لوگوں کے لیے ہوتی ہے؟ عدالت کی آزادی صرف اس کے اپنے لیے ہے کہ اس کا ہر صورت دفاع کرنا ہے؟ عدالت کی آزادی لوگوں کے لیے نہیں ہے؟ اس بات پر روشنی ڈالیں۔

وکیل اکرام چوہدری نے دلائل دیے کہ آرٹیکل سات ریاست کی تعریف واضح کرتا ہے، عدلیہ اس میں شامل نہیں ہے جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کل پارلیمان کہے بیوائوں کے مقدمات کو ترجیح دیں تو کیا یہ عدلیہ میں مداخلت ہوگی؟ قانون سازی سے اگر لوگوں کو انصاف دینے کا راستہ ہموار اور دشوار کر رہی ہے تو یہ بتائیں، کیا ہماری آزادی خود ہی کافی ہے یا اس کا تعلق کسی اور سے بھی ہے؟

وکیل اکرام چوہدری نے اے کے بروہی کی کتاب کا حوالہ دیا جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ نے جو جملہ پڑھا میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، اس میں کہاں عدلیہ کو حکومت کا ڈیپارٹمنٹ لکھا گیا، ہم تو حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جس کتاب کا آپ حوالہ دے رہے ہیں یہ پہلے مارشل لاء کے بعد لکھی گئی، سپریم کورٹ نے اس مارشل لاء کی توثیق کی، کیا یہ کتاب مارشل لاء کے اثر میں لکھی گئی تھی؟

جسٹس منیب اختربولے کہ کتاب لکھی گئی مئی 1958 میں اور مارشل لاء لگا اکتوبر 1958 میں، کتاب میں جوڈیشری ڈیپارٹمنٹ کا لفظ امریکی قانون کا حوالہ ہے، لفظ کا مطلب عدلیہ کو محکمہ کہنا نہیں ہے، ہرملک کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہے۔ کیس میں سوال اچھے یا برے قانون کا نہیں، سوال پارلیمان کی اس قانون کو بنانے کی اہلیت کا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ 1973 کے آئین کے تحت بتائیے کہ کہاں قانون سازی کا اختیار ختم ہوتا ہے، پارلیمان کے اختیارات کا آئین سے ہی بتایا جانا ہے۔ غیرقانونی یا غیر آئینی تو آئین کی شقوں سے ہی بتایا جائے گا۔

دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین نےتمام اختیارات سپریم کورٹ کودیےہیں، چیف جسٹس کونہیں۔ کیاسپریم کورٹ اپنےاختیارات کسی کوتفویض کرسکتی ہے؟

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ رولزآرٹیکل191کےتحت انتظامی سطح پربنےہیں، مقدمات مقررکرنا اوربنچزکی تشکیل انتظامی معاملہ ہے، قانون میں چیف جسٹس کااختیارکمیٹی کودیدیاگیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ہم نے آپ سےکوئی سوال نہیں پوچھا اپنے طریقے سے دلائل دیں، آپ جو باتیں بول رہے ہیں وہ درخواست میں کہاں ہیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے عدالتی کارروائی کےدوران نئی دستاویزات پیش کرنے سے روک دیا اورکہا کہ آپ ریکارڈ سے بات کریں ایسے کورٹ میں ہم کوئی چیز نہیں لیں گے، دستاویزات فائل کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ ہمارے ساتھی نے بھی پوچھا بتا دیں نا کون سی آئینی شق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پہلے آپ یہ بتائیں آئین کیمطابق کیا پارلیمنٹ اس قانون سازی کا اختیاررکھتی تھی؟ اب قانون آئین سے مطابق ہے یا نہیں یہ دوسرا مرحلہ ہوگا، اگر پارلیمنٹ کا آئینی طورپراس قانون سازی کا اختیار نہیں تھاتو معاملہ ختم ہو جائے گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ پھرایسی چھوٹی باتوں میں جائیں تو جتنا زیادہ وقت آپ لیں گے باقی وکلا کا وقت میں کم کروں گا،  آج کے بعد یہ کیس آگے نہیں چلے گایہ یاد رکھیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا پارلیمان انصاف تک رسائی کے حوالے سے قانون سازی کرنے کی مجاز نہیں؟ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق بھی انصاف تک رسائی کیلئے دیا گیا ہے جس پراکرام چوہدری نے دلائل مکمل کرتے ہوئے جواب دیا کہ پارلیمان نے عدلیہ کے امورمیں مداخلت کرتے ہوئے اختیارات سے تجاوز کیا، باقی سولات کے جواب تحریری طور پر دوں گا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں