سائفر کیس کے جیل ٹرائل اورجج تعیناتی کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پراسلام آباد ہائی کورٹ نے دو سے تین روز میں کیس کا فیصلہ دینے کا عندیہ دے دیا۔
جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کے خلاف درخواست پر فیصلہ پہلے سے محفوظ ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پیر تک تو نہیں لیکن دو سے تین روز میں کوشش کریں گے فیصلہ دے دیں۔
سائفر کیس کے جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف درخواست پر سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ کا 2 سے 3 روز میں کیس کا فیصلہ دینے کا عندیہ
براہ راست دیکھیں:https://t.co/kGi5LWBrA5#BOLNews #CipherCase pic.twitter.com/6KdnZgHKzQ— BOL Network (@BOLNETWORK) October 6, 2023
چیئرمین پی ٹی آئی کی جلد فیصلہ سنانے کی متفرق درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل شیرافضل مروت پیش ہوئے۔
شیرافضل مروت نے مؤقف اپنایا کہ سائفر کیس کا جیل ٹرائل شروع ہو گیا ہے لیکن ہماری درخواست پر ابھی فیصلہ نہیں آیا، پیرکو پھر سائفر کیس جیل سماعت کے لئے مقرر ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں جلدی کردیتا ہوں پیرکو تو نہیں لیکن دو تین دن میں فیصلہ کر دوں گا، یہ بھی بتائیے گا پریس میں آیا ہے کہ اڈیالہ جیل منتقلی پر آپ کو اعتراض ہے؟ حالانکہ آپ کی اپنی پٹیشن اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی تھی وہ منظور ہوئی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکیل شیرافضل سے مکالمہ کیا کہ پھریہ پریس میں آپ کی طرف سے اتنی بحث کیوں چل رہی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ ہماری طرف سے آفیشلی تو ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہ کہ میں حیران تھا آپ کی اپنی پٹیشن منظور ہوئی پھر یہ کیوں کہہ رہے ہیں، جس پروکیل نے جواب دیا کہ ہمیں لگتا تھا کہ اڈیالہ جیل میں بی کلاس دیں گے لیکن نہیں دی گئی۔
عدالت نے کہا کہ بیٹرکلاس ہوگی کھوسہ صاحب کی کل پٹیشں تھی اس پر نوٹس کر دیے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















